وقت آ گیا ہے کہ اب اس سوال کا جواب ہر با شعور شخص اپنے ضمیر سے مانگے۔ کیا 25 کروڑ انسانوں کی خاموشی کی سزا صرف ایک اکیلا شخص تنہا ہی سہتا رہے؟ اس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، قید تنہائی میں بند کر رکھا ہے۔ آخر کب تک یہ ظلم وہ سہتا رہے؟ کیا 25 کروڑ انسانوں کا کوئی فرض نہیں رہا؟
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
یہ وہ پرچی ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ پاکستانی باشعور عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے کہ عمران خان کو طبی سہولیات میسر ہیں۔
اس قسم کی پرچیاں امپورٹڈ ٹولے کو سپلائی کی جا سکتی ہیں، ججوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں اور اڈیالہ جیل کے جیلر و حکام ان کے تابع ہو سکتے ہیں۔ لیکن عمران خان کی عوام کو حقائق چاہییں اور ان کے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ کسی باشعور معاشرے میں ایسی میڈیکل اپ ڈیٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔ پریس ریلیز کرنے والے کا نام تک نہیں۔ پمز کی انتظامیہ کس کے اشاروں پر اتنی نپی تلی بریفنگ دے رہی ہے؟ کس بات کے انجیکشن لگ رہے ہیں جبکہ مرض کا نام تک نہیں بتایا گیا۔ شاید پچھلی سکرپٹ سے یہ پکڑا گیا تھا کہ پمز میں CRVO کا علاج میسر نہیں اور نہ ہی اسپیشلسٹ۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ جیل میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہے تو کیا یہ پرچی بھی انہی کے حکم پر جاری ہوئی ہے؟ ایک آزاد شخص کہتا ہے ڈکٹیٹر کے آگے نہیں جھکوں گا تو اسے توڑنے کے لیے ایک #ذہنی_مریض اس کی صحت سے کھیلے گا؟
فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔
اڈیالہ کے باہر دس ہزار
#جون_16_کو_اڈیالہ_چلو
طاقت کے ایوانوں کو جب عوامی احتساب کا پھندہ اپنی گردن پر تنگ ہوتا محسوس ہوتا ہے تو خبر آتی ہے کہ عمران خان کے لیے عدالتی ریلیف کا اعلان۔ کیا نااہل ٹولے کے من پسند جج ان کے جتنے ہی نااہل ہیں کہ عوام کو انہیں یہ بھی یاد دلانا پڑے کہ عدالتوں کا کام ریلیف نہیں بلکہ انصاف دینا ہے۔ کل ان کا بنی گالہ سے آیا ضرورت کا سامان واپس کر دیا گیا، چھ ماہ سے کسی نے انہیں دیکھا نہیں، بنیادی طبی سہولتیں حاصل نہیں۔
ججوں کو شرم آنی چاہیے، ہر ہفتے عدالتی احکام کی پامالی ہوتی ہے تو راتوں کو لگنے والی عدالتوں کے جج ان پر ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ ان کے وکالت نامے 25 مئی سے جیلُ حکام کے پاس ہیں جن پر دستخط تک نہیں ہو پائے ہیں۔
عسکری ججوں کے لئیے کیا ایک ڈکٹیٹر کا حکم نامہ اللہ کی اس کتاب سے بڑھکر ہو گیا ہے جس پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا!
#ShameOnJudges
#WhereIsImranKhan
جون کا مہینہ ہے، بجٹ پیش ہونا ہے۔ ہم نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے: عمران خان کی چھ ماہ سے جاری قید تنہائی ختم کرکے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے۔
جاوید ہاشمی اس دن اڈیالہ آئے اور بتا رہے تھے کہ ہم بھی جیل میں رہے، ہمارے پاس فون ہوتا تھا، لوگوں سے بات کرتے تھے اور لوگ ملنے آتے تھے۔ جو قید عمران خان کاٹ رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر یا سابق وزیراعظم نے نہیں کاٹی۔ اسے ایسا ٹارچر کبھی نہیں بھگتنا پڑا۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر مسائل کو طاقت اور گولی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
ہمارے کشمیری بھائی شہید ہوئے، جبکہ ان کا قصور صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان پر بھی اسی طرح گولیاں چلائی گئیں جس طرح 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہمارے پُرامن کارکنوں پر چلائی گئی تھیں۔
گولی اور جبر کے بجائے اگر ریاست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں بلکہ جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا کہ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی آواز دبانا ہی واحد حل ہے، تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں نہ مذاکرات کارگر رہیں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے معاملات قابو میں لائے جا سکیں گے۔
مجھے صبح تقریباً پانچ بجے گولی لگی ہے۔نہتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔ میرے سامنے ایک نوجوان کو سینے میں فائر لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔
راولاکوٹ میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے دلیر کی گفتگو
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو https://t.co/2rnzTIxKWD
🚨آرمی چیف اور وزیر اعظم آپ دنیا میں امن کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو جو کھیل 5 جون سے 10 جون تک تم نے کشمیر میں کھیلا اس کی مثال تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھی نہیں ملتی
انھوں نے بھی کبھی پرامن مظاہرین پر ہسپتال میں جا کر ظلم نہیں کیا، یہ سیاہ دھبہ تمھارے ماتھوں پر لگ گیا ہے،
عمر نظیر کشمیری
”پاکستانیو، یاد رکھنا ! جب ایک قوم کو سمجھ آ جائے کہ غلامی کیا ہے اور آزادی کیا ہے ؟ تو اس قوم کو کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔“ کپتان عمران خان
#FreeImranKhan
ڈکٹیٹر کا پاکستان: پاکستان کے مسائل حل؛ کم از کم ایک ہزار بندے مار دو۔
کسی بھی نارمل یا مہذب ملک میں ایسے شخص کو نوکری سے نکال کر جیل میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہاں ایک ذہنی مریض نے اسے ترقی دے کر آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پولیس لگا دیا گیا۔
سابق کیپٹن اور جموں و کشمیر کے حاضر ڈیوٹی آئی جی ملک لیاقت علی سول سروسز کے انٹرویو میں فخر سے اپنی ذہنی عدم استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔آفیشل انٹرویو میں اتنی بڑی بات آرام سے کہنا نارمل انسان کی سوچ نہیں ہو سکتی۔
لیکن یہ صرف باتیں نہیں تھیں۔ 9 مئی کے کریک ڈاؤن، زمان پارک آپریشن، انتخابات کی زیادتیاں اور عمران خان کی گرفتاری—جہاں طاقت کا ننگا ناچ ہوا اور شہریوں و کارکنوں کو کچلا گیا، وہاں ان کا نام سامنے آیا۔ انہوں نے اپنی سوچ کو عملی شکل دے دی۔
انعام میں انہیں مزید ٹارگٹ پریکٹس اور ہزار بندے مارنے کا خواب پورا کرنے کے لیے کشمیر کی عوام ملی۔
یہ ہے #عاصم_لاء کی حقیقت۔ یہاں قانون کی بات کرنے والوں کو سزا ملتی ہے جبکہ جو جتنا بڑا ظالم ہو، قانون کو پیروں تلے روند کر طاقت کا راج قائم کرے، اسے بڑے عہدے دیے جاتے ہیں۔ یہ اب قائد یا اقبال کا پاکستان نہیں، ذہنی مریض کا مقبوضہ پاکستان ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
مرض بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔
غاصب عاصم منیر کے حکم پر نہتے اور پُرامن پاکستانیوں کے قتلِ عام کے پانچ ہولناک واقعات:
1. لاہور، 9 مئی 2023
2. اسلام آباد ڈی چوک، 26 نومبر 2024
3. آزاد کشمیر، 1 اکتوبر 2025
4. مریدکے، 13 اکتوبر 2025
5. راولاکوٹ، 8 جون 2026
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔”
- عمران خان
#ذہنی_مریض
عمران خان پر ہم نے ریڈ لائن لگا دی۔ بلوچستان کا مسئلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔ ملکی مسائل کا حل یہ ہے کہ ایک ہزار بندے مار دیں۔ ملک پر مسلط ڈاکو ڈفر الائنس کا یہ دماغی فتور آج پورے ملک کے لیے سیکورٹی رسک بن چکا ہے۔ ملک کی آدھی آبادی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، کاروبار تباہ اور سرمایہ کاری صفر ہے۔ اگر اقتدار عوام کے حوالے نہ کیا گیا اور عدم سیاسی استحکام یوں ہی چلتا رہا تو حالات مزید بدتر ہونے کا خدشہ ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کے نام پر عاصم منیر اور اس کے حواریوں کی ذاتی عناد اور طاقت منوانے کا یہ نشہ 25 کروڑ عوام کے اس ملک کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
#ذہنی_مریض
#گولی_کیوں_چلائی
#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو
“یہ ہر منگل کو عمران خان کی بہنوں سے ملاقات روک کے سمجھتے ہیں کہ ہم بہت مضبوط ہیں، ہم نے بہنوں کو بھائی سے ملنے نہیں دیا، ان کو کوئی بتائے کہ ان کی اس حرکت سے پچیس کروڑ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، یقین مانیں سوائے بددعا کہ تمہارا ستیاناس ہو کسی کے ذہن میں تمہارے لیے اور کوئی الفاظ نہیں آتے۔”
- @AonAbbasPTI
#FreeImranKhan
"عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر جہاں عمران خان کے ساتھ زیادتی کررہے وہیں یہ اپنا خوف بھی ظاہر کررہے ہیں۔ جو یہ کررہے ہیں عوام میں غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس وقت عمران خان کی پاکستان کو سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کے وقت ملک میں اچھا بھلا امن تھا آج امن تباہ ہوچکا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی، سرمایہ کاری صفر ہے۔غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے"۔ علیمہ خان
“ہم عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ہم بہنیں تو نہیں چھوڑیں گی، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اس پر ہمارا احتجاج کرنا ضروری ہے، عمران خان کا علاج اور ان کی قیدتنہائی کے خاتمے کی ڈیمانڈ ہم فروری سے کررہے ہیں، ہم ایک آئینی اور قانونی چیز مانگ رہے ہیں، یہ عمران خان کا حق ہے کہ ان کا علاج ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ہو، قید تنہائی کا خاتمہ ہو۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
آزاد کشمیر ، جی بی دھاندلی اور بجٹ مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے پی ٹی آئی کے پی سے ایم پی ایز کے ٹی وی چینلز پر انٹرویوز شروع کروا دیے گئے ہیں کہ ہم بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے کیونکہ سہیل آفریدی عمران خان کو رہا کروانے میں سیریس نہیں ،
ویسے تو عمران خان کا نام تک ٹی وی پر نہیں چل سکتا لیکن عمران خان کی رہائی کی بات کرنے والے "مخلص ایم پی ایز " کے نہ صرف انٹرویوز تمام چینلز پر چل رہے ہیں بلکہ عمران خان کا نام بھی بار بار چل رہا ہے ،واہ ،کیا کہنے ۔۔۔
ویسے ان ایم پی ایز نے پچھلے دو برس میں اپنی ذاتی حیثیت میں خود کتنی بار عمران خان کی رہائی کے لیے انفرادی کوشش کی ؟؟؟
پی ٹی آئی کی اندرونی چیزوں کو ٹی وی چینلز پر چلوانے کا مقصد اصل ایشوز سے توجہ ہٹانا اور سوشل میڈیا کو اس میں الجھانا ہے ،
مین سٹریم میڈیا تو ویسے ہی نوکر ہے ، نوکر کی تے نخرا کی ،البتہ سوشل میڈیا کو پتا ہے کہ فوکس کہاں ہونا چاہیے
ناروے میں 55 پرسنٹ ٹیکس ہے اور وہاں آپ کے کفن دفن تک کا انتظام کیا جاتا ہے ، بچوں کو وظیفے دیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں 68 پرسنٹ ٹیکس ریٹ ہے لیکن یہاں صرف بدلے میں سرکار جوتے ہی مارتی ہے اور جعلی پرچے ہی کاٹتی ہے،
مبین عارف جٹ