فوڈ پینڈا کی سروسز سے تنگ آ کر ایک صارف نے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے بے قصور رائڈر کو پھنسا لیا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون نے صبح چار بجے چھ ہزار روپے کا کھانا آن لائن پیمنٹ کر کے آرڈر کیا۔ رائڈر صاحب نے کمال ہوشیاری دکھائی؛ نہ گھر پر آ کر بیل بجائی، نہ فون کیا، اور ایپ پر آرڈر کو "ڈیلیورڈ" شو کر کے رفو چکر ہو گئے۔ خاتون نے جب کسٹمر سپورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے تو وہاں سے ہمیشہ کی
طرح ٹس سے مس نہ ہونے والا روایتی جواب ملا اور کوئی مدد نہیں کی گئی۔
بس پھر کیا تھا، جب سسٹم آپ کا پرسانِ حال نہ ہو تو بندہ خود ہی انصاف کرنے پر اتر آتا ہے۔ اگلی صبح خاتون نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے دوبارہ فوڈ پینڈا سے کیش آن ڈیلیوری پر آرڈر کیا۔ جونہی نیا بیچارہ رائڈر کھانا لے کر پہنچا، خاتون نے کھانا تو پکڑ لیا لیکن پیسے دینے سے صاف انگوٹھا دکھا دیا۔ ان کا صاف کہنا تھا کہ جب تک کمپنی پچھلے چھ ہزار روپے کا حساب نہیں چکاتی اور اس چور رائڈر کو سامنے نہیں لاتی، وہ ایک دھیلا بھی ادا نہیں کریں گی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیا رائڈر اور سیکورٹی گارڈ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور بے بسی سے صفائیاں دے رہے ہیں کہ بھائی! اس نئے بندے کا پچھلے واقعے سے دور دور تک کوئی واسطے نہیں ہے، لیکن خاتون کا غصہ اپنی جگہ پر آسمان کو چھو رہا ہے۔
اب یہاں اصل سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کمپنی سے اپنے پیسے نکلوانے اور اس کے گھٹیا نظام کو سبق سکھانے کا یہی طریقہ ہے؟ ایک طرف کمپنی کی نااہلی ہے جو صارفین کو اس نہج پر لے آتی ہے، تو دوسری طرف ایک غریب اور محنت کش رائڈر ہے جس کا اس سارے فساد میں دور دور تک کوئی قصور نہیں تھا، مگر وہ بے چارہ بیچ میں پس گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمپنی سے ناانصافی کا بدلہ لینے کے لیے کسی بے قصور اور محنت کش رائڈر کی رقم روکنا اور اسے پریشان کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
آپ کے نزدیک کیا اس خاتون کا یہ قدم درست تھا، یا پھر غصے میں آ کر ایک بے قصور کی روٹی اور محنت کو نشانہ بنانا سراسر ناانصافی ہے؟
#CustomerService #DeliveryRider
پاکستان کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں اور دریاؤں میں پانی کی جگہ پیٹرول بہنے لگے۔ تب بھی یہ ملک مقروض ہی رہے گا۔ کیونکہ اوپر چور ڈا کو جو مسلط ہیں۔ خالد انعم
#pakistan@khaledanam1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
🔴 سعودی شہزادے اور سابق انٹیلیجنس چیف ترکی الفیصل نے جرمن جریدے ڈر اسپیگل (Der Spiegel) کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں سعودی عرب میں سزائے موت کے قانون پر مغربی تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا ہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے زیادہ تر کیسز منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم سے متعلق ہوتے ہیں، اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ایسے جرائم ہیں جن کی سزا قانون کے تحت موت ہو سکتی ہے۔
جرمنی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاید جرمنی میں سزائے موت کا قانون نہیں ہے، لیکن آپ اسرائیل کو غزہ میں 20,000 سے زائد معصوم بچوں کو قتل کرنے کی کھلی اجازت دے رہے ہیں۔
🔴 آبِ زمزم، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی وادی میں چھوڑے جانے کے بعد سے، گزشتہ 4000 سالوں سے مسلسل بہہ رہا ہے۔