بریکینگ نیوز 🚨
صوابی دھرنا جاری ہے!!🛑
آئی ایس ایف کے صدر کا سٹوڈنٹس کو پیغام!
ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا گیا ہے!!
آپ سب ن�� اپنی اپنی شاہراہوں کو بلاک کرنا ہے!
اسکو پھیلائیں 🛑
کارکن غصے میں 🚨
جو ایم این ایز اور ایم پی ایز وکٹوں کی دونوں طرف کھیل رہے ہیں ان کی وجہ سے خیبر پختون خواہ پولیس نے ہم پر لاٹھی چارج کیا لیکن ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں
#سڑکوں_پہ_آؤ_ورنہ_دفع_ہوجاؤ
جو لیڈر اپنی قوم کے لیے کھڑا ہو
اللہ خود اس کی حفاظت کرتا ہے۔
عمران خان کی قربانیاں اس جدوجہد کا ایندھن ہیں۔
قوم پوری قوت کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
@TeamiPians#قومی_نشہ_عشق_عمرانیہ
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفو�� نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ��ارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہ��تی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
تحریک انصاف نے حیران کر دیا ،اتنی تلخ صورتحال میں اتنی میچور اور شاندار پریس کانفرنس ،اب سارا بوجھ دوسری طرف پر ہے ،
ویلڈن بیرسٹر گوہر ،سلمان اکرم راجا ،اسد قیصر ۔۔۔۔
ڈی جی ISPR کی آج کی پریس کانفرنس پر سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا ایک مدلل جواب:
منقول👇
سب سے پہلے تو میں آج احمد شریف کی تعریف کرنا چاہوں گا کہ آج بلآخر تم کھل کر سامنے آگئے ہو اور تم نے آج ثابت کردیا ہے کہ تم فوج کے ترجمان نہیں، بلکہ عاصم منیر کے ذاتی نوکر ہو- آج تم نے کہا کہ "ایک شخص کا بیانیہ سیکیورٹی رسک ہے"
آو تمہیں بتاؤں کہ سیکیورٹی رسک کس چیز کو کہتے ہیں؟
نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث قرار دیا تھا اور نواز شریف کے اس بیان کو ہندوستان نے عالمی عدالتِ انصاف میں بطور ثبوت لے جاکر پاکستان کی بدترین تذلیل کروائی، تمہارے چیف عاصم منیر نے اُسی نواز شریف سے لندن میں ڈیل کرلی اور حکومت نواز شریف کی جماعت کو سونپ دی، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
خواجہ آصف نے اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہا تھا کہ پاکستان فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی، آج جس نون لیگ کو عاصم منیر نے تخت نشین کیا ہوا ہے، خواجہ آصف اُسی حکومت کا وزیرِ دفاع ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
کارگل محاذ سے متعلق نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان فوج نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، آج اُسی نواز شریف کی نون لیگ تمہاری گود میں بیٹھ کر حکومت کررہی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
آصف زرداری نے کہا تھا کہ میں پاکستان فوج ک�� اینٹ سے اینٹ بجا دونگا، آج اُسی فوج نے زرداری کو صدرِ پاکستان کے منصب پر بٹھایا ہوا ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
مریم نواز نے اپنے جلسے میں "یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے" کے نعرے سرعام لگوائے تھے، آج وہی مریم نواز پاکستان فوج کی حمایت سے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ لگی ہوئی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
یہ تو ہوگئی سیکیورٹی رسک پر چند مثالیں
آج تم نے یہ بھی کہا کہ "گھبراہٹ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ (عمران خان) سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں"-
گھبراہٹ کس ��ی کتنی بڑھ چکی ہے یہ ساری دنیا نے دیکھ لیا جب ایک نوٹیفکیشن کی خاطر تمہارا چیف عاصم منیر در بدر مارا مارا پھر رہا تھا، اور گھبراہٹ کا اندازہ یہاں سے لگاؤ کہ تم عمران خان سے ملاقاتیں اس لئے نہیں کرواتے رہے تاکہ وہ کسی تحریک کا اعلان نہ کردے-
تم نے آج یہ بھی کہا کہ "ہم کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے اور فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے"-
یہ بات تو بذاتِ خود سب سے بڑا مذاق ہے، تم نے آج جو باتیں بولی ہیں سب کی سب سیاسی ہیں اور تم جب پریس کانفرنس کرتے ہو تو یوں لگتا ہے جیسے عطاء تارڑ یا مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کررہے ہوں-
تم نے آج کہا کہ "آپ کچھ لوگوں کو بیوقوف بن�� سکتے ہیں سب کو نہیں"
اگر صرف چند لوگ بیوقوف ہیں تو تمہیں عام انتخابات میں فارم 47 کی ضرورت کیوں پڑی تھی؟ کیا 24 کروڑ بیوقوف ہیں اور صرف سات لاکھ تنخواہ دار ذہنی مریض
عقلِ کُل ہیں؟
تم نے کہا کہ "اپنی ذات کا ایک قیدی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے"-
عمران خان اپنی ذات کا قیدی نہیں ہے، عمران خان کو ایک ذہنی مریض عاصم منیر نے اپنی انا کی خاطر ناحق قید میں ڈال رکھا ہے-
تم نے آج کہا کہ "اب کسی کو کوئی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی"-
تم کون ہوتے ہو کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے بیانیے کو روکنے والے؟ آئینِ پاکستان نے تمہیں عوام کا نوکر بنایا ہے، مالک بن کر سیاستدانوں کے بیانیے روکنے والے تم ہو کون؟
آج جس بدمعاشی سے تم نے پریس کانفرنس کی ہے یہ واضح کرتا ہے کہ عاصم منیر خود کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ ملنے کے بعد خُدا کی زمین پر خُدا سمجھ بیٹھا ہے-
تم اور تمہارے عاصم منیر جیسے کئی فرعون آئے، کئی وقت کے یزید آئے، آج کوئی اُنکا نام لینے والا نہیں ہے، تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا، تاریخ تمہیں کوڑے دان میں پھینک چکی ہے، تمہارا ذہنی مریض عاصم منیر جلد ماضی بن جائے گا جس کی قبر پر بھی لوگ تھوکیں گے- "تم جب بھی بولو گے جھوٹ ہی بولو گے، جب بھی منہ کھولو گے تو غلاظت ہی بَکو گے".
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!
جب war on terror ہوئی اور پاکستان کی مٹی پلیت ہوئی دنیا میں اور کہا گیا کہ فوج دوغلی ہے، جھوٹی ہے، تو دیکھیں کس نے اپنی فوج کی سب سے زیادہ حفاظت کی، کون انٹرنیشنل میڈیا پر فوج کے ساتھ کھڑا ہوا!
آپ بیٹھ کر فرعون کی طرح فرمان پاس کر رہے ہیں، اور یہ کہنا کہ عمران خان جھوٹ بول رہا ہے، آپ کو شرم آنی چاہئیے! عمران خان کو پچاس سال سے یہ قوم جانتی ہے!”
- عمران خان
دیکھیں آئی ایس پی آر صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو۔ عمران احمد خان نیازی
لگتا ہے گرفتاری سے پہلے عمران خان کے آخری ویڈیو پیغام کو سب بھول گئے ہیں کہ آپ سب نے گھروں میں چھپ کر نہیں بیٹھنا ہیں
اسے ویڈیو کو ہر جگہ پھیلا دیں 🔥
#راستہ_ایک_آزادی_یا_موت
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ��وس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سان��ات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قب��ل کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
“یاد رکھیں کہ مشکل وقت انسان کو سکھانے کے لیے آتا ہے، اونچ نیچ زندگی کا حصہ ہے، جو انسان برے وقت سے ڈر جاتا ہے وہ کبھی اوپر نہیں جا سکتا!”
- عمران خان
#حق_كى_جيت_ہو_گى