@urdu_bazm یہ دل کہ جو پہلے
اک کیف کا مسکن تھا
مہکے ہوۓ خوابوں کا
اُمید کے گلابوں کا
مہکا ہوا گلشن تھا
یہ دل کہ اب برسوں سے
اک کرب کی بستی ہے
جس پر تیرے ہجر کی
درد بھری گھٹا
ہر آن برستی ہے
ان آنکھوں میں پہلے
تیری دید سے سیراب
دمکتے ستارے تھے
آسودہ اشارے تھ
#اردو@urdu_bazm