کیسا ملک ہے یہاں پر پیمپرز پہننے والی معصوم بچیاں بھی جنسی درندوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ وہ بچیاں جنہیں ابھی اپنے مخروجات پر بھی اختیار نہیں ہے اور والدین پیمپرز لگا کر رکھتے ہیں۔
یہ درندگی، یہ پاگل پن، یہ ذہنی مرض صرف سخت ترین پبلک سزاؤں کے ساتھ روکا جاسکتا ہے۔
دس بارہ سال پہلے ایران میں ایک چھ سات سال کی غریب والدین کی فغان بچی (ایرانی نہیں) کے ساتھ ایک دکاندار نے ریپ کیا اور بعد میں مار کر پھینک دیا۔ ریپسٹ کا پبلک ٹرائل ہوا اور ایک ماہ کے اندر اندر اس کی لاش اس کی دوکان کے سامنے کرین سے لٹک رہی تھی۔ اور پورا دن لٹکتی رہی۔ دس بارہ سال ہوگئے کبھی کوئی دوسرا واقعہ نہيں ہوا۔
بچوں کے خلاف جرائم ایسے روکے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ کہ اوپر غیر منتخب حکمران خود قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے۔ جب لاقانونیت ننگی ناچ رہی ہو تو یہ نیچے کے لیول تک مجرموں تک trickle down کر جاتی یے۔ یہ ہے ہمارا المیہ۔
نظر تیز اور آنکھیں صحت مند! 👀✨
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ 4 غذائیں آپ کی آنکھوں کی روشنی کو کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں؟ ویڈیو دیکھیں اور اپنی روزمرہ کی خوراک میں انہیں شامل کریں۔ 🥕🐟
لوکل ٹھیلے وغیرہ تو سمجھ آتا آپ یہ چیک کریں کہ انٹرنیشل برانڈ ہارڈیز کے برگرز چیک کر لیں انکا برگر 1850 روپے کا ہے اور اس میں سنڈیوں والا آٹا اور گلی سڑی سلاد اور گندا کھانا کھلاتے ہیں
پاکستان میں ریستوران کی حالت دیکھ کر تو بہ��ر خیال یہی کبھی مت کھائیں
بھارت کے شہر اتر پردیش میں غلطی سے بارہ سالہ لڑکا گھاگرا دریا کنارے چلا گیا جہاں پہلے سے مگرمچھ لیٹا ہوا تھا، جس نے فوراً لڑکے کو دبوچ لیا لڑکے کے چچا پہنچنے تک مگرمچھ شکار سمیت گہرے پانی میں جا چکا تھا، اللّٰہ رحم فرمائے ایسے سردناک مناظر سے۔۔۔👇
@RTEUrdu Yahi wo america hai jo arab desho ko hathyar k saath jung bhi bech raha hai abhi to kuch hi israel k jasoos iran me hai jo dono ladwa rahe hai to socho agar iran me israel ka pura control ho gaya to wo iran ko kis tarah istemal karega.
اسلام آباد: Gerry's Visa Application Centre دفتر کے باہر مبینہ نیٹ ورک سرگرم، فوٹو کاپی کا 26 ہزار بنتا ہے آپ 2 ہزار دے دو شہری اضافی رقم دینے پر مجبور ذرائع
ذرائع کے مطابق Gerry's Visa Application Centre کے دفتر کے باہر مبینہ طور پر غیر رسمی ایجنٹس کی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں شہریوں سے ویزا دستاویزات کی تیاری کے نام پر اضافی رقوم وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ذرائع
مبینہ طور پر فوٹو کاپی اور پرنٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے بعض افراد شہریوں سے مختلف مراحل کے عوض 2 ہزار روپے سے 26 ہزار روپے تک رقم وصول کر رہے ہیں، جس پر شہری مجبوری کے تحت ادائیگی کرنے پر مجبور ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ اپنا Vissa پراسیس کروانے آتے ہیں اندر سہولیات کے باوجود دفتر کے باہر غیر قانونی طور پر ایک مبینہ نیٹ ورک سرگرم رہتا ہے، جس کے باعث درخواست دہندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے Gerry's افس اور اسلام اباد انتظامیہ سے فوری طور پر نوٹس لے، غیر قانونی وصولیوں کا خاتمہ کرے اور شہریوں کو براہِ راست سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک مافیا کا خاتمہ ہو سکے۔
@dcislamabad@ccislamabad@gerrys_visa
سعودی کفیل کہتا سانڈا لازمی پکڑ کر دو سانڈے کو پکڑنے کے لئے صحرا میں پانی کی گاڑی منگوا لی پتا نہیں یہ سعودی اس سانڈے کا کیا کرتے ہیں اسکے اتنے دیوانے کیوں ہیں