اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے اس حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
آج سے ہمارا بنیادی نیا سلوگن ہے "خان کے لیے متحد"، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے اور پارٹی کی قیادت پر ہر قسم کی تنقید بند کر دیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ختم ہو گئی یا بکھر گئی، لیکن سچائی یہ ہے کہ نہ یہ بکھری ہے اور نہ ٹوٹی؛ ورکرز نے سب سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی ہیں اور آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹی عمران خان صاحب کی امانت ہے، جسے ہم انہیں اسی شکل میں واپس کریں گے کہ وہ کہیں "شاباش! آپ نے میری پارٹی متحد رکھی۔" لہٰذا جو جتنا حصہ ڈال سکتا ہے ڈالنے دیں اور اپنی بساط کے مطابق کام کرنے دیں—نہ کسی کو غدار کہیں نہ نااہل۔
آپ اپنے شہر، ضلع یا تحصیل میں مخالف گروہوں اور دھڑوں سے ملیں اور کہیں کہ اس وقت صرف ایک مقصد ہے: "خان صاحب کی صحت، ان کی قیدِ تنہائی اور ان کے ساتھ ناانصافی۔" تمام ذاتی مفادات بھول کر صرف خان صاحب کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔ میں خود اگلے ۶۰ سے ۹۰ دن تک کسی پر تنقید نہیں کروں گا۔ ہم نے ۵ اگست کو خان صاحب کو متحد پارٹی کا تحفہ دینا ہے تاکہ صرف ان کے انصاف اور سلامتی کے لیے ایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
فیصل شیر جان
@fsherjan
#LetTheWorldSeeImranKhan
He has comprehensively defeated all the forces against Pakistan
The opponents also know that they have lost; they are now using brute force but that is destabilizing Pakistan & for that, no one will ever forgive them. It’s really time to cut the losses.
#LetTheWorldSeeImranKhan
Hazrat Ali (may Allah be pleased with him) said, “A system based on disbelief can endure, but one built on injustice cannot.” We must rise against this tyranny, for the sake of our own future and that of our nation. Therefore, I am sending this message to the entire nation: Get ready.”
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 1st, 2025
اقبال آفریدی نے انکشاف کیا ہے:
"میں قرآن پر حلف دے کر بات کررہا ہوں کہ اڈیالہ جیل میں جب میری عمران خان سے آخری ملاقات ہوئی تو خان نے کہا کہ اقبال پارٹی اب میری بات نہیں مان رہی۔"
اگر آپ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ میسج لکھ سکتے ہیں، نہ ٹویٹ کر سکتے ہیں، نہ ری پوسٹ کر سکتے ہیں، تو عمران خان کے نام کا صدقہ شوکت خانم اسپتال کو دے دیں۔
اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے تو ہفتہ وار دے دیں، اور اگر ہفتہ وار نہیں دے سکتے تو ماہانہ دے دیں۔
لیکن جب بھی عمران خان کو یاد کریں، اس عظیم تحفے کو ضرور یاد کریں جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام پر اس قوم کو دیا ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک اسپتال نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے امید، خدمت اور انسانیت کی بہترین مثال نشان بن چکا ہے!
@SKMCH@Aleema_KhanPK
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ بھارتی فورسز جنتر منتر میں طلباء پر حملہ آور ہو گئی ہیں اور ان کو سیدھی گولیاں مار رہی ہے
لیکن آپ غلط سوچ رہے ہیں، یہ پاکستانی فورسز ہیں اور یہ دارالحکومت اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کو مار رہی ہیں اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانگی ہوگی کہ بھارت میں ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی گئی
بریکنگ نیوز 🚨عظمی خان کا بڑا انکشاف 🔥🔥
جن کے پاس عمران خان کا آفیشل اکاؤنٹ ہے، ہم نے ان سے ریکویسٹ کی تھی کہ خان صاحب کے ٹویٹس کو دوبارہ پوسٹ کریں لیکن وہ ہماری بات نہیں مان رہے ہیں۔ ہم آپ سے ریکویسٹ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے سارے ٹویٹس دوبارہ شئر کریں۔ کون ہیں وہ لوگ جو خان کی بہنوں کی بھی بات نہیں مان رہے؟ خان کے ٹویٹر ہینڈل کو کون کنٹرول کرتا ہے؟
The Daku Duffer alliance has destroyed every institution in Pakistan just to hold on to power and protect their own interests. The Constitution, judiciary, police, education system and rule of law, they have spared nothing.
And what happened to Asim Munir’s SIFC? We were told it would bring foreign investors and investment into Pakistan and help the economy. Where is all that investment they promised? Where are the results?
Meanwhile ordinary Pakistanis are crushed by inflation and taxes while the same ruling elite enjoys its privileges and lavish lifestyle at their expense.
Every decision this Daku Duffer alliance takes is about protecting their power, not protecting the interests of the people of Pakistan.
#UndeclaredMartialLaw
#ذہنی_مریض_نامنظور
"عمران خان صاحب کو پتہ تھا کہ ان کو قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا اس لیے انہوں نے تفصیلی پیغامات دئیے وہ ہمیں اچھی طرح سمجھا کے بھیجتے تھے۔ پی ٹی آئی کے لیے تمام پیغامات تفصیل میں آچکے ہیں، جو خفیہ پیغامات تھے وہ بھی اور جو پبلک کرنے تھے وہ بھی، سارے پیغامات ہم پہنچا چکے ہیں۔ اب یہ پی ٹی آئی پرمنحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اندر جا کے ہدایات لے کر کچھ کرے گا تو اب اندر جانے کی ضرورت نہیں سارے تفصیلی پیغامات آچکے ہیں اور وہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود ہیں"۔ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی عدالت پیشی کے موقع پر گفتگو
سلمان اکرم راجی صاحب آپ کو یہ بات بری لگے گی، اور آپ کو تو غصہ بھی بہت جلدی آ جاتا ہے، لیکن بحیثیت سیکرٹری جنرل آپکی ذمہ داری ٹویٹس لکھنا نہیں، قیادت کرنا تھی!
اب اس وقت اتنے طویل اور پیچیدہ اردو ٹویٹس کرنے سے بہتر یہ تھا کہ گزشتہ چھ ماہ میں آپ ایک بھی مؤثر انگریزی پریس کانفرنس کرتے جس میں دنیا کو کھل کر بتاتے کہ عمران خان بدترین ناحق قید میں ہیں، ان کا دن دھاڑے مینڈیٹ چرایا گیا ہے، انہیں آنکھ ضائع کر دی گئی اور پھر بھی مناسب طبی سہولیات میسر نہیں اور آج اس قوم کے پاس انکے زندہ اور خیریت سے ہونے کے آزادانہ شواہد تک موجود نہیں۔
آپ نے نہ تو ان بیکار سیٹ ہولڈرز کو لگام دی جو عمران خان کا نام استعمال کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، نہ انکے خلاف کوئی کارروائی کی جو عمران خان کو بھلا کر اپنی اپنی جاگیریں چلا رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر احتساب کہیں نظر آیا ہی نہیں۔
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آپکی بین الاقوامی میڈیا حکمت عملی کہاں تھی؟ چھ ماہ میں کتنے بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کو متحرک کیا گیا؟ کتنی پریس بریفنگز ہوئیں؟ کتنے سفارت کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک مؤثر انداز میں عمران خان کا مقدمہ پہنچایا گیا؟
ہمیں اب آپکی اردو ٹویٹس نہیں چاہئیں۔ ہمیں لفظوں کی نمائش نہیں چاہیے۔ ہمیں ایکشن چاہیے تھا۔ عمران خان جیل میں ہیں اور آپکی قیادت میں پارٹی کا بڑا حصہ اپنی نشستوں، عہدوں اور سوشل میڈیا کی پی آر مہمات بچانے میں مصروف رہا۔۔
اگر سیکرٹری جنرل اپنی ہی صفوں میں موجود مصلحت پسندوں اور موقع پرستوں کا احتساب نہیں کر سکتا، تو پھر طویل پیچیدہ ٹویٹس کسی کام کے نہیں۔
@salmanAraja@Aleema_KhanPK@DrUzma_KhanPK@Noreen_KhanPK@Kasim_Khan_1999
جب تک آپ پانچ اگست کے جلسے کا بائیکاٹ نہیں کریں گے، اور ایسا بائیکاٹ کہ انکے پنڈال خالی رہ جائیں اور انہیں صاف نظر آ جائے کہ وہ عمران خان کے ویژن کو لے کر چلنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔ انہیں احساس ہونا چاہیے کہ جب وہ عمران خان کے مؤقف کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے تو لوگ بھی انکے جلسوں میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
آج جب پٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں، تو آپ کارکنوں اور عوام سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے صرف آپ کو "اپنی سیاسی طاقت دکھانے" کے لیے جلسوں میں آئیں۔ لوگوں کو یہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ آپ جلسے میں جا کر انہیں جوتے دکھانے کے لیے بھی اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں۔
جب تک آپ بیرسٹر گوہر کے فوری استعفے کا مطالبہ نہیں کریں گے، اور انہیں یہ احساس نہیں دلائیں گے کہ انہوں نے جو بھی تماشا لگایا ہے وہ عمران خان کے مؤقف سے انحراف کے مترادف ہے، تب تک بھی کوئی اثر نہیں ہوگا۔
اور جب تک آپ انکی ہومیوپیتھک سوشل میڈیا ٹیم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟ آپ اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ہر بیکار اور نااہل سیٹ ہولڈر کی پی آر مہم چلاتے ہیں۔ تب تک بھول جائیں کہ ان میں سے کوئی بھی آپکی سنے گا۔
اپنی آواز ہر دستیاب فورم پر پرامن ذریعے سے بلند کریں اور انہیں واضح طور پر بتائیں کہ اب یہ طرز عمل قابل قبول نہیں!
چوٹ وہاں پہنچائیں جہاں واقعی اثر ہو گا:
پرامن اور مؤثر بائیکاٹ کے ذریعے۔
🚨 عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلانے والوں سے اپیل کی تھی کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے تمام ٹویٹ دوبارہ پوسٹ کیے جائیں لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اب قوم سے کہوں گی کہ عمران خان کی تمام ٹویٹ دوبارہ شئیر کریں ۔
ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی میڈیا سے گفتگو
مطیع اللہ جان نے گوہر خان اور زرداری کو ایک جیسا قرار دیا!!
جس طرح 26 نومبر کیس میں گوہر خان پیش نہیں ہوئے PTI کے باقی عینی شاہدین پیش نا ہوئے اسی طرح بینظیر بھٹو قتل کیس میں زرداری اور بلورانی بھی پیش نہیں ہو رہے تھے!!