زندگی میں اصول کچھ نہیں ہوتے،بس زندگی نے گزرنا ہوتا ہے اور گزرتی ہے،غلط بات ہی برداشت کرنی ہوتی ہے،صحیح بات کا کیا،اصول کا کیا مطلب ہے میری مرضی میرے اصول،میں اس طرح چلتا ہوں میں اس طرح چلتی ہوں میرے یہ اصول ہیں،زندگی میں بہت سے اصول توڑنے پڑتے ہیں،زندگی میں یہی حقیقت ہے
شراب بیچنے والے کو کہیں نہیں جانا پڑتا،دودھ بیچنے والے کو گلی گلی جانا پڑتا ہے،اور اس سے پوچھا جاتا ہے پانی تو نہیں ملایا،اور شراب میں پانی ملا کے پیتے ہیں،
میں نے جو دیکھا ہے انسان میں صرف اتنی عقل رکھتا ہے،اگر اس کو جانور کہو تو ناراض ہو جاتا ہے،اگر اس کو شیر بولو تو خوش ہو جاتا ہے،حتی کہ شیر بھی جانور ہے،واہ انسان تیری کیا عقل ہے
انسان اپنی زندگی چار فیز میں گزارتا ہے،25 سال مزے سے،25 سے 50 سال بیل کی طرح جو کھیتوں میں بہت محنت کرتا ہے،50 کے بعد کتے والی زندگی،اپنے ارد گرد کے لوگوں کو سمجھاتا ہے اور سنتا کوئی بھی نہیں،75 کے بعد الوں والی زندگی،سہارا لے کر بیٹھ کر لوگوں کو دیکھتا رہتا ہے،جانے کا انتظار
انسان خوبصورت ہوتا نہیں ہے اس کا کردار اس کو خوبصورت بنا دیتا ہے،جب آپ کا کردار اچھا ہوگا تو آپ لوگوں کو خوبصورت نظر آئیں گے،ایسا ممکن نہیں ہے کہ آپ کا کردار اچھا نہ ہو اور آپ خوبصورت نظر آئین،
وہ انسان ہوتا ہی نہیں ہے جس میں احساس نہ ہو،تمام مخلوق کے لیے،احساس صرف انسانوں کا نہیں جانوروں کا بھی کریں،احساس بڑی بہترین چیز کا نام ہے کبھی محسوس کریں اپنے ارد گرد کے لوگوں کا،آپ ہر اس انسان کا احساس کریں جس سے آپ کا تعلق ہے یا نہیں ہے،
محبت لوگ دوسروں میں ڈھونڈتے ہیں،میرا کہنا ہے کہ محبت انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے،آپ اپنے آپ کو محبت جیسا بنائیں،پھر لوگ آپ سے محبت کریں گے،محبت کسی لڑکی سے کرنے کا نام نہیں ہے،محبت تمام رشتوں میں آپ کے لیے ہونی چاہیے،آپ محبت جیسے ہوں گے سب آپ سے محبت کریں گے،
مرد ہو یا عورت ہو،دل کے جتنے بھی صاف ہوں،جسم اور منہ صاف نہ ہو تو آپ بہت گندے لگتے ہیں،نہ آپ کے منہ سے بدبو آنی چاہیے نہ آپ کے جسم سے،پھر عورت مرد کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے اور مرد عورت کے ساتھ خوش رہ سکتا ہے،ورنہ صرف گند ہوگا اور کچھ بھی نہیں،