پنجاب حکومت کندم کے حوالے سے عدالت کے اڈر کو ماننے سے انکار کر رہی ہے تو تاجر برادری کو ہتھیا اٹھا نے پر مجبور نہ کریں انہیں مجبور نہ کریں کہ وہ حکومت کی رٹ کو چلیج کرنے پر نہ آجائیں
حکومت اور فوج عوام کو اتنا تنگ نہ کے کہ تاجر سول نہ فرمانی جیسا قدم اٹھا لے جس سے وزیر علئ کے دفتر کے خرچے اور فوجیوں کی تنخواہ بھی روک جائے گی اگر تاجر برادری نے سخت قدم اٹھا لیا
حکومت گندم بھی لے رہی ہے زور زبر دستی سے اور پیمنٹ بھی 6سے 7 دن لگا رہے ہیں اور لوڈینگ اور ان لوڈینگ بھی پارٹی کے زمہ ڈال رہے ہیں اور گندم کارٹ اور وزن میں سے بھی چوری کر رہے ہیں محکمہ فوڈ سکورٹی Para فورس جیسے غنڈے جو حکومت نے تاجروں کے ٹیکس کے پیسوں سے پالے ہوئے ہیں
وہ اس نے اپنے منافع کے لیے رکھی نہ کہ حکومت کے اداروں کے لے کہ آؤ ہمیں نقصان دو حکومت کو اپنے انوسٹر کے لیے گندم لینی تھی تو کسان کی منت کر کے گندم لیتے نہ کہ عوم سے گندم کھینچ
اور سول نہ فرمانی کی تحریک شروع کرنی چاہیے حکومت کے خلاف حکومت کو جو بھی ٹیکس دیا جا رہا ہے وہ تاجر برادری روک دے اور حکومت جو بھی ناجائز گندم اٹھارہی ہے وہ لوکل مارکٹ میں ریٹ چل رہا ہے اس سے اوپر منافع دے کر اٹھانے کی بات کرے کیونکہ اس وقت جو بھی تاجر گندم رکھے ہوئے
سیڈ کمپنیاں ہمارے ملک کی کمر ہیں اگر یہ ختم ہو گئی تو ملک میں قہط سالی آجائے گی اور اس کے آنے میں بھی حکومت کا سب سے بڑا ہاتھ ہو گا جنوبی پنجاب میں تمام کاروباری لوگوں کو اکھٹا ہونا چاہیے اور روڑ پر آکر اپنا احتجاج رکارڈ کرنا چاہیے
حکومت پنجاب اپنی گندم کاشت کرانہیں سکتی ہے اور عام عوم پر پولیس اور پیرا فورس کے غنڈوں سے لوگوں کے کام والی جگہ پر گھس کر گندم اٹھا رہی ہے جس میں فوجی بھی شامل ہیں اور پیمنٹ 4 سے 5 دن کا بول کر اٹھا رہے ہیں اور انتہائی بدمعاشیاں کر رہی ہے
ہماری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ عوام پر رحم کریں جب بھی ریٹ کم ہوتا ہے تو کرتے نہیں ہیں کم اور جب بھی بڑھتا ہے ریٹ بڑھا دیتے ہیں پٹرول اور ڈیزل کا انصاف کریں ظلم نہ کریں
پنجاب حکومت ضد کیے ہوئے بغیر وجہ کہ بیج کی سیل دوسرے صوبوں کرنے سے روکا ہوا ہے مہربانی فرماکر صوبوں کی بندیش کھول دیں اور پنجاب میں بیج اس کی کاشت سے زیادہ ہے