نذر مری کو انسانیت کے دفاع کرنے کی پاداش میں زندان میں دھکیلا گیا۰اب انہیں ڈیڑھ سال ہونے کو ہے کہ نذر مری جبری گمشدگی کاسکار ہے اور زندان میں قید ہے۰انہیں بازیاب کرانے کےلے آواز اٹھائیں۰
#ReleaseNazarMarri
🚨🚨
According to the letter, Imaan Mazari is suffering from serious medical problems while in jail and requires continuous medical treatment. The bar association stated that Hadi Ali Chattha also facing a difficult situation and required medical attention https://t.co/UfLrEF4YVB
آج وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ٹویٹس کرنے پر 17 سالہ قید کی سزا بھگتنے کے لیے اڈیالہ جیل بھیجے جانے کے 195 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی فوری سماعت کی درخواستیں التوا کا شکار ہیں، جبکہ سپریم کورٹ، اپنے ہی احکامات کی خلاف ورزی کے باوجود، خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
#ReleaseimaanandHadi
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
While Pakistan is busy positioning itself as a mediator for peace talks, political activists within the country are being denied justice.
Mahrang Baloch &Sabghatullah Baloch have been sentenced to life imprisonment. Speaking up for human rights has now become a grave crime..!
ریاستی ظلم و جبر کے ہر دور میں، ایمان مزاری وہ واحد آواز رہی ہیں جو نہ صرف ہمارے ساتھ کھڑی ہوئیں بلکہ مشکل ترین لمحوں میں ہمیں سہارا، حوصلہ اور سمت دی ,جب باقی سب خاموش تھے۔
#ReleaseImaanMazariAndHadiAli
پاکستانی سیکورٹی فورسز نے گوادر کے علاقے کلانچ کے رہائشی سراج حاصل کو 2 مہینے پہلے جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا، آج اسکی مسخ شده لاش پھینک دی گئی ہے۔۔
بلوچستان میں ریاستی سیکورٹی فورسز کی جانب سے بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
Social Media Campaign
Today marks three days since Dad Shah Baloch was forcibly disappeared, and his whereabouts remain unknown. A social media campaign will be launched tomorrow, April 25, against the enforced disappearance of Dad Shah Baloch.
We urge all political and human rights organizations, activists, and concerned individuals to take part in this campaign and raise their voices for the safe release of Dad Shah.
Time: 6:00 PM to 12:00 AM
Date: 25 April 2026
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
آج میں پریس کلب گئی مگر وہاں کہا گیا کہ کل یا پرسوں آنا۔ کل پولیس اسٹیشن گئی تو کہا گیا 24 گھنٹے بعد آئیں۔ آج 24 گھنٹے بعد گئی تو کہا گیا کہ SHO موجود نہیں۔
میں صاف الفاظ میں کہتی ہوں، میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔ میں عدالت جاؤں گی اپنے بھائی کے لئے انصاف ڈھونڈنے۔
#ReleaseDaadShah
دانیال ناصر Feb 16 2026 ءَ پاکستان چیریں ادارہاں اور جتگ ءُ بیگواہ کتگ۔۔۔
دانیال Spinal Cord بیماری آماچیں یک نادراہ اے
ما زوت دانیال آجوئی لوٹ ءَ کنیں
#ReleaseDanialNasir#SaveBalochStudents
آج ہمیں Quetta Press Club کے سامنے پریس کانفرنس کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ یہاں صرف وہی افراد آ سکتے ہیں جو یا تو پہاڑوں پر گئے ہوں یا پھر منشیات کے خلاف ہیں۔
زندہ انسانوں کی لاشیں گرانا ۔ جبری گشدگیاں کیا اس ملک کےقانون میں کوئ سنگین عمل نہیں
انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو جیل میں ایک سال بیت گیا۔ ایک سال سے انہیں ضمانت نہ مل سکی اور زیادہ عرصہ تو ایم پی او کے سیاہ قانون کے تحت انہیں بند رکھا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے بہن کی پریس کانفرنس،کوئٹہ پریس کلب میں شدید ہنگامہ آرائی پولیس پریس کلب میں داخل،پریس کانفرنس کو روکنے اور صحافیوں کو باہر حراست میں لینے کی کوشش
ڈاکٹر ماہرنگ کی بہن کی پریس کانفرنس
مجھے پریس کلب میں انتظامیہ نے نہیں چھوڑی کہ بغیر این او سی کی پریس کانفرنس نہیں ہوگی
میں نے مجبور ہوکر پریس کلب ہے سیڑھیوں پر بیٹھ کر کے پریس کانفرنس کررہی ہوں
#ReleaseBYCleaders#EndEnforcedDisappearances
ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ @NadiaBaloch99کے مطابق مجبوراً ہم نے پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی، مگر اسی دوران پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور صحافیوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس ریکارڈ نہ کر سکیں۔
عالمی شہرت یافتہ لیڈر ڈاکٹر مہرنگ بلوچ گزشتہ 11 ماہ سے بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے قید ہیں بارہا درخواستوں کے باوجود انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس سے ان کی صحت تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو جھوٹے مقدمات میں ایک سال سے قید میں رکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ کی حالت تشویشناک، جیل میں صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی، علاج کی کمی، اور غیر قانونی قید ۔
#SaveDrMahRang#BYC#ReleaseAllBYChLeaders
کوئٹہ سینٹرل جیل میں پابندسلاسل انسانی حقوق کی علمبردار اور بلوچ نسل کشی کے خلاف موثر آواز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے.
”لیکن افسوس کہ آج بھی علاج فراہم نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ضمانت دی جا رہی ہے “ہمشیرہ،نادیہ بلوچ
#SaveMahrangBaloch@amnestysasia
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ تقریباً ایک سال سے جیل میں ہیں۔ ان پر قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت ہے۔
چھ ماہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔ جیل حکام کو بارہا درخواستیں دیں کہ انہیں ڈاکٹر کو دکھایا جائے، مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ عدالت میں درخواست کے بعد معائنہ تو ہوا، مگر تجویز کردہ ٹیسٹ بھی وقت پر نہیں کروائے گئے۔ جب حالت بہت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں MRI رپورٹ میں ریڑھ کی ہڈی کے سنگین مسائل سامنے آئے (ڈسک کا ابھار، اور اندرونی چوٹ)۔ ڈاکٹروں نے آرام اور باقاعدہ علاج کی ہدایت کی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج بھی نہ مکمل علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ضمانت دی جا رہی ہے۔ ایک سیاسی ورکر جس کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے انسانی حقوق اور انصاف کی بات کی، اس طرح بنیادی طبی سہولت سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عام قیدی کو بھی صحت کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ میری بہن تو ایک سیاسی کارکن ہیں، کسی پرتشدد جرم میں ملوث نہیں۔ انہیں اس طرح علاج سے محروم رکھنا اور مسلسل قید میں رکھنا کھلی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔