کربلا میں جب ہر طرف خاموشی تھی، تب ایک آواز اٹھی جو ظلم کے ایوانوں کو ہلا گئی۔ وہ آواز بی بی زینبؑ کی تھی۔ بھائی کا لاشہ دیکھا، جوانوں کی شہادت دیکھی، بچوں کی پیاس دیکھی، اسیری برداشت کی، مگر حق کا عَلَم جھکنے نہ دیا۔ اگر عاشورا قربانی کا نام ہے تو شامِ غریباں سے دربارِ شام تک زینبؑ صبر، عزت اور حق کی ترجمان ہیں۔ سلام ہو اُس بہن پر جس نے شہادت کے پیغام کو قیامت تک زندہ کر دیا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: حق تلاوت ادا کرنے والے لوگ وہ ہیں جو آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اس کی تنبیہوں سے خائف رہتے ہیں۔ اس کے قصوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں اس کے اوامر کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کے نواہی سے باز رہتے رہتے ہیں
@mirza40@Aaqib_Mansuri1 میرے بھائ میں نے کوئ بحث کری اور نا کرنے کا عادی ہوں اور ان لوگوں سے تو بالکل نہیں جو ہوا میں بات کریں بالکل احترام قائم رہے خوش رہیں کوئ بات بری لگی ہو تو دوبارہ معزرت کوشش کیا کریں بات دلائل کے ساتھ ہو
اللہ خوش رکھے آپکو۔
سورۃ الأحزاب، آیت 33
عربی متن:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
ترجمہ:
"اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی (رجس) کو دور رکھے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ کر دے۔"
بالکل درست، قرآن کا اصول یہی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾
"کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"
(سورۃ الانعام: 164، نیز سورۃ الاسراء: 15، سورۃ فاطر: 18، سورۃ الزمر: 7)
لیکن یہی قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ بعض خاندانوں، افراد اور اہلِ ایمان کو خاص فضیلت بھی عطا فرماتا ہے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾
"بے شک اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہانوں پر برگزیدہ فرمایا۔"
(سورۃ آل عمران: 33)
عبداللہ خالد صاحب۔۔
اہلِ بیتؑ کا مقام ہمارے جذبات سے نہیں، قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
"اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا فرمائے۔"
(سورۃ الاحزاب، آیت 33)
اس آیت کی عملی تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امام علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین کو چادر میں جمع فرمایا اور دعا کی:
"اللهم هؤلاء أهل بيتي، فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرًا"
جب ام سلمہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟"
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"أنتِ على خير"
"تم خیر پر ہو۔"
اہلِ سنت کی معتبر کتب کے حوالے:
1. Sahih Muslim، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2424
2. Jami' al-Tirmidhi، حدیث 3205 (امام ترمذی: حسن صحیح)
3. Musnad Ahmad ibn Hanbal، حدیث 26689 (بعض طبعات میں مختلف نمبر)
4. Al-Mustadrak ala al-Sahihayn، حدیث 4705 (امام حاکم نے صحیح کہا، امام ذہبی نے موافقت کی)
5. Sunan al-Kubra، حدیث 8365
6. Khasa'is Ali، حدیث 79
لہٰذا اہلِ بیتؑ کا تعارف کسی فرد یا مسلک نے نہیں، بلکہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا ہے۔ ان سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اور ان کے مقام کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔
شکریہ
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
عَظَّمَ اللّٰهُ أُجُورَنَا وَأُجُورَكُمْ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امت مسلمہ نے بڑا نقصان دیا کے عترت اہل بیت ع اجڑ گئے
10 محرم الحرام / روزِ عاشورہ / شہادتِ مظلومِ کربلا، امام حسین علیہ السلام
انتہائی افسردہ دل اور روتی آنکھوں کے ساتھ، آپ تمام عزاداران کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
کاش ہر عالمِ دین، علامہ عارف حسین کی طرح اپنے سن نے والوں کی فکری اور عملی تربیت پر محنت کرے،
خدارا اپنی قوم کو توہم پرستی اور شرک سے بچائیں، اور کربلا کے حقیقی مقصد کو پہچانیں۔ شبیہات بنانا اپنی جگہ ایک الگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن انہیں اصل سمجھ لینا، ان سے امیدیں وابستہ کرنا یا ان کے بارے میں وہ عقائد رکھنا جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہیں، شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ امام حسینؑ کی تعلیم ہمیں توحید، شعور، حق اور اصلاحِ امت کا درس دیتی ہے، نہ کہ بے بنیاد عقائد اور توہم پرستی کا۔
دیارِ حُسن میں تجدیدِ عاشقی کے لیے
ہم ایسے لوگ ضروری ہیں ہر صدی کے لیے
گھٹے تو جہلِ مرکب ، بڑھے تو کربِ حیات
یہ آگہی بھی مصیبت ہے آدمی کے لیے
کنارِ نہر بنفشے کی جھاڑیوں کے قریب
وہ سوگوار کھڑی تھی اک اجنبی کے لیے
علامہ طالب جوہری
علم، ٹیکنالوجی اور ترقی انسان کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ ایمان، عدل، عاجزی اور حق کو قبول کرنا انسان کی اصل عظمت ہے۔ جب علم کے ساتھ تکبر آ جائے تو وہ نجات نہیں دیتا، اور جب علم کے ساتھ عاجزی ہو تو وہ انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
قرآن بھی مصر کی طاقت، فرعون کے غرور اور اس کی سرکشی کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کی ہلاکت کی اصل وجہ اس کی انجینئرنگ نہیں بلکہ اس کا تکبر، ظلم اور اللہ کے رسول کی تکذیب تھی۔
حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات یہودی تقویم کے مہینے نِیسان (Nisan) میں ملی تھی۔ اسی مہینے میں خروجِ مصر (Exodus) ہوا، اور اسی کے بعد بحر شق ہوا اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوا۔
11 تموز سال 5786
دن: جمعہ
مہینہ: تموز
تاریخ: 11
سوچا سائنسدانرں کو بتا دوں
ایک درد بھری گزارش...
خدارا! جلوسِ امام حسینؑ میں ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے مکتبِ اہلِ بیتؑ کا وقار مجروح ہو یا ہمارے علماء کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔
یہ کسی شخصیت، جماعت یا رسم کا جلوس نہیں، یہ اس مظلوم کا جلوس ہے جس نے انسانیت، حیا، نماز، حق اور عزتِ دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ پردے کا خصوصی اہتمام کریں، کیونکہ حیا بھی اہلِ بیتؑ کی میراث ہے۔ ہمارے نوجوان بھی اپنے اخلاق، زبان، لباس اور طرزِ عمل سے یہ ثابت کریں کہ وہ واقعی حسینی ہیں۔
علماءِ کرام، ذاکرین اور منتظمین سے بھی عاجزانہ گزارش ہے کہ صرف مجالس اور جلوسوں کا انتظام ہی نہیں، بلکہ قوم کی تربیت بھی فرمائیں۔ جن اعمال کی تعلیم اہلِ بیتؑ نے نہیں دی، ان سے محبت، حکمت اور دلیل کے ساتھ روکیں۔
یاد رکھیں! امام حسینؑ کو ہمارے شور سے زیادہ ہمارے شعور کی ضرورت ہے، ہمارے نعروں سے زیادہ ہمارے کردار کی، اور ہمارے آنسوؤں سے زیادہ ہمارے تقویٰ کی۔
خدا نہ کرے کہ قیامت کے دن وہی ہستیاں، جن کے غم میں ہم عزاداری کرتے ہیں، ہمارے اعمال سے ناراض ہوں۔ آئیے اس محرم یہ عہد کریں کہ ہم صرف عزادار نہیں، بلکہ سچے حسینی بنیں گے۔
ہر وہ عمل جو ہمیں حسینؑ سے دور کرے، اسے چھوڑ دیں، اور ہر وہ عمل جو ہمیں حسینؑ کے اخلاق کے قریب کرے، اسے اپنا لیں۔