شہادت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت تاریخ کا غمناک واقعہ ہے۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میدان کربلا میں تمام تر امتحانات بڑی استقامت اور شجاعت سے پاس کیے۔ دین کی سربلندی کی خاطر آپ رضی اللہ عنہ کا جانبِ کربلا نکلنا اور باطل سے کوئی سمجھوتہ نہ کر کے اپنی جان اللہ کے سپرد کر دینا اس وقت کا عظیم ترین کردار ہے۔
جیو نیوز نے سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے بنا کر توہینِ رسالت کی یے۔ ان کی طرف سے کی جانے والی وضاحت شرعی اصولوں کے مطابق مسترد ہے۔ ذمہ داران کے خلاف 295C کے مطابق کاروائی کی جائے۔
نبوی انقلاب نے ”خَطّاب“ کے بیٹے کو ”فاروق اعظم“ بنا دیا۔ باطل قوتیں آج بھی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ڈرتی ہیں۔ سب سے زیادہ اسلامی فتوحات کا سہرا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے سر ہے۔ دشمن بھی آپ رضی اللہ عنہ کے نظام عدل کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔
محرم الحرام میں ذکر اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم حق پرستوں کا شعار ہے مگر اس کی آڑ میں ازواج مطہرات، خلفاء ثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں توہین آمیز کلمات بولنا اہل جہنم کا طریقہ ہے۔
پاکستان کی ترقی کے لیے پاکستان سے گستاخانہ کلچر کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔ آئے روز ہونے والے توہین کے واقعات ملکی اداروں، حکومت اور ہم سب کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔ گستاخانہ مواد کے خاتمے کے لیے اور سوشل میڈیا سے اس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا
ایک رفیقِ دیرینہ کی جُدائی
ٌایک محدث، فقیہ اور صوفی حضرت مولانا مفتی محمد الیاس رضوی رحمۃ اللہ علیہ بانی و مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ نضرۃ العلوم کراچی آج اس دَارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
🔴 بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر جب امریکہ–ایران جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تو نیوز اینکر آپے سے باہر ہو گیا:
“پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو روک دیا۔ یہ دنیا کو ہلا دینے والا ایک بڑا قدم ہے۔”
جنت البقیع اور جنت معلی کے انہدام سے شروع ہونے والی نام نہاد تحریک کے اثرات بد سے آج مسجد اقصیٰ جیسے شعائر اسلام کا تحفظ مشکل ہو چکا ہے۔ اہل بیت اطہار اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے مزارات کو مسمار کرنے والی سوچ سے دہشت گرد قوتوں نے جنم لیا۔ جس کے نتیجے میں دنیا میں دہشت گردی پھیلی۔
🔴 استنبول دنیا کا واحد شہر ہے جو دو براعظموں—یورپ اور ایشیا—میں پھیلا ہوا ہے۔
ابتدائی طور پر اس کا نام بازنطین تھا اور بعد میں قسطنطنیہ کہلایا۔ یہ شہر 1500 سال سے زیادہ عرصے تک سلطنتوں کا دارالحکومت رہا ہے۔
مسئلہ فلسطین کا بذریعہ ٹرمپ حل کبھی دیرپا نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل کی سنگین خلاف ورزی پر ٹرمپ کیوں خاموش ہے؟ سیز فائر اور امن معاہدے کے بعد اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔ اسرائیل معاہدے کی 47 بار خلاف ورزی کر چکا ہے