"قمر کو کمر سے راہ ہوتی ہے"
اسی درد کی وجہ سے اس نے مجھے کرسی دی "ٹائروں" والی جو ریموٹ سے چلتی تھی لیکن پتہ نہیں ریموٹ کیوں نہیں دیا
ایک سال تک کرسی چلتی رہی پھر ریمورٹ کی بیٹری ختم ہو گئی
اس نے ریموٹ چارج کرنا چاہا لیکن اس کے پاس پلگ نہیں تھا
پھر میں نے اسے " ایکسٹینشن " دی
محترم عامر متین صاحب، عرض ہے کہ
گندم کی مجوزہ درآمد پر تنقید لیکن اصل حقائق کیا ہیں؟
گندم کی درآمد پر اس انداز میں تنقید کی جا رہی ہے جیسے یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 1990 سے آج تک کے 36 برسوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے 22 برس ایسے ہیں جن میں پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑی۔ یعنی ہر تین میں سے تقریباً دو سال درآمد ناگزیر رہی۔
گزشتہ 36 برسوں میں مجموعی طور پر 45.5 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی۔ اوسط نکالی جائے تو یہ سالانہ تقریباً 1.3 ملین میٹرک ٹن بنتی ہے، اور ہر تین سال کے دورانیے میں اوسطاً 4 ملین میٹرک ٹن کی درآمدی ضرورت سامنے آتی ہے۔ یہ کوئی وقتی یا حادثاتی رجحان نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت ہے۔
آخری بڑا درآمدی مرحلہ 2021 سے 2023 کے دوران پیش آیا، جس میں تقریباً 12 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی اور اس پر لگ بھگ 3 ارب امریکی ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کے بعد درآمد نہیں کی گئی۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ درآمد ان برسوں میں ہوئی جب سرکاری خریداری بھی معمول کے مطابق جاری تھی۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں سرکاری خریداری نہ ہونے کے باعث کسان کو نقصان ہوا اور اسی وجہ سے آج درآمد کی نوبت آئی ہے۔ ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔ ماضی میں سب سے زیادہ درآمد انہی برسوں میں ہوئی جب سرکاری سطح پر خریداری 4 سے 5 ملین میٹرک ٹن تک کی جا رہی تھی۔ اگر درآمد کا سبب خریداری کی عدم موجودگی ہوتی تو ان برسوں میں درآمد کی ضرورت پیش نہ آتی۔ لہٰذا درآمد کو حالیہ پالیسی تبدیلی کے ساتھ نتھی کرنا حقائق کے منافی ہے۔
ایک اور غلط تاثر یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ پالیسی تبدیلی کے باعث کسان نے گندم کی کاشت کم کر دی۔ اعداد و شمار اس کی نفی کرتے ہیں۔ اس سال گندم کا رقبہ زیر کاشت گزشتہ برس اور اس سے پہلے کے برسوں کے تقریباً برابر رہا۔ گندم کی بوائی میں کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی۔
بنیادی مسئلہ پالیسی نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت ہے۔ پاکستان میں آبادی جس رفتار سے بڑھی ہے، گندم کی فی ایکڑ پیداوار اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ رقبہ زیر کاشت کم و بیش ایک ہی حد میں محدود رہا ہے، جبکہ کھپت مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جو ہر چند برس بعد درآمد کی صورت میں پُر کرنا پڑتا ہے.
گندم کی درآمد پاکستان کے لیے نہ نئی ہے اور نہ ہی کسی ایک حکومت یا کسی ایک پالیسی فیصلے کا *نتیجہ* ۔ 1990 سے اب تک اوسطاً 1.3 ملین میٹرک ٹن سالا��ہ گندم درآمد کی جاتی رہی ہے، اور یہ سلسلہ مختلف حکومتوں، مختلف خریداری پالیسیوں اور مختلف قیمتوں کے ادوار میں یکساں طور پر جاری رہا۔ حقیقی اور دیرپا حل صرف ایک ہے: فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، بہتر بیج اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ، اور فصل کے بعد ہونے والے ضیاع میں کمی۔ اس کے بغیر درآمد پر تنقید مح�� وقتی سیاسی بحث رہے گی اور اصل مسئلے کا حل سامنے نہیں آئے گا۔
@balochi5252 کچھ شرم اور حیا کیا کریں
ہر وقت اپنے بڑوں کی تربیت دکھانا ضروری ہوتا ہے
اور ایسی گھٹیا تربیت پر ماتم کرتے ہیں میرا بھائی اس کو نمایاں نہیں کرتے ہیں کیونکہ آپکے حصہ کی لعنت و پھٹکار بھی آپ کے والدین کے حصہ میں چلی جاتی ہیں
@NazimHOfficial بھائی کسی شہر میں کسی ایک تاجر یا فرد نے بیوٹیفکیشن کے لئے ایک پیسہ نہیں دیا ہے۔ حکومت پنجاب نے بس ایک چھوٹی سی کمی چھوڑ دی کہ آپ کے شہر کو تو سنوار ہی رہے تھے ساتھ اگر کہیں سے تھوڑا شعور مل جاتا تو وہ بھی آپ کو دے دیا جاتا کہ خود بھی سنور جاؤ
وزیراعلی مریم نواز شریف صاحبہ کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری ہوئی ہے جس کے بعد وہ گھر منتقل ہو گئی ہیں، الحمدللہ۔ عید کے دن وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ہسپتال سے صوبے میں سکیورٹی، صفائی سمیت دیگر تمام امور کی براہ راست خود نگرانی کی۔
@Marriyum_A حرم کعبہ سے حج کے مبارک دنوں میں اللہ کے حضور وزیراعلی پنجاب کی صحتیابی کے لئے ڈھیروں دعائیں
اللہ تعالیٰ انہیں اپنے منصب میں کامیابی عطا فرمائے اور پنجاب و پاکستانی عوام کے لئے مزید خدمت کا جذبہ پیدا کرے۔ آمین
Gujranwala is on the move.
We are working day and night to deliver a modern, reliable metro system for the people, with steady, visible progress across all fronts.
• Stations, underpasses & structures rapidly taking shape
• Utility shifting (SNGPL, WASA, GEPCO, telecom) in full swing.
• Excavation, concrete works & structural development ongoing
• Depot filling crosses 57%, land prepared for next phase
• Roadworks progressing across 3 packages: asphalt removal to base layers
This is not just construction, this is transformation.
Insha’Allah, Gujranwala Metro will be completed within 12 months, delivering ease, dignity, and better mobility for our people.
ڈی پی او فراز احمد اور ڈپٹی کمشنر تسلیم اختر راؤ کا رات گئے سٹی ننکانہ میں ممبران امن کمیٹی اور تاجر رہنماء کے ہمراہ امام بارگاہ قصر فاطمتہ الزہراؑ کا وزٹ۔ منتظمین سے ملاقات کی، سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر اور موثر بنانے کے احکامات جاری کیے۔
#PunjabPolice#dponankana
CCD سے جرائم کا خاتمہ
ٹریفک قوانین سے نظام بہتر
DRC سے قبضہ مافیا کا خاتمہ
ستھرا پنجاب سے گندگی کا خاتمہ
PERA سے ناجائز تجاوزات و ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ
اب کاروب��ری افراد کو بھی تحفظ دیا جائے۔ جو لوگ ادھار لیکر مکر جاتے، سود کا کاروبار کرتے ہیں انکے متعلق بھی قانون سازی کیجائے
Gurdwara Janam Asthan shines in celebration, adorned with lights and decorations to honour the 556th birth anniversary of Baba Guru Nanak Ji and to warmly welcome our Sikh Yatris. Welcome ❤️
خود اپنے گھروں میں دہشت گروں کو پناہ دی ہوئی ہے اور وہ دہشت گرد جب چاہے اٹھ کر کسی کا گھر جلا دیں تب ان اسلامی ممالک کو احساس نہیں ہوتا ہے
آج جب اس دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے تو رونا شروع کر ��یا ان سہولت کاروں نے
ایران نے کسی مسلمان ملک پر حملہ نہیں کیا ہے۔ اگر کوئی اپنے گھر کسی دہشت گرد کو محفوظ جگہ دے گا اور وہ کسی کے گھر کو جلائے گا تو کیا جلنے والا اس بدمعاش کو چھوڑ دے گا 🙏