یہ صرف جاہل نہیں بلکہ جاہلیت کے اعلی رتبے پر ہیں - یعنی 8,483 روپے ماہانہ اور روزانہ 282 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے؟ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیئے اور غربت ختم کرنے کا دعوی کرنے کے لیئے ایک بیہودہ ترین فارمولہ لگا دیا ہے- انہتائی افسوسناک اور شرمناک
صرف 24 سیٹ ہیں اور ابھی تک نتائج کا اعلان نہیں کیا جا سکا - 2026 چل رہا ہے اور پوری دنیا ٹیکنالوجی اور AI سے گھںنٹوں کے کام منٹوں میں کر رہی ہے مگر ہم 1990 میں پھنسے ہوئے ہیں.
پتہ نہیں رزلٹ لکھنے والا زیادہ سست ہے یا لکھوانے والا پریشان ہے 🤦♂️
ایک ٹاؤٹ کا کل ٹاسک یہ ہے کہ وہ ن لیگ کے حفیظ الرحمان کو سوشل میڈیا پر جتوا دے بس ،
جتنے مرضی جعلی رزلٹ شیئر کریں ، سب جانتے ہیں کہ جو کچھ شریف خاندان نے پاکستان کے ساتھ کر چھوڑا ہے ،اس کے بعد جس کی رگوں میں 33 فیصد بھی حب الوطنی ہے وہ ن لیگ کو ووٹ نہیں دے سکتا ۔
ناروے میں 55 پرسنٹ ٹیکس ہے اور وہاں آپ کے کفن دفن تک کا انتظام کیا جاتا ہے ، بچوں کو وظیفے دیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں 68 پرسنٹ ٹیکس ریٹ ہے لیکن یہاں صرف بدلے میں سرکار جوتے ہی مارتی ہے اور جعلی پرچے ہی کاٹتی ہے،
مبین عارف جٹ
نواز شریف کے حلقے کی عذداری کا فیصلہ اس بنیاد پر ہوا کہ ڈاکٹریاسمین کے دستخط ٹھیک نہیں ہوئےاس لیے نواز شریف کا پورا الیکشن درست ہوگیا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمان نے کراچی سے سیٹ چھوڑ کر گواہی دی کہ یہاں سے میں نے تحریک انصاف والے جیتے ہیں ۔ گجرات سے ن لیگ کے عابدرضا کوٹلہ نے کہا ہم نہیں جیتے لیکن جن ق لیگ والوں کو جتوایا گیا ہے وہ بھی نہیں جیتے ہوئے کیونکہ اصل میں تحریک انصاف جیتی ہے
یہ ہے فارم 45 47 عذرداریوں کی حقیقت !
پانچ جون کو بجٹ آ جاتا تو گلگت بلتستان کے سات جون کے الیکشن کا نتیجہ بھی اسی وقت آ جاتا، اسی لئیے بجٹ کا اعلان ملتوی کیا گیا۔ نوازُشریف اور بلاول بھٹو کی انتخابی تقریریں اور ایک دوسرے پر تنقید ایک نورا کُشتی سے زیادہ کچھ نہیں جس میں اصل تیسرے فریق کو میدان میں اترنے ہی نہیں دیا جا رہا۔ کیا گلگت بلتستان کی عوام چلے ہوئے کارتوسوں کو پھر آزمائے گی؟
آج تین دفعہ کے وزیراعظم اور چار سال سے وفاق میں one page کے اقتدار کے مزے لینے والے نواز شریف صاحب نے گلگت میں تقریر نہیں کی بلکہ قوم کے اجتماعی شعور کو تازیانے مارے ہیں، یہ 2026 اور انٹرنیٹ، AI کا زمانہ ہے، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس دور میں بھی کوئی سیاستدان اتنی دیدہ دلیری، تسلسل، ثابت قدمی اور ڈھٹائی سے عوام کو بیوقوف بنا سکتا ہے؟ الیکشن میں دونوں جماعتوں کے سیاسی قائدین کی منافقت اور جھوٹ سے لبریز تقریریں سنیں تو لگتا ہے کہ یہ سیاستدان نہیں بلکہ مداری ہیں جو جلسوں میں لائے گئے عوام سے کہتے ہیں، “بچہ جمہورا گھوم جا” اور وہ گھوم جاتا ہے، یار کوئی حد ہوتی ہی بیوقوف بنانے اور جھوٹ بولنے کی۔ یہ کتنے معصوم چہرے بنا کر ووٹ لینے کیلئے ہر پانچ سال بعد بیس سال پرانی تقریر اٹھا کر ورغلانے، بہلانے اور پھسلانے آ جاتے ہیں۔
ٹی وی چینلز آج کے پی میں فاروڈ بلاک کی فیک خبر کو پاکستان کا سب سے بڑا ایشو بنا کر پیش کریں گے ،
یہ نہیں بتائیں گے کہ موجودہ نظام نے پچھلے چار برس میں معاشی محاذ پر عوام کے ساتھ کیا کچھ کیا ہے اور آنے والے بجٹ میں عوام کے لیے پچھلے چار سال سے زیادہ تباہ کن خبریں ہیں