سعودی عربین ایئر لائنز کی پروازوں میں موجودیہ نماز کا کمرہ 1995 سے قائم ہے
چونکہ نماز کا کمرہ کئی نشستوں پر مشتمل ہے (بعض طیاروں میں 9 یا 12 تک)ان نشستوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو روزانہ کا نقصان سمجھا جاتا ہےجو سعودی ایئر لائین اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر برداشت کر رہی ہے
"1998ء میں خان صاحب سوات آئے تھے۔ میں نے عمران خان کو لابی میں صبح کی نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ ماشاءاللہ! آپ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ عمران خان نے مجھے کہا، 'میری ماں نے مجھے کسی چیز پہ نہیں مارا کیونکہ میں اکلوتا تھا، لیکن فجر کی نماز کے لیے وہ مجھے اٹھاتی تھیں؛ چاہے اس کے لیے ان کو ڈنڈا اٹھانا پڑے یا تھپڑ مارنا پڑے۔'" ڈاکٹر امجد علی
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
Kane Williamson it was an honor to share the field with you. Every contest taught me something new. You leave the game better than you found it. Thank you for the standard you set champ! Happy retirement.
عمران خان سے اس وقت ملاقات ہونا بہت ضروری ہے۔
بہت سی چیزیں کلئیر ہو جائیں گی،لیکن پھر وہی سوال ملاقات تو یہ ہونے نہیں دے رہے۔
اب دیکھتے ہیں آفریدی کا وفاق سے تعاون عمران خان سے ملاقات کے بعد ہوتا ہے یا بغیر ملاقات کے ہی۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
گزشتہ 8 مہینے سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہیں کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
علیمہ خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گُفتگو