تعلیم اور صحت میں جو بارودی سرنگیں بچھائی جا چکی ہیں ان کا مزہ دس سال بعد آئے گا جیسے 2015 کے "ہم نے پاکستان کو اندھیروں سے نکالا" کا سواد 2025 سے آنا شروع ہوا ہے۔
صرف اس سال ایکسپورٹس میں 2 ارب ڈالر اور بیرونی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی آئی ہے۔
اس کو کوئی کدّو مرشد پوری "دیانت داری" سے یوں بیچ رہا ہوگا:
اندرونی معیشت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ ایکسپورٹس کی فرصت ہی نہیں اور مقامی صنعتوں نے بیرونی سرمایہ کار کو ٹف کمپیٹیشن دے کر بھگا دیا ہے۔
ہمارے کدّو مرشد اور سیاسی رومانوی شاعر فرماتے ہیں کہ۔۔۔ پیپلزپارٹی ایک پروگریسو جماعت ہے۔ تمام تو سیاسی رومانوی شاعری کی ٹھمریوں میں یہی مضمون ہے کہ چار طرف جانگلوس ہیں بیچ میں پیپلزپارٹی روشن خیالی اور ترقی پسندوں کا ٹولہ ہے جو اندھیروں سے لڑ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود بااثر حلقوں اور لابیوں کو2600 ارب روپے کی چھوٹ جبکہ مستقبل قریب میں گھریلو صارفین کے سولر پینلز پر ماہانہ فکسڈ ٹیکس لگاتے ہوئے آئی ایم ایف کا نام لیا جائے گا اور کدّو مرشدین فرمائيں گے کہ ٹیکس تو دینا پڑتا ہے۔
یاں پھر جونسا جو ہے وہ جو ہےاشٹام پیپر جو ہے وہ جونسا جو ہے سائن کرکے جو ہے تو وہ لیڈر جونسا جو ہے اس کو جو ہے باہر جونسا جو ہے بھجوا کر جو ہے پھر وہ کیمرہ جو ہے اس پر آن لائن خطاب جونسا جو ہے اس میں ادارے کو جونسا جو ہے وہ جو بے دور سے توقیر جو ہے وہ جو ہے وہ کر لیں۔
ریاستی جبر کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ہمیشہ سنگین مسائل جنم لیتے ہیں جن سے نمٹنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے اپنی جھوٹی انا کو چھوڑ کر لوگوں کی بات کو سُنا جاۓ اور انکے جائز حقوق انہیں دیئے جائیں کیونکہ اسی میں ریاست کی بقا ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو@TeamPakPower
میرا @sk_804 کا ماننا ہے کہ جب لوگ اپنے حقوق کی بات کریں تو ان کی بات سنی جانی چاہیے۔
کشمیر کے عوام بھی بہتر مستقبل اور سہولیات چاہتے ہیں۔
یہ مطالبات توجہ اور سنجیدگی کے مستحق ہیں۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو@TeamPakPower
ریٹویٹ کریں اور یہ ٹرینڈ #کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو شروع کریں !!
کشمیری عوام اپنے حقوق مانگ رہے ہیں، بغاوت نہیں کر رہے۔ اگر عوامی ایکشن کمیٹی واقعی انتشار پسند تھی تو حکومت اس سے مذاکرات کیوں کرتی رہی؟
کشمیر کی آواز کو جبر، گرفتاریوں اور پابندیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔
Most of Kashmiri feel their concerns are not receiving the deserved attention.
In my @sk_804 ,opinion only Constructive dialogue can help to address grievances and strengthen social harmony.
Every voice counts.
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو@TeamPakPower
ریٹویٹ کریں اور یہ ٹرینڈ #کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو شروع کریں !!
کشمیری عوام اپنے حقوق مانگ رہے ہیں، بغاوت نہیں کر رہے۔ اگر عوامی ایکشن کمیٹی واقعی انتشار پسند تھی تو حکومت اس سے مذاکرات کیوں کرتی رہی؟
کشمیر کی آواز کو جبر، گرفتاریوں اور پابندیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔
گلگت بلتستان میں نتیجہ جو مرضی بنایا جائے، نظام کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ کٹھ پتلیوں کے ذریعے جو مرضی کھیل کھیلیں- عوام اب سب کھیل بخوبی سمجھ چکے ہیں-
وہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر گھڑی گئی پارٹیوں کے تماشے دیکھتے رہے اور سب کو ہرا دیا!!
اب آزاد کشمیر پر رحم کرو، اس کو مقبوضہ علاقہ نہ بناؤ
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
2023 میں نواز شریف واپس آئے تو نصرت جاوید نے ان کے بارے میں ایک جملہ کہا تھا کہ "نواز شریف صاحب کی حالت اس بزرگ بھکاری جیسی ہے جس کو ریڑھی میں ڈال کر ان کے خاندان والے بھیک مانگ رہے ہیں".
سسٹم نے بڑا رسوا کیا ہے ۔ پی ٹی آئی کو باہر کر دیا اور نواز شریف جیسے تین بار کے وزیر اعظم کو بھٹو خاندان کے بچوں سے پھر بھی ہروا دیا ۔ مارے گئے گجریلا صاب