پنجاب میں کل 9000 ہائی سکول ہیں جن میں سے 2000 میں ریگولر ہیڈ ماسٹر کی تقرری کی گئی ہے ۔ باقی سب میں ہیڈ ماسٹر کی نشست خالی ہے کیونکہ 2013 کے بعد سے سرکاری سکولوں میں بھرتی نہیں ہوئی ہے ۔
کہتے ہیں سرکاری سکول بہتر نتائج نہیں دیتے ۔
محترم سر اگر آپ اُستاد ہیں تو میں آپ کو یہ بتا دوں کے جن حکام بالا سے آپ فریاد کر رہے ہیں وہ سرکاری اُستاد کو ہی اصل مسئلہ سمجھتے ہیں کیوں کے آپ کو 50 ہزار سے ایک لاکھ تک تنخواہ دینا حکومت کو مسئلہ لگتا ہے۔ اگر آپ 8، 10 ہزار تنخواہ پر راضی ہو جائیں تو آپ ہیرو ہیں اُن کی نظر میں
🤔🤔🤔
بجائے اپنی غلطی سے رجوع کرنے کے محکمہ تعلیم پنجاب کی طرف سے اساتذہ اور یونین لیڈرز کی فائلز کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔۔۔
نوٹس پہ نوٹس جاری۔۔۔۔
کیا اس طرح اساتذہ چپ کر جائیں گے۔۔۔۔
کیا اس طرح مزید نفرت نہیں پھیلے گی۔۔۔۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مخلص اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے بجائے انہیں اجتماعی طور پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ اگر آج بھی سرکاری تعلیم کا چراغ جل رہا ہے تو اس کی لو اربابِ اختیار کے بیانات سے نہیں بلکہ ہزاروں مخلص اساتذہ کی دیانت، محنت اور قربانیوں سے روشن ہے۔
پنکھے / ٹوٹیاں چور اساتذہ
کالج اور سکول کیڈر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی بھی ریکروٹمنٹ ہوئی ہے کوئی ایک بھی ایسا ٹیچر نہیں ہو سکتا جو کسی چور دروازے سے آیا ہو۔۔۔ایک بھی ایڈہاک ٹیچر نہیں آیا ۔۔۔۔
فارم 47 کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔
سکول کے ٹیچرز بھی 2013 کے بعد سے نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو اور باقاعدہ میرٹ اور اکیڈمک کی بنیاد اور کالج والے پنجاب سروس پبلک کمیشن کے ٹیسٹ انٹرویو دے کر آتے ہیں۔
ایک ایک سبجیکٹ میں ہزاروں ایپلیکیشنز۔۔۔۔ باقاعدہ تحریری امتحان۔۔۔۔بلکہ 2005 تک تو سبجیکٹو پیپر دے کر لوگوں نے انٹرویو کے لیے اپنی اہلیت ثابت کی۔۔۔۔
اس کے بعد شاید پیپر کا موڈ آبجیکٹو ہوا۔۔۔ ۔
ایک طویل انٹرویو۔۔۔۔تعلیمی استعداد کی بنیاد پر میرٹ کیلکولیشن۔۔۔۔ پوائنٹس میں بننے والا میرٹ۔۔۔اور اس کے بعد کہیں جا کے سلیکشن فائنل ہوتی ہے۔۔۔۔
اور پھر پوسٹنگ کا مرحلہ۔۔۔۔۔۔ گھروں سے بیسیوں میل دور۔۔۔روزانہ کی بنیاد پر سفری صعوبتیں برداشت کر کے۔۔۔ اساتذہ کرام اپنے اداروں میں پڑھانے کے لیے جاتے ہیں۔۔۔۔ ایک فخر ہوتا ہے۔۔۔
ہم استاد ہیں۔۔۔۔۔۔۔
بچے پیار سے ملتے ہیں والدین عزت سے پیش آتے ہیں۔۔۔
کوئی پرانا طالب علم شاگرد راہ چلتے مل جاتا ہے۔۔۔۔انتہائی تعظیم سے ملتے ہیں۔۔۔۔۔ افتخار محسوس ہوتا ہے
ہم اساتذہ ہیں۔۔۔ ہم خاتم الانبیاء سرور کونین احمد مجتبیٰ ۔۔۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت۔۔۔۔ پہ عمل پیرا ہیں
میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مجھے معلم بنا کے بھیجا گیا۔۔۔۔
استاد ہونا افتخار کی بات ہے۔۔۔۔
محدود وسائل کے ساتھ۔۔۔۔ میں نے اپنے ساتھی اساتذہ کرام کو سخت موسم میں۔۔۔۔ سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔ اپنا کام کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔
اتنے سخت کرائٹیریا سے سلیکشن کے بعد کوئی پنکھے نہیں چراتا کوئی ٹوٹیاں نہیں چراتا۔۔۔۔۔
ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے چوائس سے ٹیچر بنے۔۔۔
سینکڑوں ایسے لوگ ملے ٹیچنگ جن کا عشق تھا۔۔۔۔۔۔
مجھے اس بات پہ حیرت ہوتی ہے کہ لوگ الفاظ کے انتخاب میں۔۔۔۔احتیاط کیوں نہیں برتتے۔۔۔۔
یہ ہماری سوچ اتنی غیر ذمہ دارانہ کیسے ہو گئی ہے؟؟؟
میاں عمران مسعود صاحب سے لے کر۔۔۔۔۔ ہمایوں یاسر سرفراز صاحب تک۔۔۔۔ کالج اساتذہ ایسوسی ایشن کا حصہ ہونے کی بدولت۔۔۔ اکثر وزراء صاحبان سے براہ راست ملاقات ہوئی۔۔۔۔۔ گفتگو ہوئی۔۔۔۔ آج تک کسی کو اتنا ہلکا بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔
جتنا موجودہ منسٹر جناب رانا سکندر حیات صاحب بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ انسان کا شناختی کارڈ ہوتے ہیں۔۔۔۔
لفظ خون کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہء نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ منسٹر صاحب۔۔۔۔۔ اساتذہ پنکھے لگواتے ہیں۔۔۔۔ چوریاں نہیں کرتے۔۔۔۔ جتنے محدود وسائل کے ساتھ سرکاری کالجز اور سکولوں میں اساتذہ پڑھا رہے ہیں آپ کی سوچ ہے۔۔۔اپنی زندگی لگا کر اگر اس ملک کے معمار کو ایسے القابات سے نوازا جائے تو مر جانا بہتر ہے،کہیں سنا کہ کوئی اپنے باپ؟ روحانی باپ کو ایسے القابات دے؟
وزیر تعلیم نے اساتذہ کے بارے میں پنکھا چوری کرنے کا الزام لگایا یہ انتہائی گھٹیا کام ہے اساتذہ کی تذلیل ہم بالکل بھی برداشت نہیں کریں گے ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ رانا صاحب یا تو اساتذہ سے معافی مانگیں یا اپنا استعفی دیں.
#RemoveEducationMinisterPunjab
یوم عاشور کے بعد وزیر تعلیم کے استعفئ پہ ٹرینڈ کریں گے اور تب تک ٹرینڈ چلائیں گے جب تک اس سے استعفئ نہیں لیا جاتا
تمام اساتذہ ملازمین اور سول سوسائٹی اور استاد سے محبت کرنے والے تیار رہیں ان شاء اللہ انُکو بتایئں گے چور کون ہے
ہمیں رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے
وزیر محترم اُن لوگوں کے لقموں پر اساتذہ کی تذلیل کر رہے تھے جو 20 ہزار پر دستخط کروا کر 8، 10 ہزار پر میٹرک اور FA پاس ٹیچرز رکھ لیتے ہیں، شدید گرمی میں بجلی بند کر کے بل بچاتے ہیں، پرائیویٹ سکولز کے بچوں کا ڈیٹا دکھا کر تعداد بڑھاتے
آج استادکی آنکھ نہیں نم ہوئ آج اس کا وجودٹوٹ گیاہے۔
آج صرف ایک انسان کی تذلیل نہیں ہوئی آج علم کی حرمت کو زخمی کیاگیا ہے۔
اے رانا سکندر حیات!تیرےایک جملے نے اس ہاتھ کو مشکوک بنا دیا جو ہمیشہ دوسروں کے بچوں کو انسان بناتا ہے۔ آج اس کا وقار مجروح ہوا ہے۔
@Linguist786@UstadSays
بہت پرانی بات ہے جب ہم دوسری یا تیسری جماعت میں ہوں گے ہمارے پرائمری سیکشن کی ہیڈ مس جو تھی وہ ریٹارڈ ہو گئیں مجھے اب نام مکمل یاد نہی شاید میڈم قمر نام تھا تو وہ جاتے وقت سکول میں پیتل کی بڑی بیل اور لکڑی کا ہتھوڑا گفٹ کر گئیں تاکہ جب ہاف ٹائم یا چھٹی کی بیل بجائیں تو بچوں کو وہ یاد رہیں زندگی میں ٹیچرز کو ہم نے ہمیشہ دیتے ہی دیکھا ہے جانے یہ کن بدبختوں سے تربیت لیتے رہے ہیں جو استاد کی عزت کرنے سے محروم ہیں
روزانہ ماہانہ بنیاد پر بھی اساتذہ ڈونیشن کرتے وردی بستہ کاپی پنسل بستہ ہر چیز کمروں کی ڈیکوریشن اس کے علاوہ آپ یقین کریں مستحق بچیوں کے رکشوں کا کرایہ بھی ہم لوگ اپنی جیب سے دیتے اس کے علاوہ یتیم بچوں کے خصوصی وضائف بناۓ ہوۓ ہم نے بتانا نہیں تھا پر دل دکھا ہوا شدید ڈی موٹیویشن ہے
پنجاب میں سیکرٹری تعلیم کے انڈر تمام
اضلاع میں CEOs، اُن کے انڈر سیکنڈری اور ایلمنٹری کے DEOs (میل، فیمیل)، اُن کے انڈر ہر تحصیل میں ڈپٹی DEOs، اُن کے انڈر ہر 10 سے 15 سکولز کے لیے AEOs، اُس کے علاوہ MEAs۔اس سب کے باوجود کون سا ٹیچر پورا سال سکول نہیں جاتا؟ 🤔
@naziagoraya
الزام لگانا آسان ہے، مگر تحقیق کرنا ذمہ داری۔
اگر سکولوں کا سامان محکمانہ احکامات کے تحت منتقل ہوا ہے تو پھر اساتذہ کو "پنکھے چور" کہنا کس انصاف کا نام ہے؟
قوم کے معماروں کی تضحیک نہیں، عزت کیجیے۔
اگر تعلیمی شعبہ واقعی ترقی کر رہا ہے تو پھر سرکاری سکول نجی ہاتھوں میں کیوں جا رہے ہیں؟ اگر اساتذہ کا مقام بلند کیا جا رہا ہے تو ان پر چوری جیسے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں؟ تعریفی بیانیے اپنی جگہ، مگر کارکردگی کا پیمانہ زمینی حقائق ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پوسٹس نہیں۔