لانگ مارچ کی وجہ ختم کیے بغیر اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ غیر سنجیدہ لگتا ہے کسی سیاسی جماعت یا کسی کو دیوار سے لگانے والے طاقت کے نشے میں مست یہ جاننے سے بھی قاصر ہیں کہ ظالم اور نا انصافی کے خلاف پر امن احتجاج کا حق ہر کسی کو آئین نے ہی دیا ہے
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
پاکستان کے 28 لاکھ پروفیشنل ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں، Brain Drain ہو چکا ہے لیکن ان کے بقول تو یہ Brain Export ہے کہ ہم قیمتی چیزیں ایکسپورٹ کرتے ہیں،
وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی
لگتا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیا گیا سیٹ اپ ملک میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا سانحہ کروانا چاہتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیشنل میڈیا اس ڈرٹی گیم میں اُن کا ساتھ دے رہا ہے۔
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟
ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی ماشاءاللہ انتہائی باصلاحیت اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔ وفاق کا ادارہ HIT صوبائی حکومت سے رقم وصول ہونے کے باجود جان بوجھ کر سامان کی فراہمی کو سست روی کا شکار کر رہا ہے۔
جو اسلحہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دیا گیا ہے وہ مفت میں نہیں بلکہ پیسے دے کر وصول کیا گیا ہے۔ باقی سامان پیسے لینے کے باوجود نہیں دیا جا رہا۔
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا، وزیراعلی
پشاور: ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، وزیراعلیٰ
پشاور: ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، وزیراعلیٰ
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں، وزیراعلی
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
پشاور: پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، وزیراعلی
پشاور: پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعلی
پشاور: صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور: خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور: ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، وزیراعلیٰ
پشاور: کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں، سہیل آفریدی
پشاور: ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، وزیراعلی
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، وزیراعلی
پشاور: ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، وزیراعلیٰ
پشاور: گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، وزیراعلیٰ
پشاور: وفاق اپنی پالیسی تبدیل کریں اور پالیسی شفٹ لائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
ایک پیکا وہ ہے جو قانون بنایا گیا ہے اور دوسرا پیکا وہ ہے جو بغیر قانون کے ہے جو روز TV چینلز پر اپلائی ہوتا ہے کہ عمران خان کا نام نہیں لینا بانی پی ٹی آئی کہنا ہے ۔
صحافی شہزاد اقبال
خیبر پختونخوا کے عوامی نمائندوں اور صوبائی قیادت پر بلیک آؤٹ اور میڈیا سنسرشپ جمہوری اقدار اور آزادیِ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے۔ عوامی آواز کو دبانے اور صوبے کی قیادت کو دیوار سے لگانے کی تمام تر ناکام کوششوں کے باوجود سچ کو نہیں چھپایا جا سکتا۔
🛑سہیل آفریدی 🛑
یہ جو ہمیشہ بوٹ چاٹ کر اقتدار میں آتے ہیں یہ لوگ مجھے بتائیں گے کہ عوامی محبت کیا ہوتی ہے؟ یہ جو کبھی سپریم کورٹ پر چڑھائی کرتے ہیں کبھی جلسوں میں فوج کو دہشت گرد کہتے ہیں یہ مجھے بتائیں گے کہ اداروں کی عزت کیا ہوتی ہے؟ 🔥