There is an #ESG regime in Pakistan, but companies have to do more than reporting their #sustainability and circular ecosystem practices. Right now companies don’t even want CSR to become mandatory at 1 % for profitable companies.
ESG compliance requires real transparency and commitment. While many big companies in Pakistan file standalone sustainability reports the disclosures often don’t match their practices on the shop floor. Neither the state nor the regulator has the capacity to ensure compliance or inspections. There has to be a framework of incentives for listed companies to enact ESG; as opposed to using the label as a gateway for accessing investment and markets or de-risking capital.
This is the only way they will actually comply.
One of the biggest companies with the best ESG brochure had to be shut down until they paid fines for egregious pollution to reopen. This is the reality on the ground. Compliance will only come from incentives. Hope the #SECP, #StateBankPakisyen and #Finance/ #Climate ministries are listening.
Keynote at the #ESGsummit
میری تنخواہ ایک مزدور کے برابر مقرر کی جائے اگر میر�� گزارا نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دُونگا۔
خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضہ
یوم مزدور پر اس سے بڑا پیغام کوئی نہیں۔❤️❤️
آپ سب سے گزارش ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں میری اہلیہ کے لیے خصوصی دعا کیجیے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت کاملہ عطا فرمائے ، تین سال سے بیمار ہیں، میری دو چھوٹی سی بیٹیوں کے طفیل اسے اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائے ۔آمین
ایڈمن مہر جمشید
*پہلا پارہ📖*
*اس پارے میں پانچ با��یں ہیں:*
1۔ اقسام انسان
2۔ اعجاز قرآن
3۔ قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام
4۔ احوال بنی اسرائیل
5۔ قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام
*(1)۔ اقسام انسان تین ہیں:*
مومنین ، منافقین اور کافرین۔
مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:
۱۔ ایمان بالغیب
۲۔ اقامت ��لوۃ
۳۔ انفاق
۴۔ ایمان بالکتب
۵۔ یقین بالآخرۃ
*منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں:*
جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔
اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔
*(2)۔ اعجاز قرآن:*
جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔
*(3)۔ قصۂ حضرت آدم علیہ السلام*
اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا،
فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا،
اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا،
فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا،
فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا،
شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا،
جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا
اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔
*(4)۔ احوال بنی اسرئیل:*
ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔
*(5)۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا
اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا
اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔
Copied
#موناسکندر
Reciting Surah Al-Mulk every night protects you from the punishment of the grave. Now imagine you shared this reminder and someone started acting on it—you’d be earning reward every single night they recite it too.
" أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ "
“رمضان المبارک کے گنتی کے چند دن”
اے اللہ! ان دنوں کے بدلے ہمیں ایسا اجر عطا فرما جو گنا ہی نہ جا سکے،
اور اس میں ہماری دعاؤں کو رد نہ فرمانا
آمین
#رمضان_كريم
Worship Program Over Thirty Days of Ramadan:
1. Perform the five obligatory prayers on time without delay.
2. Maintain the confirmed Sunnah prayers (which are twelve rak‘ahs) and observe them daily.
3. Duha Prayer (Forenoon Prayer)
Its time begins about fifteen minutes after sunrise and lasts until about fifteen minutes before the Dhuhr adhan.
The minimum is two rak‘ahs, and it may be prayed up to eight rak‘ahs according to one’s ability and motivation.
4. Seeking Forgiveness and Morning & Evening Adhkar
Morning adhkar are recited after Fajr prayer.
Evening adhkar are recited after ‘Asr prayer.
5. Taraweeh Prayer
For young men: perform it in the mosque with the imam.
For women: praying it at home is better.
6. Charity
Give charity every day, even if it is a small amount.
If Allah has blessed you with abundance, then give according to your means.
Remember that in reality, you are more in need of the reward of charity than the poor person is in need of it.
7. The Reward of Hajj and ‘Umrah Daily
After Fajr prayer, do not leave the mosque.
Remain there until sunrise remembering Allah and reciting the Qur’an.
You will be written as having the reward of a complete Hajj and ‘Umrah.
8. Recitation of the Noble Qur’an
For those of moderate determination: at least three juz’ daily (three complete readings in the month).
For beginners or those who are busy: at least one juz’ daily.
9. Supplication (Du‘a), especially this supplication:
“O Allah, You are Most Forgiving, You love forgiveness, so forgive me.”
Among the best times for supplication:
Half an hour before iftar,
An hour before Fajr,
And the last hour after ‘Asr on Friday.
10. Tahajjud and Qiyam al-Layl Daily
In the last third of the night (the time of divine mercy descending),
Ask Allah for whatever you wish, and be among those who stand in Laylat al-Qadr with faith and seeking reward.
Do not forget to maintain family ties, even with a phone call, so that Allah places blessing in your life.
And please remember me in your prayers 🤲🏻🤍
Allahumma inni a'udhu bika min zawali ni'matika, wa tahawwuli‘afiyatika,wa fuja'ati niqmatika, wa jami'i sakhatika.OAllah! Iseek refuge inYou from the decline ofYour blessings, the removal of our state of well-being, the sudden onset of Your punishment,and from all that displzU
O Allah! I seek refuge in You from the decline of Your blessings, the removal of our state of well-being, the sudden onset of Your punishment and from all that displeases you
سورہ العادیات کا مطالعہ
آج کے حالات کی روشنی میں دیکھیں
بلال شوکت آزاد
انسانی شعور کی ارتقائی تاریخ اور جدید نفسیات (Modern Psychology) کے میدان میں جب ہم ”وفاداری“ (Loyalty) اور ”احسان فراموشی“ (Ingratitude) کے مابین تقابل کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں انسان وہ واحد اور عجیب الخلقت مخلوق ہے جو اپنے خالق کا سب سے زیادہ کھاتا ہے، اس کے دیے ہوئے وسائل پر زندہ رہتا ہے، مگر سب سے زیادہ اسی کا شکوہ کرتا ہے۔
قرآن مجید کے تیسویں پارے کی یہ مختصر مگر بارود کی طرح بھری ہوئی اور انتہائی تیز رفتار (High Octane) سورت، ”سورہ العادیات“، محض جنگی گھوڑوں کی قسم نہیں ہے، بلکہ یہ ”کمپریٹیو سائیکالوجی“ (Comparative Psychology) کا وہ نادر شاہکار ہے جو ایک بے زبان جانور (گھوڑے) کی اپنے معمولی مالک کے ساتھ وفاداری کو بنیاد ب��ا کر اشرف المخلوقات (انسان) کی اپنے رب کے ساتھ غداری پر ایسا زور��ار طمانچہ مارتی ہے کہ انسانی ضمیر لہولہان ہو جاتا ہے۔
یہ سورت ایک ”ہالی ووڈ ایکشن مووی“ کے کلائمیکس کی طرح شروع ہوتی ہے، جہاں دھول ہے، آگ ہے، شور ہے، ٹاپوں کی آواز ہے اور پھر اچانک کیمرہ انسان کے ”باطن“ (Inner Self) کی طرف گھوم جاتا ہے اور اس کی اخلاقی حیثیت کو ننگا کر دیتا ہے۔
اس سورت کا مرکزی موضوع انسان کا ”کُنُود“ (ناشکرا) ہونا اور دولت کی ہوس میں اندھا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ایک عجیب اور نفسیاتی اسلوب اختیار کیا؛ پہلے پانچ آیات میں جانور کی اطاعت اور قربانی کا نقشہ کھینچا اور پھر انسان کی نافرمانی پر اسے شرمندہ کیا۔
سورت کا آغاز کسی تمہید کے بغ��ر، ایک انتہائی ڈرامائی، پرجوش اور ”وار زون“ (War Zone) کے منظر نامے سے ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو جنگ کے میدان میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے مالک کے اشارے پر موت کے منہ میں کود پڑتے ہیں۔
اللہ فرماتا ہے:
”وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا “
(ترجمہ: قسم ہے ان گھوڑوں کی جو (تیز رفتاری کے سبب) ہانپتے ہوئے اور پھنکارتے ہوئے دوڑتے ہیں [العادیات: 1])
یہ آیت عربی بلاغت اور صوتیات (Acoustics) کا معجزہ ہے۔ لفظ ”ضَبْحًا“ (Dabhan) اس خاص، بھاری اور ہولناک آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے سینے سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ اپنی پوری طاقت (Full Throttle) سے دوڑ رہا ہوتا ہے اور اس کا سانس پھول جاتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے اس منظر کا! ایک جانور ہے، جس کے سامنے تیر ہیں، تلواریں ہیں، نیزے ہیں اور یقینی موت ہے، لیکن وہ ہانپتے ہوئے بھی رک نہیں رہا، وہ پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
کیوں؟
کیا اسے کوئی تمغہ ملنا ہے؟
کیا اسے کوئی سلطنت ملنی ہے؟
نہیں۔
وہ صرف اس لیے دوڑ رہا ہے کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک اسے ایڑ لگا رہا ہے۔ وہ اپنے مالک کی منشا کے لیے اپنے پھیپھڑوں کو پھلا دیتا ہے۔ یہ گھوڑا ہمیں بتا رہا ہے کہ ”وفاداری“ اسے کہتے ہیں کہ جب حکم آ جائے تو پھر سانس پھولنے کا عذر پیش نہ کیا جائے، بس دوڑ پڑا جائے۔
اس کے بعد منظر میں مزید شدت آتی ہے:
”فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا “
(ترجمہ: پھر جو (اپنے سم) پتھروں پر مار کر (ان سے) آگ کی چنگاریاں نکالتے ہیں [العادیات: 2])
یہاں جدید ”تھرمو ڈائنامکس“ (Thermodynamics) اور فزکس کا اصول کارفرما ہے۔ لفظ ”الْمُورِيَاتِ“ کا مطلب ہے آگ نکالنے والے، اور ”قَدْحًا“ کا مطلب ہے رگڑ یا ٹکراؤ۔
جب گھوڑا پوری رفتار میں ہوتا ہے تو اس کے سموں (Hooves) میں موجود ”کائنیٹک انرجی“ (Kinetic Energy) جب پتھریلی زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ ”تھرمل انرجی“ (Thermal Energy) میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے چنگاریاں (Sparks) نکلتی ہیں۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ یہ کوئی عام چہل قدمی نہیں ہے، بلکہ یہ ”ایکسٹریم ایکشن“ (Extreme Action) ہے۔ گھوڑا اپنی توانائی کو اس حد تک نچوڑ دیتا ہے کہ زمین سے آگ نکلنے لگتی ہے۔ یہ استعارہ ہے اس محنت اور جدو��ہد کا جو ایک وفادار اپنے مشن کے لیے کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی جنگی حکمت عملی (Military Strategy) بیان کرتا ہے:
”فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا “
(ترجمہ: پھر جو صبح سویرے (دشمن پر) اچانک چھاپہ مارتے ہیں [العادیات: 3])
یہ ”سرپرائز اٹیک“ (Surprise Attack) یا ”Pre-emptive Strike“ کی قدیم ترین اور مؤثر ترین شکل ہے۔ عربوں کا دستور تھا کہ وہ رات بھر سفر کرتے اور صبح کے دھندلکے میں، جب دشمن غافل سو رہا ہوتا، اس پر حملہ کرتے۔ ”الْمُغِيرَاتِ“ کا لفظ ”غارت گری“ سے ہے، یعنی ٹوٹ پڑنا۔ گھوڑے رات بھر کے سفر سے تھکے ہوئے ہیں، لیکن جیسے ہی صبح ہوتی ہے، وہ آرام کرنے کے بجائے مالک کے اشارے پر دشمن پر جھ��ٹ پڑتے ہیں۔ یہ ”اطاعت“ (Obedience) کا وہ معیار ہے جہاں تھکاوٹ کا کوئی گزر نہیں۔
اس حملے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟
👇
O Allah! I seek refuge in You from the decline of Your blessings, the removal of our state of well-being, the sudden onset of Your punishment and from all that displeases you
Secretary @MoIB_Official Ashfaq Ahmad Khalil has reiterated commitment to make @RadioPakistan more vibrant, dignified and stable national institution through administrative transparency, professionalism and modern reforms
#RadioPakistan#news
https://t.co/DiudJabySK