غریب کے بچے مارو اور خود ہی دفن کر کے کوئی قبر دکھا دو کہ یہ تمہارے بچے کی قبر ہے
کسی کے نیفے میں پستول چلا دو اور کسی کو پولیس مقابلے میں۔۔
پھر کہ دو درندہ اپنے انجام کو پہنچا
کبھی آسٹریلین نژاد معصوم بچی کو
کبھی اسپین کی لڑکیوں کو اغوا کرو ۔
اللہ کی قسم یہ تباہی کا راستہ ہے۔
اگر واقعی عمران خان کو تمام سہولیات میسر ہیں، تو پھر وہ کیسی سہولیات ہیں جن کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہو گئی؟
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے جہاں ایک سزا یافتہ قیدی، نواز شریف کی طرح، جیل سے براہِ راست بیرونِ ملک روانہ کیا گیا ہو۔
دوسری جانب عمران خان نے کوئی غیرمعمولی سہولت نہیں مانگی، بلکہ صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی معالج سے طبی معائنہ اور علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔
@pmln_org چوتیے تم کو شرم نہیں آتی یہ پوسٹ کرتے ہوئے، اس میں گورنمنٹ نے کیا عوامی فیصلہ کیا ہے، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی ہوئی اور تم نے پھر بھی وہ کمی نہیں کی جو اضافہ کیا تھا 225 پہ لاو گے تو پھر بھی کوئی عوامی فیصلہ ہوگا عوامی فیصلہ تب ہوگا جب لیوی کو 10 15 پہ لے کر جاو گے
بے شرم
کسی بھی معاشرے کی تباہی کا اندازہ لگانا ہو تو وہاں کے تعلیمی بجٹ اور اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد دیکھ لیں۔ جہاں خطے کے دیگر ممالک اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہاں ہمارے ہاں تعلیم کو سب سے آخری ترجیح بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ خطے کے تمام ممالک سے کم محض 32 ڈالر فی کس بجٹ رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمران طبقہ عام عوام کے بچوں کو پڑھانا ہی نہیں چاہتا۔
اصل المیہ یہ ہے کہ پالیسیاں بنانے والے اشرافیہ اور مافیا کے اپنے بچے تو بیرونِ ملک مہنگی ترین یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، لیکن ملک کے 2.6 کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے کی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ تعلیمی بجٹ میں مسلسل کمی کرکے دانستہ طور پر ایک ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جو اپنے حقوق کی پہچان نہ کر سکے۔
ہمارا ایک ہی مطالبہ ہیں عمران خان کا علاج شفاء انٹرنشیل ہسپتال میں کیا جائے اپنے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کی موجودگی میں-پارلیمانی لیڈر
@ShahidkhattakSk#EndKhanIsolationNow
پی ٹی آئی قیادت نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی ہے کہ منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر مقررہ وقت پر تقریباً دس ہزار افراد جمع کیے جائیں۔ ہم اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی درخواست قبول کرتے ہیں۔
منگل 16 جون کو ہم دوپہر 3:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں گے۔
عمران خان کی طویل تنہائی قید اور ان کی بینائی کے مناسب معائنہ و علاج کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں اہلِ خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں یقینی بنانے کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر بڑی تعداد میں عوام ان مطالبات پر ضروری دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ ایک انسانی اور قانونی مطالبہ ہے۔ سابق وزیر اعظم اور سیاسی قیدی کے بنیادی حقوق کا احترام ہر صورت ضروری ہے۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
16 جون بروز منگل 3 بجے دوپہر۔۔۔
سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ٹکٹ ہولڈرز۔پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گےانشااللہ۔۔ @sh_basra
In the House of Commons, Michael Kram (@MichaelKramSK) presented a petition signed by over 1,800 Canadians demanding the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
The imprisonment of political opponents undermines democratic principles globally. International voices must persistently advocate for the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#WhereIsImranKhan
#FreeImranKhan
جون ہی وہ واحد موقع ہے جس میں پاکستان تحریکِ انصاف اتنا مؤثر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ عمران خان کی تنہائی ختم ہو، اور انہیں ان کے اہلِ خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں مناسب علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا سکے۔
علیمہ خان
#WhereIsImranKhan
یہ ملک ہمارا ہے، یہ دھرتی ہماری ہے اور اس پر ہم کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ یہ ملک اور یہ فوج ہماری ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ 2025 میں عمر ایوب یہاں تھے، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، رائے حیدر اور ہمارے دیگر ممبران اسمبلی جو یہاں تھے آج نہیں ہیں۔ ہم کس سے شکوہ کریں، ریاست سے، حکومت سے یا ایوان سے؟
سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی استحکام آئے گا، معاشی اور سیاسی استحکام ہوگا تو دفاعی استحکام آئے گا۔
اکتوبر کے بعد تناؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو ڈاکٹروں کی رسائی نہیں ہے، بچوں سے بات کی اجازت نہیں ہے، بیوی، بچوں اور بہنوں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ ریاست اور پاکستان کو سب سے پہلے سمجھا ہے لیکن جس لیڈر نے ہمیں یہاں بھیجا اور یہ سکھایا، اس تک رسائی کیوں نہیں ہے؟ جواب دے دیں نا آج؟
بیرسٹر گوہر علی خان
@BarristerGohar
راولاکوٹ میں رینجرز کی فائرنگ سے شہید ہونے والا نوجوان شعبان کشمیری۔
نہتے پرامن شہریوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑتی ڈائن نما ریاست نے اس ملک کا ایک اور دلیر ہیرا نگل لیا۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان اور بشری بی بی کے قانونی حقوق سلب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود القادر ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ اپیل کے لیے درکار وکالت ناموں پر دستخط نہیں کروائے جا رہے۔ وکیل خالد یوسف چوہدری کے بھیجے گئے اپیل پیپرز 25 مئی سے جیل حکام کے پاس موجود ہیں مگر عمران خان اور بشری بی بی کے دستخط کروانے میں مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 21 مئی اور یکم جون کو بھی دستخط نہیں کروائے گئے۔ خالد یوسف چوہدری نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط بھی لکھا ہے۔
اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو عمران خان اور بشری بی بی کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بنیادی قانونی حق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ اپیل کی میعاد ضائع کرنا اور قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی ان عدالتوں کے سامنے کیس لگانے سے خوف ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں انصاف کا تقاضا ہے کہ درخواست ضمانت اور اپیل کو مکمل میرٹ پر سنا جائے، نہ کہ انتظامی رکاوٹوں اور تاخیری حربوں سے قانونی عمل متاثر کیا جائے۔
@KhalidYChaudry
🧵Part 8/n
“قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
کوٹلی میں رینجرز کی گولیوں سے شہید ہونے والے شہداء۔
یہ گولیاں انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئیں اور پھر انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ پانے والوں نے اپنے حلف سے زیادہ آقاؤں کے حکم کی پاسداری کی۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#ذہنی_مریض