ڈی جی ISPR کو اب فوجی ترجمان کی بجائے نون لیگی ترجمان کہا جائے توغلط نہیں ہو گا
کیونکہ اس کی پریس کانفرنس تحریک انصاف سے شروع ہو کر تحریک انصاف پر ختم ہوتی ہے
نہ الفاظ میں کوئی پروفیشنلزم دکھتا ہے، نہ انداز میں اور نہ ہی content یعنی مواد میں
دہشتگردی جیسے اہم موضوع کو مسلسل سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کر کے مذاق بنا دیا ہے
پنجاب پولیس کے غنڈوں کی عمران خان صاحب کی بہنوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ خود کو فرعون سمجھنے والے مرد سے مقابلہ نہیں کر پا رہے تو گھر کی عورتوں پر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان صاحب کی اہلیہ پر بھی گھٹیا ترین الزامات لگا کر حملہ آور ہو چُکے ہیں۔ یہ سب بزدلی اور بغیرتی کی اعلیٰ مثال ہے۔
آج ایک صوبائی و��یر مینا خان پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔ قومی اسمبلی کے رُکن شاہد خٹک اور باقی صوبائی و قومی اسمبلی ممبران کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ مُلک میں جمہوریت اور آئین و قانون کا جنازہ نکل چُکا ہے۔
یاد رکھنا کہ یہ سب لکھا جا رہا ہے۔ پھر نا کوئی عورت کارڈ کام آئےگا، نا جمہوری اقدار اور نا ہی اخلاقیات۔ اب یہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے اور حالات کو زبردستی اُس طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔