🎨 PiArt for the Future!
Pi is not just a coin, it's building a whole Web3 ecosystem for millions of people worldwide 🌍
From easy mining on phone to real use cases in Pi Ecosystem apps - the future is bright!
Proud to be a Pioneer 💜
#PiNetwork#PiArt#PiEcosystem#Web3
🔴 دبئی پولیس نے یورپی سیاحوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں، جنہوں نے کھانے کے دوران ایک مسلمان جوڑے کا مذاق اڑایا اور ان کی ویڈیو بنائی۔
دونوں یورپی سیاحوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سید رفعت سلطانہ۔۔۔۔۔۔
ایک روپے والی مائی
جیتے جی کوئی ایک روپیہ بھی نہ دیتا تھا
مر گئی تو شہر بھر کو چھٹی دے دی۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کا تعلق ایک پڑھے لکھے، کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ لندن اور جرمنی میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں آ کر ڈاکٹر کی خدمت کے فرائض انجام دئیے۔ محبت میں پڑ گئیں تو ایک ڈاکٹر سے شادی کر لی۔
ڈاکٹر صاحب نے جلد ہی ایک اور شادی کر لی۔ بات بے وفائی تک تو ٹھیک تھی مگر، اس نے اپنی بیوی ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کی ساری جائیداد دھوکے سے اپنے نام کر لی، اسے گھر سے نکال دیا۔ حساس دل و دماغ کی مالک سیدہ رفعت ذہنی توازن کھو بیٹھی، واہ کینٹ کے گلیوں میں بھٹکتی رہی۔
رفعت بی بی کو کسی چیز کی کمی نہیں تھی سواے محبت کے مگر، ڈاکٹر صاحب سے انہیں وہ بھی نہ ملی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی دوسری بیوی کو لے کے یورپ شفٹ ھو گئے۔ رفعت سلطانہ کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ پھر ایک دن خط موصول ہوا، ڈاکٹر سیدہ رفعت سلطانہ کو طلاق مل گئی۔ اسے کہا گیا: " میں تمہیں اتنا کنگال کر آیا ہوں کہ اب تم ایک روپے کو بھی ترسو گی"
راولپنڈی سے قریب 28 کلومیٹرز دور واہ کینٹ میں رفعت سلطانہ کو بھیک مانگتے دیکھا گیا۔ زندگی کے تقریباََ 20 سال بھیک مانگتے دیکھا گیا۔ مرحومہ کی ایک ہی صدا ہوتی تھی:
" ایک روپہ دے دیں۔
دوسری صدا لگتی
پلیز گیو می ون روپی"
اگر کوئی 5 روپے دیتا، مرحومہ 4 روپے نکال کے واپس کر دیتی اور بولتی:
" بسس، ایک روپیہ ہی چاھئیے"
2016 کو ایک دن ایک روپے والی مائی انتقال کر گئی۔ شہر کے سکولز کو چھٹی دے دی گئی، دکانیں بند کر دی گئیں۔
پروٹوکول ایسا تھا کہ مرحومہ پی او ایف ہوٹل میں بھی چائے پینے چلی جاتی، کوئی اس سے پیسے نہیں لیتا تھا۔