باجوڑ میں عوام کی سہولت کیلئے دو نئے نادرا سنٹرز، ایک واڑہ ماموند اور دوسرا ارنگ اتمان خیل میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ ارنگ نادرا سنٹر نے مستقل عمارت کی عدم دستیابی کے باعث عارضی طور پر اپنی خدمات کا آغاز کر دیا ہے۔
ارنگ میں سرکاری عمارت نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ بلڈنگ میں سنٹر کے قیام کیلئے باقاعدہ عمارت کی منظوری، ٹینڈرنگ اور دیگر قانونی و انتظامی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔
یہ دونوں مکمل نادرا سنٹرز ہیں، جہاں شناختی کارڈ سمیت نادرا کی تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی، جبکہ عوام کی بہتر خدمت کیلئے مکمل اور تربیت یافتہ عملہ بھی تعینات کیا جائے گا۔
سرکاری منصوبوں میں تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نادرا کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان شاء اللہ تمام مراحل جلد مکمل ہونے کے بعد دونوں نادرا سنٹرز باقاعدہ طور پر عوام کی خدمت کیلئے فعال کر دیے جائیں گے، جس سے بالخصوص واڑہ ماموند اور ارنگ اتمان خیل کے لوگوں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔
منسٹر مبارک زیب خان
( رکن قومی اسمبلی باجوڑ )
علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائی چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ریلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سوجھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
جی جناب۔۔۔ آ گیا۔۔ فلم ستلج کا ہائی ریزوولوشن ڈاؤنلوڈ لنک آ گیا۔۔۔ یاد رہے جس نے ستلج نہ دیکھی وہ ہم میں سے نہیں۔۔۔
Movie Satluj
We Transfer Download link https://t.co/RrzELC6Oz9
مکمل ستلج فلم ۔🚨🚨مودی نے انڈیا یہ فلم بین کردی گی کیونکہ اس میں پنجاب کے سکھوں کے ساتھ ظلم بربریت جو ہندوں نے کیا وہی دیکھاگیا ہے ۔
فلم دیکھیں اور موج کریں فری میں آپ دیکھ رہے ہو۔