سفارت خانہ پاکستان جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درخواست اور تاکید کرتا ہے کہ وہ جاپانی قوانین کی تمام معاملات میں مکمل طور پر پاسداری کریں، خصوصی طور پر عبادت گاہوں کی تعمیر کے سلسلے میں۔ کوئی بھی تعمیری منصوبہ مقامی حکومتوں کے اجازت ناموں کے حاصل کرنے کے بعد ہی شروع کیا جا سکتا ہے۔ سفارت خانہ پاکستان کا ایسے تمام منصوبوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، خاص طور پر جو مقامی حکومتوں کے قوانین کے مطابق نہ ہوں۔ اس میں 3اپریل 2026ء کو کاواگوئے میں ہونے والی وہ تقریب بھی شامل ہے جس میں سفیر پاکستان نے ان معلومات کی بنیاد پر دعوت نامہ قبول کیا تھا کہ وہاں جاپانی قانون کے مطابق سارے اجازت نامے حاصل کر لئے گئے تھے۔ ایسے تمام منصوبوں کے قانونی پہلوؤں کے بارے میں معلومات کمیونٹی کے سارے ارکان کو بتائی جانی چاہئے اور اس علاقے کے رہائشیوں کو بھی۔ سفارت خانہ پاکستان کمیو نٹی کے تمام متعلقہ ارکان سے پْرزور درخواست کرتا ہے کہ جاپانی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور جاپانی قوانین پر ہر حال میں عملدرآمد کریں، خصوصی طور پر اس طرح کے منصوبوں کے سلسلے میں۔
駐日パキスタン大使館は、在日パキスタン人全員に対しモスクの建設を含むあらゆる事項において、日本の法律を遵守するよう強く求めます。いかなる建設物も地方自治体から必要な許認可を得た後にのみ着手することが不可欠です。
駐日パキスタン大使館は、各自治体の法律、条例に準拠していないすべてのプロジェクトとは一切関係がありません。これは2026年4月3日に川越で開催されたイベントも含まれます。
大使は本イベントにおいて、
この建物は日本の法律で定められた全ての許認可取得済と説明を受けた上で招待を受諾しました。このようなプロジェクトの法律遵守に関する情報は、在日パキスタン人および近隣住民すべてに透明性をもって共有されるべきです。また計画段階及び事後においても、日本の法律と規則はあらゆる場合において遵守されなければなりません。
駐日パキスタン大使館は、全ての在日パキスタン人に対し、あらゆる状況、特に上記のような件において、日本の法律遵守に関して日本の役所に速やかに協力するよう求めます。