سرکار کی 117 ایکڑ زمین پر بنے لاہور جمخانہ کا سالانہ کرایہ 5000 یعنی 416 روپے ماہانہ یعنی فی ایکڑ کا ماہانہ کرایہ 3 روپے 50 پیسے اور لاہو جمخانہ لاہور کی سب سے پرائم پلس لوکیشن مال روڈ پر واقعہ ہے۔
سارے قانون غریب کی ریڑھی کے لیے ہیں امیروں کی اس بیٹھک پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
Meanwhile, violence in 'Azad' Kashmir, before upcoming elections there has been insane. I'm not posting the videos here. But it is exactly like what Pakistan used to accuse India of.
اپوزیشن اجلاس کے بعد مصطفی نواز کھوکھر کی گفتگو بولے
کل جی بی الیکشن 8 فروری کا ری پلے تھا
یہ سلیکشن پراسس تھا الیکشن نہیں
سسٹم کو اس نہج پر نہ لے کر جائیں کہ پورا پاکستان سسٹم کو بے معنی سمجھ لے
بلوچستان کے نوجوان اس نظام کی وجہ سے دور ہوگئے ہیں
جی بی میں ریوڑیوں کی طرح اقتدار بانٹا جائے گا
ہم اس کو الیکشن سمجھتے نہیں ہیں تو اس کو تسلیم بھی نہیں کرتے
لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا گیا ،لوگوں کو صوبہ بدر کرتے رہے ہیں
آزاد کشمیر میں تشویش ناک صورتحال ہے ، ملک کا حساس حصہ ہے
بھارت اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا
بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی اسیران کو ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی،مصطفی نواز کھوکھر
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں فتح مبارک۔ خصوصی مبارکباد خالد خورشید اور انکی ٹیم کو۔
تمام فسطائیت کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام کا شاندار کام۔ کیا شاندار اور دلیر قوم ہے۔ گلگت بلتستان آپکا شکریہ۔
بیلٹ پیپرز کی پوری کتابیں استعمال کر کے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ لوگ شکایات درج کرانے کے لیے ریٹرننگ آفیسر کو تلاش کر رہے ہیں مگر وہ منظر سے غائب ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز سے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب پریذائیڈنگ آفیسر دھاندلی کی شکایت کرنے پہنچے تو دفتر ویران پڑا ہوا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر غائب، ریکارڈ غائب، رجسٹر غائب اور حتیٰ کہ ووٹڈ بھی غائب۔
گلگت بلتستان میں تاریخ کی بدترین دھاندلی۔ یہ سب انہی تاحیات لرزتی طاقتوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے جو عوام کو جمہوری حق استعمال کرنے کے جرم میں ان پر سیدھی گولیاں برساتے ہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
""مریم کے پاپا چور ہیں" اور تاحیات نااہل بھی، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں، عوام میں جانے کے قابل نہیں رہے، لیکن چونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے بنے رہنے کے لیے "کچھ بھی" کرنے کو تیار رہتے ہیں، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے ہاتھوں پکڑے جانے اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود بھی جیل میں نہیں ہیں۔
ان کی تو انتخابی مہم کا آغاز بھی "مجھے کیوں نکالا" سے ہوا تھا۔ ووٹ چوری کر کے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، عوام کی قبولیت نہیں۔ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ کبھی جمہوریت نہیں کہلا سکتا، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
کاش اس وقت ہم سب گلگت بلتستان میں ہوتے۔ نیکسٹ لیول جشن چل رہا ہے۔ پی ٹی آئی ۲۱ سیٹس پر لیڈ کر رہی ہے! یہ ۹۰ فیصد سے زیادہ کی جیت ہے۔
کمال کے لوگ ہیں عمران خان والے، طاقتور بندوق والے کرش کرنے میں لگے ہیں چار سال سے اور پی ٹی آئی کی جیت کی مارجن بڑھتی جارہی ہے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
مریدکے میں تحریک لبیک کے کارکنان نے فوج پر کون سے حملے کیے تھے جو انکے لوگ بیدردی سے مار دیے گئے ؟ اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی کے رشتہ دار ہاشم عباسی کی پراڈو کی ٹکر سے رینجرز اہلکار جاں بحق ہوئے اس کا ملبہ تحریک انصاف پر ڈال کر چھبیس نومبر کے قتل عام کا جواز بنایا گیا۔ نو مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج تک جاری نہیں ہوئی۔ لاشیں ، فالس فلیگ اور جھوٹ اس رجیم کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ راولا کوٹ میں بھی فوج اپنی تاریخ دوہرا رہی ہے۔
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
وفاق میں حکومت کے باوجود ن لیگ ہار گئی۔ کریڈٹ میاں صاحب کو جاتا ہے ان کا خطاب گیم چینجر ثابت ہوا۔ ن لیگ آئندہ بھی الیکشن کیمپین ان سے ہی کروائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ن لیگ اب صرف بند کمروں میں ڈیلیں کر کے ہی حکومت بنا سکتی ہے۔
Elections in the Pakistani-administered territories of Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir - Despite unprecedented violence by the military in Ggit Baltistan, jailed Imran Khan's party led the polls before results were shut down. 2024 being repeated with extra violence.
پہلے بھی الیکشن ہوتے تھے ن لیگ اور PPP کبھی بھی ایک دوسرے سے غیر اخلاقی بات نہیں کی: ناصر بٹ
نہ کرو میاں صاحب کی تقریریں پڑیں ہیں: راۓ ثاقب
ہم نے پھر میثاق جمہوریت کر لیا تھا: ناصر بٹ
پچھلے الیکشن میں پھر پیٹ پھاڑ رہے تھے آپ: راۓ ثاقب
سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا: ناصر بٹ
QUETTA: “We already received threats and intimidation. This attack proved that someone can throw acid on us, shoot us, or rape us inside the hospital itself.”
Dr. Mahnoor remains under treatment. The full extent of the damage to her eyesight and body will only become clear as her recovery progresses.
آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ وہاں کی سیاسی قیادت اور جماعتوں کا غیر مؤثر (irrelevant) ہونا بھی ہے۔ جس سیاسی جماعت کی وفاق میں حکومت آئی، اس نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ بار بار کی سیاسی انجینئرنگ نے سیاسی قیادت کو عوام کی نظر میں بے وقعت کر دیا۔ اس وقت پورے آزاد کشمیر میں ایک بھی ایسا رہنما نہیں جس کا اتنا سیاسی قد ہو کہ وہ عوام کو قائل کر سکے؟ پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ہے،ن لیگ بھی ساتھ ہے، اور وفاق میں بھی دونوں کی حکومت ہے۔ کہنے کو تو یہ عوامی نمائندے ہیں، لیکن کیا زمینی صورتحال بھی ایسی ہی ہے؟مقبول سیاسی قیادت اور مضبوط سیاسی جماعتیں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتیں، یہ ریاست کی مضبوطی کی ضمانت ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو اس تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں جہاں سیاست کمزور ہوتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی جگہ کوئی اور بھر دیتا ہے۔دنیا کا سب سے نقصان دہ فریب وہ ہے جو انسان خود کو دیتا ہے، اور اگر اس میں اجتماعیت آ جائے تو یہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔جن لوگوں سے حکومت تقریباً دو سال سے بات چیت کر رہی ہے، معاہدے کر چکی ہے، اور جن کے بیشتر مطالبات ماننے کا دعویٰ بھی بار بار کرتی رہی ہے، انہیں اچانک ملک دشمن قرار دینے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔اگر سیاسی قیادت اور جماعتیں اسی طرح غیر مؤثر ہوتی رہیں تو یہ معاملہ مزید پھیلے گا۔ پُرامن احتجاج عوام کا آئینی حق ہے، لیکن کسی کے پاس قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں۔بات چیت کے ذریعے بہت کچھ حاصل کیا گیا ہے۔ آج غالباً پورے پاکستان میں سب سے سستی بجلی اور آٹا آزاد کشمیر کے عوام کو میسر ہے۔ آئندہ بھی مسائل کے حل کا راستہ بات چیت ہی ہے۔