🚨TARGETED RESTRICTION ON BRITISH CITIZENS – PAKISTAN ENTRY BAN
From 00:01 on 17 July 2026, British citizens arriving in Pakistan will be singled out and denied entry if they rely on a NICOP—even if valid—while other nationalities face no such restriction.
British travellers must now hold a valid Pakistani passport or visa. A British passport + NICOP will no longer suffice.
This measure exclusively disadvantages UK nationals and effectively strips British dual citizens of their recognition as Pakistan-origin holders, without notice or consultation.
Airlines must inform all British passengers before boarding.
Strict enforcement is mandated.
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
میرے پاکستانیو،
خود کو صرف مہنگائی کے لیے نہیں، اس دور کے لیے بھی تیار کر لیں جہاں "غیر یقینی" سب سے مہنگی ترین چیز بننے والی ہے۔
میری بات نوٹ کر لیجیے، آنے والے وقت میں سب سے زیادہ کیش اگر کسی چیز کو کیا جائے گا تو وہ عوام کی 'Mass Uncertainty' ہوگی۔
جب لوگوں کو اپنے کل کا یقین نہ رہے، تو وہ ہر اس چیز کی طرف بھاگتے ہیں جو انہیں وقتی یقین، وقتی امید یا وقتی تحفظ دے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب خوف، کاروبار بن جاتا ہے!
لوگ سمجھتے ہیں کہ مارکیٹ صرف اشیاء بیچتی ہے۔
نہیں۔
مارکیٹ خوف بھی بیچتی ہے، امید بھی، بیانیہ بھی، اور کبھی کبھی آپ کا فیصلہ بھی۔
غیر یقینی میں مبتلا معاشروں کو کنٹرول کرنا ہمیشہ سے ہی آسان ہوتا ہے، کیونکہ غیر یقینی انسان سے سب سے پہلے اس کا اعتماد چھینتی ہے، پھر اس کی ترجیحات اور آخر میں اس کی آزادانہ سوچ۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف معاشی بحران ہے تو شاید آپ تصویر کا صرف ایک حصہ دیکھ رہے ہیں۔
اصل جنگ ہمیشہ ذہنوں پر لڑی جاتی ہے۔
اپنی رائے، اپنے شعور اور اپنی سوچ کو بچا کر رکھیے گا۔
کیونکہ جب انسان اپنی سوچ دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے، اس کے بعد اسے قابو کرنے کے لیے کسی طاقت کی ضرورت نہیں رہتی۔
تحریک انصاف میں بلو پاسپورٹ والوں کی بھی جگہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف میں عمران خان کی قید پر خاموش تماشائیوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں انڈر کور ایجنٹوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں منافقوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں دبے پاؤں کی بھی جگہ نہیں ہے
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کر کے جو کھیل ہو رہا ہے لوگ اس پر معلومات نہ ہونے کے باعث بول نہیں رہے
مگر جب رابطے بحال ہونگے تو پتہ چلے گا کہ چناروں کے پتے یوں بکھر گئے ہیں کہ انہیں سمیٹنے کی کوئی صورت نہیں رہی
وقت سے پہلے بولنا کب سیکھیں گے🤕
بھارتی فلم ستلج کے متعلق آپ نے سن ہی لیا ہو گا۔ ضرور دیکھنی چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ جب پولیس کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو کیسے کیسے المیے جنم لیتے ہیں۔ جب ان کے پاس اندھے اختیار ہوتے ہیں تو جان ، مال کیسے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، کیسے جرائم کے ثبوت مٹا دیے جاتے ہیں۔
فلم کا ایک منظر ہے جب دلجیت زخموں سے چور ، لہو لہو بدن کے ساتھ تھانے میں کچی زمین پہ بیٹھا ہوتا ہے تو ایک پولیس والا جس سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی ہوتی ، اس کے پاس بیٹھتا ہے اور کہتا ہے
“تم ان کی بات مان کیوں نہیں لیتے ، اس احتجاج سے پیچھے کیوں نہیں ہٹ جاتے۔ کیا ہو جائے گا اس سب سے، آپ مر بھی جاؤ گے تو کیا بدل جائے گا؟”
دلجیت اسے ایک قصہ سناتا ہے
“جب پہلی دفعہ سورج ڈوب رہا تھا اور اندھیرا چاروں طرف اپنی پیر پھیلا رہا تھا تو دنیا کو لگا کہ بس اب اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے گا۔ لوگ ڈر گئے تھے، روشنی کی آس چھوڑنے لگے تھے۔ تبھی دور اک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک دیا جل اٹھا اور کہنے لگا کہ میں اندھیرے کا مقابلہ کروں گا۔ اندھیرا چاہے جتنا بھی گہرا کیوں نہ ہو ، میں اپنے آس پاس روشنی پھیلاؤں گا۔
اس دیپک کی ہمت دیکھ کر باقی جھونپڑیوں میں بھی ایک ایک دیا جل اٹھا۔ اور دنیا حیران رہ گئی کہ ان سب نے مل کر اندھیرے کو ہرا دیا۔”
ہم اپنے وطنِ عزیز میں دیکھیں تو ایسا لگتا ہے چار سو اندھیرا پھیلا ہوا ہے، معاشی تنگی ہو، قانون کی پاسداری ہو، عوامی خوشحالی ہو ، رشتوں کا تقدس ہو یا سکون بھری زندگی کا کوئی امکان، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا ہے۔ ہم اکیلے اس اندھیرے کو نہیں مٹا سکتے لیکن اگر ہم دیپک کی طرح روشن ہو کر اپنا کردار ادا کر دیں تو اپنے اردگرد روشنی پھیلا سکتے ہیں، اپنے اردگرد پھیلے اندھیرے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے جلنے سے کیا معلوم اور کتنے دیپک ہمت پکڑ کر جلنا شروع کر دیں۔ ہم مایوسی کے ان اندھیروں میں اپنے حصے کی روشنی پھیلا سکتے ہیں۔
آپ وطنِ عزیز کے سب مسائل حل نہیں کر سکتے، آپ یہاں پھیلے اندھیرے کو اکیلے دور نہیں کر سکتے لیکن کیا آپ اپنے حصے کی روشنی پھیلا رہے ہیں؟
کیا آپ درست رویہ رکھے ہوئے ہیں؟ کیا آپ غلط کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبداری سے مضبوط آواز میں غلط کو غلط کہہ سکتے ہیں؟
آپ درست سمت میں کھڑے رہیے، اپنے اردگرد والوں کے لیے آسانی پیدا کرتے رہیے۔ اپنا کردار ادا کرتے رہیے۔ آپ اتنا ہی کر سکتے ہیں ، بس اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال ضرور کرتے رہیے کہ کیا آپ اتنا کر رہے ہیں؟
یہ اندھیرے اک دن دور ہو جائیں گے، سب کچھ بہتر ہو جائے گا ان شاللہ لیکن تب یہ ضرور یاد رہے گا کہ آپ اندھیرے کے ساتھ تھے یا دیا بن کر اس اندھیرے کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کیجیے، اپنے اردگرد روزشنی ضرور پھیلائیے۔ احمد فراز نے لکھا تھا
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اپنے حصے کی شمع جلا دیجیے، اپنے حصے کی روشنی پھیلا دیجئے۔ آپ کے اندر اطمینان اتر آئے گا ، آپ کو اپنی زندگی بامقصد لگنے لگے گی، آپ کو سکون ملنے لگے گا۔
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔
اہم ترین 🚨
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بنیادی قانونی تحفظات تک رسائی کے بغیر طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھا گیا ہے۔
عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، وکلاء اور خاندان کے افراد تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے
🚨 علیمہ خان کا قوم کے نام اہم ترین اور تفصیلی پیغام!
"چیئرمین عمران خان نے پچھلے تین سال جس خوفناک، کٹھن اور غیر قانونی قید کو انتہائی بہادری اور استقامت سے برداشت کیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے ہر ظلم ہنس کر جھیلا لیکن قوم کے نظریے پر سودا نہیں کیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس قربانی کا حق ادا کریں۔ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ اپنی حقیقی آزادی کے لیے میدانِ عمل میں نکلنے کا وقت ہے۔ قوم اب کسی مصلحت کا شکار نہ ہو، اور اپنی تمام تر توانائیاں، سوچ اور فوکس اب صرف اور صرف 'اسٹریٹ موومنٹ' (عوامی تحریک) پر مرکوز کر دے۔ حقیقی آزادی کا راستہ اب صرف عوامی طاقت سے ہی ممکن ہے!"