القرآن :
ترجمہ : " اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللّٰه پر ایمان رکھتے ہو " ۔
( آ لِ عمران : 110)
@KhSaad_Rafique صد فیصد درست اور متفق !
جس جس نے بھی اس جرم کا ارتکاب کیا ہے اسے قوم کے سامنے اعتراف کرنا چاہئے اور آئیندہ کے لئے توبہ کرنی چاہیے ۔
مگر کیا کریں کہ جن سے اولاً توبہ کی توقع تھی وہ تو پھر مسندِ اقتدار پر اسی ہی طریقہ سے براجمان ہیں ۔
تو کیا یہ ٹویٹ صرف دوسروں کے لئے ہے ؟
@DO3GAR حالانکہ ملاں بیچارے تو برسوں سے ہومیو پیتھک ہو چکے ہیں۔ کسی معاشرتی برائی پر ان کی آواز اب کم ہی سنائی دیتی ہے۔ اگر کہیں کوئی انصار عباسی کی طرح بول پڑے تو تضحیک ہر کوئی اپنا فرض سمجھ لیتا ہے۔
ایک مفلوک الحال شخص فاقوں سے تنگ تھا۔ اچانک کہیں سے ایک مرغی نمودار ہوئی وہ اسے پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگا شومئی تقدیر سے چند راہ چلتے سپاہی اسے پکڑ کر تھانے لے گئے۔ تھانیدار صاحب نے مار مار کر اس سے دیرینہ غیر حل شدہ وارداتیں ایک ایک کرکے منوانی شروع کردیں۔ جب وہ ڈیڑھ درجن قتل اور ڈکیتیاں قبول کرچکا تو فربہ ٹھانیدار صاحب سانس لینے کو رُکے۔
دوبارہ مارنے کے لئے لپکے تو صاحب بہادر کی بادِ شکم با آوازِ بلند خارج ہوئی۔
جس پر اس معصوم مجرم نے فوراً کہا،
“ چوہری صاب ایہ وی میرے کھاتے پادیو، ایہ وی میری حرکت جے”
( چوہدری صاحب یہ حرکت بھی میں نے ہی سرانجام دی ہے میرے جرائم میں یہ شامل کرلیں)
کہیں کچھ ہوا ہو ، فورا بے چارے مولوی کے کھاتے ڈال دیا جاتا ہے۔
انیق ناجی صاحب! اپنی گوری دوست کو ، پاکستانی فلم انڈسٹری کے زوال اور پاکستانی مواد کا Netflix پر نہ ہونا ، “ ملّا” کی کارستانی بتا رہے ہیں۔
تہذیب تو وقت کے ساتھ مضبوط ہوا کرتی ہے یہ الگ بات ہے کہ وقت اپنے نقوش ضرور چھوڑتا ہے ، مسلم تہذیب کا المیہ یہ ہے کہ ملوکیت کے آغاز سے ہی جنت کی خواہش بھی رکھتی ہے اور دنیا کی رنگینیوں کو بھی انجوائے کرنا چاہتی ہے پوری آزادی کے ساتھ۔
آپ ہی کی بات کہ کنفیوز ہیں ، کوے اور ہنس کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں
آپ کی بات کافی حد تک درست ہے لیکن یہ راستہ ایک سیکولر ریاست کا ہے جبکہ ہم پاکستانی ہمیشہ سے کنفیوزن کا شکار رہے ہیں کہ ہمیں ایک اسلامی ریاست بننا ہے یا اسلامی ریاست رہتے ہوئے انفرادی آزادی عوام کو دینی ہے جو کہ بہت مشکل ہے ۔ دوسری صورت میں پھر ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جو موضوع بحث ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ یہ وزیراعظم کا دائرہ کار نہیں ہے لیکن ایک بات تو طے ہونی چاہئے کہ قوم کی تربیت کن بنیادوں پر ہونی چاہئے ۔ معاشرہ کی اخلاقی اساس کن اصولوں پر ہونی چاہئے ؟
@hinaparvezbutt سبحان اللہ !
ہمیں اس ملک کی اشرافیہ سے سب سے بڑا گلہ ہی یہی ہے کہ اس نے صحیح اور غلط کا فرق ہی مٹا دیا ہے۔
اگر کوئی شخص درست بات بھی کرتا ہے تو اپنے عزائم کی خاطر اسے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
اقرار صاحب ! آپ کی بات سنی اور بہت مایوسی ہوئی کہ اگر فلاں غلط تھا اور اسے غلط نہیں کہا گیا تو بھی غلطی تسلیم نہیں کروں گا ۔
کیا یہی انقلابی سوچ ہے اور اس میں کیا نیا ہے ؟
یہی سب تو پہلے بھی ہوتا رہا ، نوے کی دہائی کی سیاست آپ کو یاد ہو یا نہ ہو ، ہمیں یاد ہے۔
آپ کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا ، ایک ملازم کو دوران ڈیوٹی ایسا نہیں کرنا چاہئے مگر میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ اس سارے قصے میں خان کا حوالہ کیوں دیا آپ نے ؟
اس کی مبینہ بیٹی ، اس کی بیوی کی طلاق ، آپ تو نوے کی دہائی والی سیاست سے آغاز کر رہے ہیں۔ میں خان کی وکالت نہیں کر رہا مگر آپ کی سیاست کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔
ویسے میں سمجھ نہیں سکا کہ آپ نے ایک معمولی سے ملازم کی بات کو اگنور کیوں نہ کیا ، کہ اس سے الجھنا آپ کے شایان شان نہیں تھا ، اسے موقع کیش کرنا سمجھا جا رہا ہے۔
اگر مناسب سمجھیں تو جواب دیجئے کیونکہ ہم آپ نئے لوگوں کو بغور پڑھ اور سن رہے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
@iqrarulhassan
ہاہاہا !
یہ بھی صحیح ہے کہ ایک لیڈر جسے اس کی عوام تک اپنا مکمل پیغام پہنچانا چاہئے وہ ہمیں ہی قصور وار سمجھتا ہے کہ ہم اس کے لائحہ عمل سے واقف کیوں نہیں ؟
اقرار بھائی میں بحث نہیں کیا کرتا صرف باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
امید ہے میرے سوالات آپ کو تنگ نہیں کریں گے کہ میں وقتاً فوقتاً جسارت کرتا رہوں گا 🙂♥️
اقرار بھائی ہم شخصیت پرستی کو پاکستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس کے خلاف تب سے ہیں جب آپ کو سیاست سے دلچسپی نہ تھی۔
مگر آپ کے اپنے بیان میں تضاد ہے کہ لوگ آپ کے نام پر عوام راج کا ساتھ دیں ۔ کیوں ؟
کیا یہ شخصیت پرستی نہ ہو گی ؟
کیا آپ کے عہدہ نہ لینے سے نظام بدل جائے گا ؟
عام آدمی کا نعرہ بھٹو اور خان دونوں نے لگایا اور لوگوں نے تائید بھی کی مگر مخصوص قبولیت ہی سب کچھ ٹھہری ۔ موجودہ نظام انتخاب ہی عام آدمی کو سامنے آنے کی اجازت نہیں دیتا ، تو کیسے ممکن ہو گا کہ مضبوط اشرافیہ کے مقابلے میں عام آدمی کو آپ طاقت کے ایوانوں میں لا سکیں گے۔ میرا سوال بہت سادہ ہے کہ میں اس فارمولے کو سمجھنا چاہتا ہوں جس کے ذریعے آپ اپنے دعوے کو پورا کر سکیں گے۔
سابقہ الیکشن یہ ثابت کرتا ہے کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ من وعن ایسے ممکن نہیں۔
اپنے انقلاب کے خدو خال سے آگاہ فرمائیں تاکہ آپ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے ورنہ پرانے چورن اور نئے چورن میں سے محض چورن کا انتخاب ہی باقی رہ جائے گا ۔
جو نعرہ ہم لگا رہے ہیں وہ آج تک پاکستان میں آج تک کسی نے نہیں لگایا اور وہ یہ کہ میں کبھی کوئی عہدہ نہیں لوں گا۔ جو کوئی بھی آتا ہے وہ کہتا ہے مجھے اقتدار دلوائیے میں انقلاب لاؤں گا اور پھر وہ اپنے ذاتی اقتدار کے لیے اٹھہتر سال سے قائم فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے کل پرزوں کے ساتھ مل جاتا ہے۔۔۔ مزدور اور کسان تب ہی اقتدار میں آہیں گے جب کوئی تحریک کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ایک نظریے اور مڈل کلاس کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد کرے گی
درست بات ہے مگر ۔۔۔۔
اقرار صاحب جو نعرے آپ لگا رہے ہیں ، وہ بھی تو نئے نہیں ہیں۔ پہلے والی تمام جماعتوں اور ان کے لیڈرز بھی یہی نعرے لگاتے رہے۔
یہ سننے میں بہت اچھا لگتا ہے کہ ایک عام مزدور کو اسمبلی میں ہونا چاہئے لیکن یہ کیونکر ممکن ہوگا اس کا لائحہ عمل ابھی تک آپ نے بھی نہیں بتایا ؟
نظام کو بدلیں ۔۔۔۔ تو کیسے بھائی ؟
بدلیں ۔۔۔ تو کیا نظام کو گا ؟
اٹھہتر سال سے یہ قوم اپنی حیثیت کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑی ہوتی آئی ہے لیکن جمہوریت کے معاملے میں ہم ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکے، اس لیے کہ ہم فوجی ڈکٹیٹروں کے خلاف یہ لڑائی سیاسی ڈکٹیٹروں کو اقتدار میں لانے کے لیے لڑتے ہیں، نظام بدلنے کے لیے نہیں۔
ملک میں جمہوریت کی لڑائی لڑنے سے پہلے آپ کو سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی لڑائی لڑنا پڑے گی۔
وقت بتائے گا ۔۔۔۔ !
عامر بھائی وقت ضرور بتا دیا کرتا ہے اور تاریخ بنا دیا کرتا ہے ۔
جن کے ذکر کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ کوئی کم فرعون تھے مگر آج سوائے ذلت کے ان کے مقدر میں تاریخ نے کچھ باقی نہیں چھوڑا ۔
زباں بندی سے بھلا سوچ بدلا کرتی ہے ؟
بڑی تکلیف ہوئ فخر الرحمان کو ہتھکڑی میں دیکھ کر۔ اک نفیس، نرم طبع ساتھی جس نے زندگی کا بیشتر حصہ صحافت میں گزار کر عزت کمائ۔ ہر دور میں حکومت کے غلط اقدام پر تنقید کی۔ اسے ایسے الزام میں جس کی فرد جرم ہی نہ ہو اس میں بے عزت کرنا نہایت شرمناک ہے۔ ویسے داد دینی پڑتی ہے ان کو جنہوں نے فخر کو اس کی صحت کے مسائل جانتے ہوئے اٹھایا۔ جس کو نہی بھی پتہ تھا کہ الزام کیا ہے وہ پوچھ رہا ہے۔ کیا اس سے صحافیوں کو ڈرانے کے مقاصد پورے ہوں جائیں گیں۔ کیا ارشد شریف کی شہادت سے صحافی ڈر گئے یہ وہ پھندہ ہے جو آج نہی تو کل کسی کے گلے میں پڑے گا۔ کتنےسیاست دان، بابو اور سیٹھ جن پر بہت بڑے الزام تھے ذہن میں آتے ہیں جن پر بہت سنگین الزام رھے مگر ان کو ہتھکڑی نہی لگی اور اکثر پروٹوکول برقرار رکھا گیا۔ اس شریف النفس صحافی نے ایسا کیا کیا کہ اس کی اس طرح سے تزلیل کی جائے۔ سلام ہے فخر صاحب کو وہ بہادری کے ساتھ یہ وقت گزار رہے ہیں۔ مجھے فکر ہے ان کی صحت کی جیل میں ان کو دوائ وغیرہ ملتی رہے۔ وقت گزر جاتا ہے، درد اور ٹیس یاد رہ جاتی ہے-اس حکومت اور پالیسی سازوں کی جنہوں نے یہ مکروہ قانون بنائے اور یہ ظلم کر رہے ہیں۔ فخر کے لیے یہ ہتھکڑی فخر ہی ہے۔ پتہ نہی ظلم کرنے والوں کے لیے کیا ہے۔ یہ وقت بتائے گا۔
ایک غیر جانبدار اور دیانتدار صحافی سے بہتر کون جان سکتا ہے ؟
مجھے نہیں معلوم کہ خان نے کیا کھویا اور کیا پایا مگر اس قوم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔
مادی ترقی تو دنیا بھر نے کی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ قومیں کرتی ہی رہتی ہیں ۔
لیکن وہ راز جو قوم پہلے نہ جانتی تھی اور اگر جانتی تھی تو واضح نہ تھے ، ان رازوں سے پردہ ہٹا ہے۔
نوجوانوں کو جمہوریت اور جمہوری آمریت کا فرق سمجھ میں آیا ہے۔خان سچا یا جھوٹا ، اچھا یا برا ، وفادار یا غدار ، فیصلہ ہر کسی کا اپنا مگر یہ کریڈٹ تو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ نوجوانوں کو سیاست اور جمہوریت کی طرف لایا ہے۔
وہ جیسا بھی ہے مگر اس نے قوم کو لیڈر کی پہچان ضرور کروا دی ہے کہ لیڈر ہونا کیسا چاہئے ۔
خاندانی اور مجبور جمہوریت سے لوگوں کو بیزاری اسی کی وجہ سے ہے۔
میں نہیں سمجھتا کہ ہم کسی نئی بحث میں ہیں۔
یہ قوم روزٕ اول سے ہی نظام کی تلاش میں ہے۔ اس کے لئے آئین بدلے ، انتظامی ڈھانچے بدلے ، جمہوریت کا چورن بیچا تو کبھی آمریت کو سونے کا پانی چڑھا کر مسیحا بتایا۔
فیض ، بھٹو ، ضیاء تینوں نے قوم کو بحث کے لئے کچھ دیا مگر ہم فیصلہ نہ کر پائے کہ تیتر بنیں گے یا بٹیر۔
ہم مادر پدر آزادی بھی چاہتے ہیں اور جنت کا سرٹیفکیٹ بھی۔ سیاسی اور سماجی طور پر ہم اعلیٰ درجے کے دوغلے ہیں ، اصلاح صرف دوسرے کی چاہتے ہیں اور خود کو اس سے مبرّا سمجھتے ہیں۔ جواد بھائی سوشلزم کی بات کرتے ہیں ، مجھے اس سے غرض ہی نہیں کہ آپ نظام کو کیا نام دیتے ہیں اور اس نظام کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں ۔۔۔ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اس نظام کو رائج تو انسان ہی کریں گے اور انسانوں پر ہی ہو گا ، تو جو قوم جنت کی شدید خواہش کے باوجود اپنے خالق کے بتائے نظام کو اپنے اوپر لاگو نہ کر پائی ، وہ انسان کے بنائے نظام کو کامیاب کیسے کرے گی ؟
ایک ایسا معاشرہ جو ہر قانون اور ضابطے کا چور دروازہ پہلے تلاش کرتا ہے بشمول ان پڑھے لکھے ، متوسط اور باشعور لوگوں کے جن کو جواد بھائی ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ ہاں سب کی بات نہیں کر رہا ، اچھے لوگ بھی موجود ہیں مگر الا ما شاءاللہ ۔
@srqamar
اپ نے جو بحث شروع کی ہے وہ بہت پہلے ہو جانی چاہئے تھی۔ اس بحث میں حکمران طبقہ یا اسکے گماشتے کبھی نہیں گھسیں گے کہ اس سے تو بات بڑھ جائے گی جبکہ وہ تو اس بات کو دفن کر دینا چاہتے ہیں۔
لیکن مجھے امید ہے کہ اس ملک میں بہت سے ہمارے ہم خیال لوگ بھی ہیں جو اب تک کسی بھی وجہ سے چپ تھے، انکو بھی ہمت ملے گی۔ اپ بارش کا پہلا قطرہ ہیں۔ اب تو ایسی بارش ہو گی کہ یہ ملک روشن خیالی، ترقی پسندی اور خوشحالی کی طرف چل پڑے گا۔ انشااللاہ۔