ایک دور تھا جب الیکشن میں ڈبے بھرنے والوں کو ڈر ہوتا تھا کہ کوئی ہمیں دیکھ نہ لے، لیکن اب تو ایسا مرحلہ آ گیا ہے کہ انہیں کوئی شرم، ڈر اور خوف ہی نہیں رہا کہ ہم بے نقاب ہو جائیں گے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہمارے ڈاکوں، غیر آئینی کاموں، ظلم زیادتی اور الیکشن چوری پر اس لیے سوال نہ کرو، کیونکہ بھارتی میڈیا اس بات کو اچھالے گا۔ یہ تو انتہائی احمقانہ منطق ہے۔ انہوں نے 1971 میں بھی یہی کہا تھا۔ محمد زبیر
#pakistan @Real_MZubair
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہ وہی ملک احمد خان ھے جو قصور میں معصوم بچوں کا جنسی استحصال اور ان کی وڈیوز بنانے کا دھندہ چلا رہا ھے۔
جنرل باجوہ نے اس درندے پر کبھی کوئی کیس بننے ہی نہیں دیا ۔ آج یہ عاصم منیر کا منظور نظر ھے
کل کیمرہ مین بھی بہت ظالم تھا!!😭
شہباز شریف کو صدمہ اس بات کا ہے, کہ میں آگے کیوں بڑھا, اگر زہنی مریض ہے ساتھ کھڑا ہوتا, تو کم از عباس عراقچی ہاتھ تو ملاتا!!🤣🤣
ہم نے فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کو بھی امریکی آقاؤں سے ایسے ہی جھپیاں پپیاں کرتے دیکھا ہے، اور پھر ان کا بھیانک انجام بھی دیکھا ہے!
عاصم منیر کا حال بھی وہی ہوگا۔ تاریخ بڑی بےرحم چیز ہے دوستوں!
ایک لیڈر جب لیڈ کرتاہے تو خودمختاری اور عزت نفس کی پہچان بنتا ہے ۔
جب ایک غلام ذہنیت چوکیدار لیڈ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو سب سے پہلے خود مختاری اور عزت نفس سرینڈر کرتا ہے۔
نیچرل لیڈرشپ تب اوپر آتی ہے جب عوام کو اُس میں وہ کوالٹیز نظر آتی ہیں جو ایک لیڈر میں ہوتی ہیں ! کسی کو بھی اُٹھا کر وزیر اعظم ہاوس بٹھا دینے سے ایسے ہی لیلے بر آمد ہوتے ہیں ! یہ ملک کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں ! انکا خوف ڈر اور باڈی لینگویج پوری قوم کو بھکاری بنا دیتا ہے !
فوج کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئے عمران خان وزیر اعظم بننے کا محتاج نہیں ہے یہ کرسی اب عمران خان کیلئے بہت چھوٹی ہوچکی ہے اب یہ سوچ نسلوں میں منتقل ہوچکی ہے فوج کو بیرکوں میں جانا ہی جانا ہے اور اقتدار عوام کے حوالے کرنا ہی کرنا ہے دوسرا کوئی رستہ ہے ہی نہیں!
ایک بےبس باپ کی درد بھری دہائ ۔۔ 💔
جس کے بیٹا بائیکیا تھا ۔ اس کو 2022 میں قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن عدالت نے مجرمان کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کر دیا ۔
لعنت ہے اس نظامِ انصاف پر ۔۔ ہزار لعنت !!
ٹوپی میں کھڑا سویلین جیسے ہاتھ باندھے کھڑا ہے ویسے ہی یہ اپنے مالک کے سامنے لھڑے ہیں۔
پاکستانیوں آپ ان نوکروں کے مالک ہو انکی یہ اوقات آپ کے سامنے ہونی چاہیے۔
کب سمجھو گے۔