عمرزئی کی مبینہ کال لیک ہوگئی، اسلام آباد میں بیٹھاptiکے ایک بااثر شخصیت فیصل نامی شخص ایم پی اے ارشد عمرزئی کے پرسنل سیکرٹری فرمان علی کی واٹس نمبر پر ارشد عمرزئی اور انکے بڑے بھائی خورشید عمرزئی سے خیبر پختونخواہ وزارت عظمی کی سیٹ کیلئے مبینہ طور پر بارگیننگ کر رہے ہیں۔
پوری زندگی ہی بے ساختہ تھی...!
سینے میں درد کے باعث اسپتال میں داخل تھے، مگر فلم رکنے سے ہدایت کار اور پیش کار کا نقصان ہوتا۔ معالج کو ساتھ لیا اور آخری منظر پورا کرنے پہنچ گئے۔
حیرت یہ کہ منظر ابھی لکھا بھی نہیں گیا تھا۔
نانا کے کہنے پر کئی کیمرے لگائے گئے۔ جس منظر میں چھ دن لگنے تھے، وہ ساڑھے تین گھنٹوں میں مکمل ہوگیا۔
فلم تھی ’’کرانتی ویر‘‘۔
اور آخر میں نانا پاٹیکر کا وہ یادگار مکالمہ:
’’آ گئے... سب میری موت کا تماشا دیکھنے؟‘‘
پھر ایک جمعرات کی صبح ان کی موت کی خبر پھیلنے لگی۔
سوچتا ہوں، نانا خود یہ دیکھتے تو شاید اسی مخصوص انداز میں کہتے:
’’آ گئے میری موت کا تماشا دیکھنے؟ کسانوں کے لیے تو صبح صبح نہیں لکھتے، بھوکے لوگوں کے لیے قلم نہیں اٹھتا... آج سب میری موت کا تماشا دیکھنے آگئے؟‘‘
سیاست کی پیش کش ٹھکرا دی۔ اپنی کمائی کا بڑا حصہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیا اور خود سادہ زندگی گزاری۔
کسی صحافی نے پوچھا، ’’اتنا پیسہ بانٹ دیتے ہیں؟‘‘
جواب کا مفہوم تھا:
’’ہاں، دے دیا۔ تیرے باپ کا کیا جاتا ہے؟‘‘
یہی نانا تھے۔
کہتے ہیں، منظر لکھے جانے سے پہلے ہی اسے ادا کرکے دکھا دیتے۔ ہدایت کار سمجھاتا، نانا سنتے اور پھر کردار کو یوں جیتے کہ مکالمہ نگار کے لیے الفاظ خود بخود نکل آتے۔
وہ کردار ادا نہیں کرتے تھے، کردار بن جاتے تھے۔
’’سلام بمبئی‘‘ میں بھی کئی بار اچانک کچھ ایسا کر گئے جو پہلے سے طے نہیں تھا، مگر کبھی بناوٹی نہیں لگا۔ مکالمے پوری تیاری سے یاد کرتے اور جب سامنے آتے تو نانا نہیں، کردار دکھائی دیتا۔
شاید زندگی بھی انہوں نے ایسے ہی گزاری۔
جو اچانک سامنے آیا، اسے وہیں سنبھال لیا۔
سب چھوڑ کر گوا چلے گئے، کھیتی باڑی کرنے لگے، غریبوں کے لیے دولت بانٹ دی—کچھ بھی ان کی طبیعت سے باہر نہیں لگا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی جو منظر اچانک سامنے رکھ دے، نانا اسے بھی کہانی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
بس جمعرات کی صبح والا منظر سمجھ نہیں آیا۔
نانا ہر اچانک آنے والا منظر سنبھال لیتے تھے...
مگر اس بار منظر ہی ایسا تھا کہ
اسے پورا کرکے واپس نہیں آنا تھا۔
دل میں بس ایک سوال رہ گیا—
یہ منظر کچھ دیر بعد نہیں ہوسکتا تھا؟
کچھ سال بعد؟
#NanaPatekar
#LegendNeverDie
So sad on his passing…
Some actors entertain us; a few become part of our memories. Nana Patekar was one of those rare artists for me. Today he is gone, but performances like his do not die with the person, they become legacy, living on long after the final curtain.
Rest in peace Sir!
दिग्गज अभिनेता नाना पाटेकर के निधन की खबर बेहद दुखद है।
उनकी आवाज़, उनका अंदाज़ और उनके डायलॉग हमेशा याद रहेंगे। खासकर क्रांतिवीर का यह डायलॉग—
“आ गए मेरी मौत का तमाशा देखने…”
अफसोस, उनके कहे ये शब्द आज की राजनीति के दौर पर भी बेहद सटीक बैठते हैं।
एक बेहतरीन कलाकार की आवाज़ खामोश हो गई, लेकिन उनके संवाद हमेशा गूंजते रहेंगे।
جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں ہے اور بن جائے تو چلتی نہیں ہے، مولانا کا بڑا دعویٰ
مولانا بھی لانگ مارچ میں شامل ؟ اہم ملاقاتیں
#MaulanaFazlurRehman#BreakingNews
🟢 The bonds between Afghanistan and Pakistan are historic and unbreakable: General Hamid Gul (may Allah have mercy upon him). Pre-2015 - exact date unknown.
Short term divergence due to the political leadership in one country or both will not change this historical fact which goes deeper than short-term "national" interests espoused by some day.
یہ صرف افسوسناک نہیں بلکہ عوامی سہولیات کے ساتھ مذاق ہے۔ جب ڈیرہ اسماعیل خان میں فتنہ الخوارج کے حملے میں کسٹم اہلکار شہید ہو رہے تھے، اُس وقت ایمبولینس دستیاب نہیں تھی، لیکن دھرنوں اور جلسوں کے لیے ایمبولینسیں موجود ہیں۔ دنیا کی شاید یہ واحد سیاسی جماعت ہے