Surround yourself with those who are good for your mental health, who become a source of peace of mind, who make you smile, who uplift you when you are feeling low, who never judge you, who make you fall in love with yourself once again.
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہوَر پیدا
علامہ محمد اقبالؒ
فیفا ورلڈ کپ میں ایک اور بڑے سپر سٹار رونالڈو کا کیریئر ختم ہو گیا، سپین سے شکست پر آبدیدہ نظر آئے،وہ آنسو کے ساتھ روتے ہوئے فینز کا ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔
رونالڈو صرف ایک عظیم فٹبالر نہیں، بلکہ محنت، عزم اور مسلسل جدوجہد کی ایسی مثال ہیں جس نے ایک پوری نسل کو خواب دیکھنا سکھایا۔ شکست ہر بڑے کھلاڑی کے سفر کا حصہ ہوتی ہے، مگر عظمت کا معیار صرف ٹرافیاں نہیں بلکہ وہ احترام ہے جو دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ آج آنکھیں نم ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ انہیں فخر، استقامت اور لازوال عظمت کے ساتھ یاد رکھے گی۔ ❤️⚽
دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں:
پتوں والے لوگ: (LEAF PEOPLE)
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی میں صرف ایک موسم کے لیے آتے ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں لے کر، جیسے ہی زندگی میں سردی یا کوئی طوفان آتا ہے، چلے جاتے ہیں۔
جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے!!
شاخوں والے لوگ:( BRANCH PEOPLE)
حالانکہ یہ پتوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، لیکن ان پر بھروسہ کرنے سے پہلے آپ کو انہیں آزمانا پڑتا ہے۔ یہ چند موسموں تک آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن جب زندگی مشکل ہو جاتی ہے تو یہ ٹوٹ کر الگ ہو جاتے ہیں۔
جڑوں والے لوگ:( ROOT PEOPLE)
یہ لوگ بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ دکھاوے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ان کی واحد خواہش آپ کی مدد کرنا اور آپ کو ایک مضبوط اور صحتمند زندگی گزارنے میں سہارا دینا ہوتی ہے۔ اور اگر آپ مشکل وقت سے گزرتے ہیں تو وہ آپ کو تھام لیتے ہیں تاکہ آپ پھر سے اپنی اصل حالت میں واپس آ سکیں۔
زرا غور کیجیے کہ آپ کی زندگی کے اندر لیف پیپل، برانچ پیپل اور روٹ پیپل کون سے لوگ ہیں. جب ان کی پہچان ہو جائے تو آپ کو ان کے ساتھ برتاؤ میں آسانی ہو جائے گی.
اور یہ بھی سوچئے کہ آپ خود ان میں سے کس قسم کی کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں؟
محبت برسات کی طرح ہوتی ہے کبھی فوراً برس پڑتی ہے اور کبھی بن برسات عمر گزر جاتی ہے..... کبھی کبھی ایک ممنوعہ سرحد کی طرح...... جسے ایک بار پار کرلیا تو تا حیات واپسی ممکن نہیں
جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے
صبح تک ختم ہو ہی جائے گا
زندگی رات بھر کا قصہ ہے
دل کی باتیں زباں پہ کیوں لاؤ
گھر میں رہنے دو گھر کا قصہ ہے
کوئی تلوار کیا بتائے گی
دوش کا اور سر کا قصہ ہے
ہوش آ جائے تو سناؤں گا
چشم دیوانہ گر کا قصہ ہے
چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی
صرف سمت سفر کا قصہ ہے
جیتے جی ختم ہو نہیں سکتا
زندگی عمر بھر کا قصہ ہے
شام کو ہم سنائیں گے تم کو
شب غم کی سحر کا قصہ ہے
تیرے نقش قدم کی بات نہیں
صرف شمس و قمر کا قصہ ہے
دامن خشک لاؤ پھر سننا
یہ مری چشم تر کا قصہ ہے
چند تنکے نہ تھے نشیمن کے
باغ و شاخ و شجر کا قصہ ہے
حلق میں چبھ رہے ہیں کانٹے سے
لب پہ گل ہائے تر کا قصہ ہے
میری بربادیوں کا حال نہ پوچھ
ایک نیچی نظر کا قصہ ہے
اسی بیداد گر سے کہہ دے صباؔ
اسی بیداد گر کا قصہ ہے
صبا اکبر آبادی
زندگی کا یہ پہلو تلخ ضرور ہے مگر ہر رشتہ مصلحت پر نہیں ہوتا۔
کچھ تعلق خلوص، محبت اور وفا کی بنیاد پر بھی قائم رہتے ہیں۔
اصل حکمت یہ ہے کہ انسان لوگوں سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرے۔
ہم ہر اداسی کو محبت سے منسوب کر دیتے ہیں حالانکہ زندگی کے دکھ صرف جذبات تک محدود نہیں ہوتے کبھی کبھی انسان ایک شدید سر درد سے لڑتے ہوئے بھی دنیا سے بے زار ہو جاتا ہے!