ایران نیا علاقائی سیکیورٹی ڈھانچہ عربوں اور ترکوں کو پیش کر رہا ہے جس میں پاکستان کا نام نہیں۔
جنگ کے دوران قطر نے ایرانی حملے روکنے کیلئے ایرانی پاسداران انقلاب کے کچھ ترجمان الجزیرہ ٹی وی پر بٹھادیئے ہیں۔ یہ دعوی عرب سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا ہے اور اس پر عرب دانشوروں میں تشویش ہے کیونکہ پاسداران کے ترجمان الجزیرہ کے ذریعے عرب نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ شاید اسی لئے الجزیرہ نے فے الحال ایک ایرانی ترجمان کو سکرین سے ہٹا دیا ہے۔ انکا نام ہے حسن احمدیان اور انکا تعارف کالج پروفیسور کے طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر انہیں پاسداران انقلاب کا خفیہ آفیسر کہا جاتا ہے۔ الجزیرہ اپنے سوشل میڈیا پر انکے کلپس اب لگا رہا ہے۔ اور اس کلپ موصوف بتا رہے ہیں کہ ایران، عربوں اور ترکیا کو ایک نیا علاقائی سیکیورٹی سسٹم کی آفر کررہا ہے جس میں ایران، ترکیا، اور عرب ممالک خطے کے معاملات دیکھیں گے۔
میری نظر میں یہ بات آئی کہ اس میں پاکستان کا نام نہیں ہے۔
اس پر مجھے حیرانی نہیں۔
1979 کے بعد سے خمینیت نظام کا ہدف یہ رہا ہے کہ مشرق وسطی کے معاملات سے پاکستان کو نکالا جائے۔ اور اس ہدف کیلئے ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ ملکر کام کیا ہے۔ اس میں کچھ ہماری اپنی غلطیاں ہیں جن کی وجہ سے بھارت اور ایران ہمیں مشرق وسطی میں ہمارے جائز مفادات کی پیروی کرنے سے روکتے رہے۔
لیکن امریکیوں اور سعودیوں کا شکریہ -- اور ان سے پہلے ڈیفینس چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ -- کہ انہوں نے پاکستان کو بڑے دروازے سے واپس مشرق وسطی کے معاملات میں لا کر بٹھا دیا۔ اس بات سے بہت سے ممالک خوش نہیں۔ بلکہ حد تو یہ ہو گئی کہ ایران اور بھارت پاکستانی ثالثی کا انتظار کرنے لگے کی اسکے ذریعے ایرانی نظام بچ جائے اور اسکے مالی معاملات ٹھیک ہو جائیں، اور چابھار پھر چل پڑے۔
افغانیوں پر دو عالمی طاقتوں نے حملے کئے، ہم نے ان کو پناہ دی، کھانا دیا، ان کی سمگلنگ برداشت کی، اپنے زرمبادلہ سے ان کی ضروریات امپورٹ کرتے، ان کو فراہم کر دیتے اور یہ ہماری دی گئی اشیا پاکستان میں ہی واپس سمگل کرکے ہماری معیشت کا رگڑا نکال دیتے، ان کی تین نسلیں پالیں، ملا ہبت اللہ اور یعقوب عمری اسکی زندہ مثالیں ہیں۔ لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کررہے ہیں آپ کے سامنے ہے۔
اب ہم نے عادت سے مجبور ہو کر ایک مرتبہ پھر دوسرے مسلمان ہمسائے ایران کی ایک مدد کر ڈالی ہے، اسکو کامل تباہی سے بچایا، اندر خانے کیل کانٹا بھی فراہم کیا،پچاس سال سے اس کی ضرورت کی اشیا درآمد کرکے اسے ایران سمگل کرواتے رہے ہیں جس سے ہمارا تجارتی توازن کبھی سنبھل ہی نہیں پایا، حتی کہ اسرائیل نے جب ایران پر ایٹم بم مارنے لگا تو ہم تن کے کھڑے ہو گئے اور جواب میں ایٹم بم مارنے کی دھمکی بھی بھجوادی۔
اس نیکی کے بعد اندر سے اب ہم ڈاہڈے یرکے ہوئے ہیں کہ افغانیوں کی طرح اب ایران سے زینبیون اور فاطمیوں کے خود کش بھیجنے شروع کر دئیے یا ان کے پاکستان میں موجود سلیپر سیل ایکٹو کر دئیے تو ہم کیا کر لیں گے؟
میں تو اندر سے ڈاہڈا یرکا ہوا ہوں۔
تسی دسو
پاکستانی عوام کا نمائندہ کون ہے ؟
اب روف کلاسرہ بتا رہے کہ ضرار ہاشم کو ٹیلی کام سیکٹر سے لا کر سیکٹری آئی ٹی اور کمیونیکیشن لگایا گیا ہے یہ جاز اور دیگر موبائل کمپنیوں میں جاب کرتے رہے وہ متنازعہ ترین قانون غالبا انہوں نے ڈرافٹ کیا ہے
کیسا ملک ہے شوگر مل مالکان شوگر کی پالیسی بنا رہے نجی بجلی گھروں والے بجلی کی پالیسی اور فون کمپنیاں اپنے بندے سے قانون بنوا رہے
ہم رواداری اور مسلکی ہم آہنگی کے سب سے بڑے نقیب ہیں۔
لیکن یہ ہم آہنگی کے نام پر اکثریت کو دیوار میں چنوانا بھی ظلم عظیم ہے مراد رسول خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں کانفرنسز تک کرنے پر پابندی یہ ناقابل معافی اور ناقابل برداشت ہے۔
پاکستان سب مسالک کا ہے۔
بجلی کے بلوں پر ہم نے تنقید کی اس پر لگے ٹیکسوں کو سوشل میڈیا کا ٹاپک بنایا اس پر ٹرینڈ کیے اور حکومت نے اس کا یہ توڑ نکالا کہ اب بجلی بلوں پر ٹیکس اور فکسڈ چارجز وغیرہ کی تفصیل لکھنا بند کر دیا ہے اس کا مطلب نیا ٹیکہ بھی لگے گا
نون لیگ عوام دشمنی میں ہر حد پار کر چکی ہے راتب خور حاضر ہوں ہمیں اس حرام توپی کی فضیلت بتائیں
آپ کو شدید غلط فہمی ہوئی ہے۔عباسی صاحب ان سیاسی گدھوں سے ہوشیار کرتے ہیں جو اپنی سیاست چمکانے کیلئے لاشیں گرنے کے منتظر ہوتے ہیں،ان مذہبی فسادیوں سے خبردار کر رہے ہوتے ہیں جو چندے ہڑپ کرنے کیلئے ماؤں کے نونہالوں کو کبھی افغانستان،کبھی کشمیر،کبھی فلسطین کی دہکتی بھٹیوں میں جہاد کے نام پر جھونک دیتے ہیں،ان احمق شرپسندوں سے باخبر کر رہے ہوتے ہیں جو قذافی اور صدام جیسوں کو پہلے ظالم کہہ کر اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہیں اور پھر انھی کو ہیرو بنا کر انکی مظلومیت پر نوحہ پڑھتے ہیں،وہ ان نفرت کے سوداگروں کا باطن آشکار کر رہے ہوتے ہیں جنکی کمسنی کی محرومیوں نے انکی شخصیت میں منفیت کو بھر دیا ہوتا ہے اور وہ اپنی اس نفرت کو جذبہ ایمان قرار دیکر اصلاح کے نام پر آمادہ فساد ہوتے ہیں اور وہ ان سب کو خدا کا واسطہ دے رہے ہوتے ہیں کہ اب بس کر جاؤ بہت خون پی چکے ہو اور بہت چندے ہڑپ کر چکے ہو۔
نون لیگ،پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے لوگ جتنے بھی کرپٹ ہوں انھوں نے اپنی سیاست کیلئے کبھی لاشوں کی طلب یا خواہش نہیں کی۔ماڈل ٹاؤن کی لاشوں پر بلیک میلنگ کرنے والے سب کو معلوم ہیں،نو مئی کی اسی سازش کو ناکام بنانے کیلئے جب فوج نے قیمتی اثاثہ جات کا نقصان کر لیا مگر سازشیوں کو لاشیں نہیں دیں تو اس حکمت عملی کو ہی انھوں نے گولی کیوں نہیں چلائی کے نام پر سازش قرار دے دیا اور جب چھبیس اکتوبر کو ریڈ زون میں گھسے تو ربڑ کی گولیاں چلنے پر گولی کیوں چلائی کا بیانیہ بنا کر سیکنڑوں لاشوں کا جھوٹ گھڑ لیا۔یہی سارے فسادی اب حکومت اور فوج سے آگے بڑہ کر ریاست پاکستان کے بغض میں اس قدر پاگل ہو گئے ہیں کہ اتنی سی بات پر کہ مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ اب پاکستان ترکی ایران اور عرب بنائیں گے فیض اللہ خان کی طرح پاگل ہو کر کاٹنے کو دوڑ پڑتے ہیں۔یہ کسی فرد کی نہیں پوری ریاست کی تکفیر کرنے کے مرض میں مبتلاء لوگ ہیں ۔یہ انفرادی نہیں اجتماعی تکفیری کے قائل اور شام لیبیا اور عراق میں فساد مچانے والوں کی طرح کے فسادی ہیں۔جنھیں موجودہ مسلمان ملکوں کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور فورا ہذیان بکنے پر اتر آتے ہیں۔
یہ فسادی مولانا مودودی اور اسلامی تحریک کا نام بھی کور حاصل کرنے کیلئے اور ضرورت پوری کرنے کیلئے لیتے ہیں اور ان جیسوں کی وجہ سے غامدی صاحب جیسوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ احیائی فکر کو دہشت گردی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔عباسی صاحب اس فکر کی کو ایسے الزامات سے بچانے کیلئے بھی ایسے فسادیوں کو گوارا نہیں کرتے ہیں اور وہ ان شاءاللہ تعالیٰ یہ محنت جاری رکھیں گے۔وہ احیائی عمل کو ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی عمل سمجھتے ہیں جس کے مختلف محاذ ہیں جہاں اصحاب ہمت اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں مگر فکری بونے صرف اپنی جماعت ہی کو "الحق" سمجھ کر باقیوں کو طاغوت کے کارندے سمجھنے کے خبط میں مبتلاء ہوتے ہیں
محرم الحرام کا مقدس مہینہ شروع ہونے والا ہے، لیکن افسوس کہ اس مبارک مہینے کو بھی دنیا دار خطیبوں نے محض کمائی اور داستان گوئی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔یہ خطیب ایسے من گھڑت، ضعیف اور فرضی قصے سناتے ہیں جن سے عوام میں سنسنی اور بے چینی پھیل جائے۔ ان کا اندازِ بیان حد درجہ بناوٹی، ڈرامائی اور رقت انگیز ہوتا ہے تاکہ جذباتی ماحول پیدا کر کے لوگوں کو زبردستی رلایا جا سکے، اور اس کی آڑ میں عوام کی جیبوں سے زیادہ سے زیادہ نذرانہ اور مال و زر بٹورا جا سکے۔ مثلاً:
حضرت بی بی صغریٰؑ کا قصہ
میدانِ کربلا میں حضرت قاسمؑ کی شادی کی کہانی
امام مسلمؑ کے بچوں کا قصہ
پانی بند ہونے پر افراط و تفریط
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کا قصہ
1800 ہزار مفتیان کے فتویٰ کی کہانی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ضمیر فروش خطیب منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر ایسی جھوٹی، درد بھری اور مصنوعی آواز نکال کر یہ کہانیاں سنا رہے ہوتے ہیں جیسے ان کا دل واقعی پاش پاش ہو رہا ہو۔ایسی اور اس جیسی کئی غیر مستند کہانیاں یہ شعبدہ باز خطیبوں کا ٹولہ ایسے بازاری پیرائے میں پیش کرتا ہے کہ محفل میں موجود ہر شخص خود کو عینی شاہد سمجھ کر رونے لگتا ہے۔ ان کی دکانداری اور کمائی کا دھندا اسی روش پر چلتا ہے؛ جہاں انہوں نے دیکھا کہ رقت کا اثر کم ہو رہا ہے یا لوگ رونا بند کر رہے ہیں، وہاں یہ خطیب فوراً اپنے روایتی فنی نسخے، مکارانہ حربے اور جذباتی چیخ و پکار کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ یہی خطیب جو چند منٹ قبل غمِ حسینؑ میں بلک رہا تھا، محفل کے اختتام کے بعد قہقہے لگاتا ہوا نظر آتا ہے۔
ہم نے پچھلے سال بھی ایسی کئی فرضی کہانیوں کی قلعی کھولی تھی، اس سال بھی اسی تسلسل کو جاری رکھیں گے۔ آپ میرے اس ہینڈل کو فالو کریں نوٹیفکیشن آن رکھیں اور اگلی کڑی کا انتظار کیجیے
صرف ٹرمپ ہی نہیں ایران بطور ریاست بھی مسخروں کی آماجگاہ ہے۔
پاسداران انقلاب ایک ریاستی مشین کی جگہ ایک عسکری تنظیم زیادہ ہے جو چاہے گی کہ جنگ کبھی نہ رکے اور اس میں موجود وار لارڈز لمبی کمائیاں کرتے رہیں۔
سعودیہ عرب اور مشرق وسطی میں امن کے لیے پاکستان اور سعودیہ نے انتہا تک صبر کا دامن تھاما ہے۔
81 منٹ۔ 3 لیڈرز۔ 3 پیغامات۔
دلچسپ صورتحال۔
#ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں صدر ٹرمپ کو ڈیل پر شرمندہ کرنے کیلئے اچانک حساس تفصیلات لیک کی گئیں۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عراقچی سامنے آئے اور "میڈیا کی قیاس آرائیوں" پر تنقید کرتے ہوئے تحمل کی اپیل کی۔
کچھ ہی دیر بعد امریکی نائب صدر وینس نے "جھوٹی معلومات" کے پھیلاؤ کی شکایت کی۔
پھر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے "مسلسل غلط معلومات پر مبنی مہم" سے خبردار کیا اور کہا کہ کچھ عناصر معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تینوں پیغامات جمعہ کی شب 81 منٹ کے اندر اندر X پر پوسٹ کیے گئے۔
وینس نے خاص طور پر دو نکات واضح کرنے کی کوشش کی: ایران کو فوری طور پر نقد رقم نہیں ملے گی۔ اور یہ کہ امریکہ اپنے اتحادیوں (خلیجی ممالک، اردن اور اسرائیل) کے تحفظات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔
پنجاب تیزی سے غریب ہو رہا عوام کی حالت خراب ہو رہی پچھلے چند سالوں میں غربت 41فیصد بڑھی ہے یہ سرکاری اعدادوشمار جو اکنامک سروے میں بتائے گئے ایسے میں ساڑھے سات دس ارب پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کو سرنڈر کر کے پنجاب کو مزید تیزی سے غریب کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے
ہر طرح کا فکسڈ ٹیکس بھی پنجاب والوں کو دینا ہے باقی تو بجلی بجلی کوئی دیتا ہی نہی ہے
اکنامک سروے میں ہر صوبہ ہی تباہ حال ہے مگر پنجاب کی وزیراعلئ جو خود کو سپر وزیراعلئ کہلاتی ان سے گزارش پنجاب میں غربت 41فیصد بڑھی بے روزگاری بڑھ گئ بھوک بڑھ گئی ہے اب یہ بلدیاتی اور شو شا والے گلیوں سڑکوں کے کام چھوڑیں اور اصل پالیسی سازی کا کام کریں پنجاب میں لوگوں کے روزگار اور غربت کے خاتمے کا انتظام کریں لوگ خوشحال ہوں گے تو گلیاں بازار خود سج جائیں گے
لوگ بھوک سے مر رہے اس لئے کیک پیسٹریاں نہی روزگار کا انتظام کریں صوبے کی اقتصادی ترقی کریں اسے دوسروں کے لیے مثال بنا دیں
کیا ڈیل کے بعد بھی یہ فیصلہ برقرار رہے گا؟
یہ شاید اس پورے ایرانی بحران کا حملوں کی دھمکی کے بعد سب سے اہم پیغام تھا جس کی وجہ سے ایرانی حکومت ڈیل کی طرف آئی ہے۔ واشنگٹن کا اشارہ صاف ہے: #ایران اگر #خلیجی_ممالک کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کا بل منجمد ایرانی فنڈز سے ادا کیا جائے گا۔ ہرمز میں تہران جو ٹول وصول کرے، اس کی رقم بھی انہی کھاتوں سے پوری کی جائے گی اور پیسے خلیجی عرب ممالک کے اکاونٹس میں جائیں گے۔
یعنی مختصراً: پڑوسیوں پر حملہ کرو، اور ہرجانہ اپنی جیب سے بھرو۔
پاکستان کے موجودہ حکمران پاکستان کے ٹاپ کے کاروباری ہیں ان کا کوئی کاروباری آج تک ناکام نہی ہوا ہے اور یہ مارکیٹ کے ٹاپ کے بندوں کو کاروبار میں نوکریاں دیتے ہیں
جبکہ یہی حکمران پاکستان کے لیے ایسے نا اہل نکمے ترین بندے وزیر مشیر رکھتے جنہیں یہ اپنے کاروباری ادارے میں چپڑاسی بھی نا رکھیں
وجہ صرف خوشامد اور چمچہ گیری ہے اور پاکستان اس وجہ سے تباہ ہو رہا ہے
‼️ *آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال*‼️
📌 راولاکوٹ کے گردونواح میں مظاہرین کے تین الگ الگ گروپ تاحال موجود ہیں۔ یہ عناصر مسلح ہیں اور وقفے وقفے سے اسلحے کی نمائش کر رہے ہیں۔
📌 قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان گروپوں کی جانب سے مقررہ حدود کو عبور کرنے اور آگے بڑھنے کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔
📌 حکومت اور ریاستی ادارے اس معاملے میں بالکل واضح اور پرعزم ہیں؛ تشدد، لاقانونیت کو ہوا دینے یا امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی مزید کوئی بھی کوشش ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
📌 یہ جاری فتنہ اور احتجاج اسی مخصوص قیادت کے ٹولے کی کارستانی ہے جو راولاکوٹ میں بدترین پرتشدد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے، جس میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) پر نشانہ بنا کر کیا گیا حملہ اور بے گناہ شہریوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتیں شامل ہے۔
📌 آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور تشدد کو ہوا دینے پر تلی ہوئی اس قیادت کی مکمل مانیٹرنگ (میپنگ) کی جا رہی ہے۔ ان تمام فتنہ انگیز عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر متعلقہ قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی کی جا رہی ہے۔ان پر ماضی میں ہونے والی ایف آئی آر انکے ساتھ اُسوقت کیے جانے والے معائدے کی تعطلی کے ساتھ ہی دوبارہ فحال کی جا چکی ہیں۔
📌 اس طویل بدامنی کی وجہ سے پورے سیکٹر میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن (فیول) کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
📌 تجارتی سامان منتقل کرنے والے ٹرانسپورٹرز اور ٹرک ڈرائیورز سیکیورٹی کے شدید خطرات اور اپنی املاک کو نقصان پہنچنے کے خوف سے متاثرہ علاقوں میں اپنی گاڑیاں بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
📌 مقامی املاک کو لوٹنے اور توڑ پھوڑ کے اکا دکا واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے سویلین آبادی کی پریشانی اور ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
📌 یہ جاری بدامنی سیاحت کے عروج (پیک سیزن) کے دنوں میں سامنے آئی ہے، جس نے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کاروباری حضرات، ہوٹل مالکان اور مقامی دکاندار اس اہم سیزن کے دوران جو منافع کما سکتے تھے، وہ ضائع ہو چکا ہے، جس سے آزاد کشمیر کے عوام کے روزگار کو گہرا دھچکا لگا ہے۔
📌 کل سردار امان کی تقریر سے اس صورتحال میں ایک اہم موڑ آیا ہے۔ اس خطاب نے اس قیادت کے اصل پوشیدہ مقاصد کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ عام لوگوں کے جائز شہری حقوق کے تحفظ کے بجائے پاکستان دشمن بھارتی ایجنڈے کے عین مطابق آزاد کشمیر کو الگ کرنے پر مبنی ہے۔
📌 اس واضح نظریاتی تبدیلی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے اندر موجود معتدل دھڑوں کو شدید مایوس اور نالاں کر دیا ہے، اور لائن آف کنٹرول (LoC) کے دونوں طرف سے اس کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
📌 جنوبی اضلاع جیسے بھمبر اور میرپور سے اس جلوس میں شامل ہونے والے شرکاء کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی واپس لوٹ چکا ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثریت صرف سوشل میڈیا کے لیے مواد (ویڈیوز/تصاویر) بنانے آئی تھی اور اپنا مقصد پورا ہوتے ہی واپس چلی گئی۔
📌 اس نازک وقت میں بچوں کے تحفظ کے لیے والدین کی ذمہ داریوں پر زبردست زور دیا جا رہا ہے۔ والدین سے پرزور اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کالعدم تنظیم JAACکے شرپسند عناصر کے ہاتھوں گمراہ ہونے یا پرتشدد و تخریب کارانہ احتجاج کا حصہ بننے سے روکیں۔
یہ پنجاب کا سرکاری سکول نہی ہے
اس سکول کو وزیر تعلیم پنجاب سمیت سب دو دن سے پنجاب کا سرکاری سکول کہہ کر متعارف کروا رہے جبکہ یہ سرکار کا سکول نہی ہے یہ ایک پلازہ بن رہا تھا بعض اطلاعات کہ سکمان تاثیر کے بیٹے کا ہے پھر ان کو پتہ چلا کہ 4500فی بچہ دے رہے ہزار بچے پر ساٹھ لاکھ روپیہ ہر مہینے ملے گا تو اس کا نام نواز شریف سکول رکھ دیا یہ بلڈنگ یہ سب کچھ پرائیویٹ ہے سرکار صرف ٹھیکدار کو پیسے دیتی ہے یہ کیسا سکول جس میں کمرے ہی کمرے اور کھیل کا میدان تک نہی ہے؟
یہ گمراہ کن دعوی ان سرکاری سکولوں کو چھپانے کی سازش جہاں بچے درختوں کے نیچے پڑھ رہے ہیں وہ ہیں اصل سرکاری سکول
کہہ رہے کہ وفاق نے بھی تو پیسے واپس لگانے ہیں تو جانے کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں پچھلے سال بجٹ کے بعد چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ دو لاکھ سے اٹھا کر بائیس لاکھ کر دی پھر جب شور ہوا تو کمیٹی بنا دی نوٹس لے لیا مگر جولائی میں بڑھی تنخواہ جنوری سے بیک ڈیٹ پر اضافہ کر کے کروڑوں ادا کر دیے
یوں لگتا وفاق کا پیسہ
نون لیگ پنجاب کے حق کے لیے کبھی کھڑی نہی ہوئی ہمیشہ ان کو سرنڈر کیے ہیں آپ سات سو ارب پنجاب کا ترقیاتی بجٹ کو رو رہے ہیں شہباز شریف نے تو بطور وزیراعلئ پنجاب نون لیگ کی طرف سے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کروائی تھی
پنجاب واحد صوبہ جس کی اسمبلی نے تقسیم کی قرارداد منظور کر رکھی ہے نون نے تو بلوچستان میں مارے جانے والے کسی پنجابی پر بطور صوبہ احتجاج تک نہی کیا ہے
پنجاب کا پاکستان کی GDPمیں 60فیصد حصہ ہے مگر این ایف سی میں پنجاب کا حصہ 51فیصد اس میں سے بھی ساڑھے سات سو فیصد اور کٹوا دیے ہیں
دیگر صوبے بجلی کا بل نہی دیتے وہ سارے بل بھی نون لیگ ڈنڈہ دے کر پنجاب سے لیتی ہے آئی پی پیز کی کپیسٹی پیمنٹ بھی پنجابیوں کے کھاتے پڑتی ہیں اور اربوں کے ٹریفک چالان بھی پنجاب سے وصول کرتے باقی تو کسی صوبے میں یہ سب نہی ہے سکول بھی پنجاب میں بیچ دہے سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہ بھی پنجاب میں کاٹ دہے ہیں
سپر وزیراعلی اور سپر وزیراعظم کے پنجاب کے لیے سپر سپر تحفے
پچھلے سال بجٹ کے بعد وفاق نے جس فارمولے اور تناسب سے ملازمین کی تنخواہ اور پینشن بڑھائی باقی صوبوں نے بھی اتنا اضافہ کیا مگر پنجاب میں مریم نواز نے اتنا اضافہ کرنے سے صاف انکار کر دیا
پھر کہا پینشن اور تنخواہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے اتنا پیسہ نہی ہے
اب تو خیر سے پورے ساڑھے سات سو ارب کٹوا آئے ہیں اب دیکھو کیا کیا چھری پھیرتے ہیں