مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں ایک نجی چینل کے الیکشن سیل میں کام کر رہا تھا اور میرے ذمہ سیالکوٹ کے نتائج تھے۔ جب تقریباً 49 فارم 45 کے نتائج رپورٹرز نے مجھے بھیجے اور میں نے ان کو اپڈیٹ کیا تو اچانک سے حکم آیا کہ نتائج اسکرین پر غلط جا رہے ہ��ں۔ خواجہ آصف کو تقریباً 30 ہزار کا مارجن صرف 49 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 پر کیسے آ سکتا ہے۔ غلط ہے دوبارا گنتی کریں۔ میں نے دوبارا گنتی کی اور کہا حضور رزلٹس بالکل صحیح ہیں جس پر مجھے روک دیا گیا کہ مزید اس حلقے کے نتائج اسکرین پر نہیں چلانے۔
@AUKhanOfficial1
اساتذہ کی تنخواہ اور سکولوں کی پرائیوٹائزئشن پر رانا سکندر صاحب سے چند سوالات کئے انہوں نے جواب میں میں اپنی ڈونیشن گنوا دی سوال کا جواب نہ دیا اور ساتھ ہی لیگی ٹرولز کی گالم گلوچ صبح سے جاری ہے۔
ہنزہ میں شرح تعلیم 95 % سے زیادہ ہے، لاہور میں 79 %۔ گوجرانوالہ کے خرم دستگیر ہنزہ میں کہہ رہے تھے ہم ہنزہ کو لاہور جیسا بنائیں گے۔ اب باقی کا فیصلہ ہنزہ والے کر لیں، لاہور جیسا بننا ہے یا ہنزہ ہی رہنا ہے
پرانے زمانے دِیاں زنانیاں کھسم دا ناں نئیں سی لیندیاں، کہندیاں سی ایدے نال نکاح ٹُٹ جاندا اے، میاں صاحب وی کسی دا ناں نئیں لیندے، عوام تے ہی پائی جاندے نیں، محمد حنیف
سعودی عرب کی سب سے بڑی اسٹیل کمپنی ’حدید‘ ہے، جس کی مالک سعودی حکومت ہے، دوسری بڑی کمپنی ’ الاتفاق اسٹیل پروڈکٹس‘ ہے، جس کا مالک ہلال حسین الطویرقی ہے، پھر Al-Rajhi Steel ہے، Zamil Steel ہے، Solb Steel ہے، Al Yamamah ہے پھر Alnafie ہے
ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ لے
اس بدبخت انسان کو نومئی کو شہید ہونے والے تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان دکھائی نہیں دیے۔ اس بے حس کو چھبیس نومبر کا قتل عام دکھائی نہیں دیا۔ اس شعور سے اندھے کو ہزاروں گھروں پر چھاپے یاد نہیں۔ اس بے ضمیر شخص کو معلوم نہیں کہ تحریک انصاف کے جلسے کا اعلان پشاور یا کراچی میں ہوتا ہے تو پنجاب اور کشمیر میں بھی متحرک کارکنان کو اغواء کرکے تھانوں میں بٹھا لیا جاتا ہے۔
تحریک لبیک کے لوگ احتجاج کے لیے نکلنے تو لاشیں سڑکوں پر پڑی تھیں اور کوئی اٹھانے والا نہ تھا۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچز پر شیلنگ بھی ہوئی اور فائرنگ بھی۔ نومئی کے بع�� تو جس قسم کی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کو معلوم نہیں۔ لیکن اس بدبخت کو وہ سب معلوم ہے۔ ایسا خوف پھیلایا گیا اور ایسی ایسی گری ہوئی حرکتیں کی گئیں کہ لوگ مجبور ہوگئے۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ ننگی ویڈیوز بھی اس خوف کا ہتھیار تھا برہنہ کرکے کرنٹ لگانا بھی خوف پھیلانے کا طریقہ۔ رہنماؤں اور کارکنان کی بہنوں بیٹیوں کے گھروں میں بھی چھاپے مارے گئے۔
اس بدبخت کو پتہ ہے کہ لوگ اس وحشت کے ہاتھوں خوفزدہ ہوگئے۔ لیکن جب جب لوگوں کو موقع ملا انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور آٹھ فروری جیسے معرکے برپا کیے۔ یہ بدبخت انسان ڈرے ہوئے اور خوفزدہ انسانوں کی بے بسی کو کچو��ے لگاتا ہے۔ ان پر طنز کے وار کررہا ہے۔ اس وحشت کو سیاسی گیند بازی کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یہ خوف ہمیشہ نہیں رہے گا۔ یہ وہی خوف ہے جو بلوچستان میں بلوچوں کی جوتیوں کی نیچے چپکا ہوا ہے۔ بس ہم دعا کرتے ہیں کہ کہیں اس ملک میں وہ نوبت نا آجائے ، پورا ملک ویسے حالات سے دوچار نہ ہوجائے ، ورنہ جن غاصبوں کو یہ بدبخت انسان جواز گھڑ گھڑ کے دے رہا ہے انکی وقعت مقبولیت اور پذیرائی کے خانے میں اس وقت کسی نالی میں گرے ہوئے شاپر سے بھی کمتر ہے۔
اب چونکہ اس کیس کے مرکزی مجرم سید عون علی نقوی کا تعلق ماڈل ٹاون لاہور کی تگڑی سید فیملی سے ہے
اس لئے اشرافیہ کے اس بگڑے رئیس زادے کی دفعہ CCD اس کے نیفے میں پستول نہیں چلائے گی ۔
بلکہ واقعے کو کوئی اور رنگ دے کر فائل ٹھپ کردی جائے گی۔
"میاں صاحب کے لگائے بجلی کے کارخانوں کی وجہ سے پاکستان کے عوام کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ہزاروں ارب روپے ادا کرچکے ہیں، ہزاروں ارب آگے بھی ادا کرنے ہیں۔ حیرت ہے کہ نواز شریف عوام کے ساتھ کی گئی اس دشمنی کا اظہار اعلانیہ طور پر کرتے ہیں"۔ رضوان غلزئی
@rizwanghilzai
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
@elonmusk@RupertLowe10 Hi @elonmusk Pakistani Ex-Prime Minister Imran Khan @ImranKhanPTI is the one who has suggested these Rapists should be hanged or castrated --
West has two options either hanged Rapists or castrated them
Reference; https://t.co/0yz3lgByhx
میرا خون کھولتا ہے جب کوئی ان کی سائیڈ لیتا ہے نواز شریف کے بھائی کی حکومت ہے نہ وزیرخزانہ اپنا ہے، نہ وزیرداخلہ اپنا
بیٹی پنجاب میں وزیراعلی ہے وہ دو لائیٹیں لگوا کر دو سڑکیں صاف کر کے کہتی ہے واہ واہ دیکھو ہم نے کیا کمال کر دیا ذرا دیکھو اس نے صوبے کا کیا حال کر دیا
سائرہ بانو
ویسے تو پنجاب کی لعنتوں کا شمار رب کے فرشتے ہی کر سکتے ہیں ، انسانی ادراک کے احاطہ میں آنے والی چیز نہیں مگر جو زیادہ نمایاں ہیں ان سے ایک تو لعنت سے بھی آگے کی چیز ہے۔
جب بھی کسی بے گناہ کو ماورائے عدالت اٹھا کر اس کی لاش لوٹائی جاتی ہے ، واحد پنجابی ہیں جو کہتے ملیں گے ایسے کوئی نہیں اٹھایا جاتا ضرور کچھ کیا ہوگا۔
ان لعنتیوں کے یہ تبصرے قاتلوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔