پاکستان میں تیس سال سے کم عمر کے لوگ آبادی کا 68 فیصد ہیں۔ اور 48 فیصد نوجوان بیروزگار ہیں۔ زراعت اور صنعت کی پیداوار کم ہورہی ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار جبکہ حکمرانوں کے عیش و عشرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ابو سفیان اقنع الناس بان النبي مجنون
معاويه اقنع الناس بان علي لا يصلي
يزيد اقنع الناس بان الحسين خارجي
الوهابي أقنع الناس بأن الشيعه كفار
اليهود اقنع الناس بان إيران ليس دوله مسلمه
مجھے ایران یا سعودی عرب کی کوئی نیوز سائٹ دکھائیں جس میں ایران کے سعودی عرب پر حملے کا ذکر ہو۔
اگر وہاں ذکر نہیں ہے تو میرا پاکستانی میڈیا سے سوال ہے کہ تم لوگ امریکی فیک نیوز سائٹ کے اسرائیلی رپورٹر کا جھوٹ کیوں پھیلا رہے ہو؟
70% of attacks on Iran are coming from the American bases in Kuwait.
And some idiots ask why is Iran attacking a Muslim country Kuwait ?
A better question would have been that why is a “MUSLIM” country allowing a “ZIONIST” backed regime to attack another “MUSLIM” country from its soil.
But I guess questioning America is a cardinal sin for certain “Muslims” thus they would rather question the “Muslim” country which is being attacked.
By the way YAZEED was also a Muslim and a HAFIZ E QURAN……..,
یہ وہ قاتل ٹولہ ہے جسے ایپسٹین یعنی شیطانی کلاس کہا جاتا ہے۔
یہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ ہم لوگوں پر بمباری کرتے ہیں قتل کرتے ہیں۔
یہ وہی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم ہے جو ایران، لبنان، غزہ و یمن پر بمباری اور قتل عام پر خوش ہوتا تھا واصل جہنم ہوا۔
ممتاز پی ایچ - ڈی اسکالر ڈاکٹر صداقت علی فریدی صاحب کی تحقیق کے مطابق :
"بنو امیہ نے اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم سمیت بیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو شہید کیا، ایک لاکھ کے قریب مسلمان قتل کئے"
یہ جو عظمت صحابہ کی آڑ میں بنو امیہ کو تکریم دینے کی کوشش کی جاتی ہے
یہ دراصل اہل بیت رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی سب سے بڑی توہین ہے
مقتولین سے ہمدردی اور قاتلوں کی مدح سرائی ایسی عجب منافقت ہے کہ الامان الحفیظ !
#حسین_پھر_حسین_ہے
توہین صحابہ اکرام نا منظور۔۔!
اہل حدیث مولوی ہشام الہی کی صحابی رسول حضرت مالک اشتر رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں بد ترین گستاخی
اس کتے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور توہین صحابہ کے جرم میں اسے قانون کے مطابق سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔!
@GovtofPakistan@MohsinnaqviC42
چین کو ایران 80 فیصد تیل فراہم کرتا ہے, جی وہی چین جسکو دُنیا کی انڈسٹری کا باپ کہتے ہیں لیکن چین میں پٹواری نہیں ہوتے ورنہ اُنہوں نے کہہ دینا تھا کہ ایران کا پٹرول اعلیٰ نسل کا نہیں ہے۔
ایسے پٹواریوں کی ڈیوٹی لگی ہے کہ ایران سے تیل اور گیس کے بارے میں افواہیں پھیلائیں تاکہ حکومت پر ایران سے تیل اور گیس لینے کا دباؤ کم ہو سکے۔
عمران خان نے کہا تھا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اور دوسرا پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے
ایرانی تیل کی کوالٹی رپورٹ حاضر ہے، لیکن صرف پڑھے لکھے لوگوں کیلئے ہے۔
ایرانی خام تیل کا معیار اچھا سے بہت اچھا سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایشیا کے ریفائنریوں کے لیے۔ یہ تیل متوازن خصوصیات رکھتا ہے جو پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول جیسے مفید پروڈکٹس دیتا ہے۔ نہ تو بہت ہلکا ہے (جیسے پریمیم تیل) اور نہ ہی بہت بھاری یا زیادہ سلفر والا (جیسے کچھ وینزویلا والا تیل)۔
اہم اقسام اور خصوصیات:
ایران مختلف اقسام کا تیل پیدا کرتا ہے، جن میں ایرانی لائٹ اور ایرانی ہیوی سب سے زیادہ اہم ہیں:
ایرانی لائٹ:
(سب سے زیادہ مقبول اور برآمد ہونے والا): API گریویٹی: 33–36° (میڈیم لائٹ خام تیل)۔سلفر کی مقدار: تقریباً 1.36–1.5% ( sour)۔بہت سے عام ریفائنریوں میں آسانی سے ریفائن کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی ہیوی:
API گریویٹی: 29–30° (میڈیم ہیوی)۔
سلفر کی مقدار: 1.8–2.24% (sour)۔
زیادہ فیول آئل اور ریسڈیو پیدا کرتا ہے؛ ریفائنریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔دیگر اقسام جیسے Forozan یا Soroosh زیادہ بھاری اور سلفر والے ہوتے ہیں۔
دوسرے تیلوں سے موازنہ:
WTI (امریکہ) اور Brent (یو کے) سے بھاری اور زیادہ سلفر والا ہے لیکن بہت سے مشرق وسطیٰ کے بھاری تیل سے بہتر ہے
ریفائنریوں کے لیے “sweet spot” سمجھا جاتا ہے - نہ بہت ہلکا (جو کم ویلیو والا naphtha زیادہ بناتا ہے) اور نہ بہت بھاری۔اس لیے چین اور بھارت میں بہت ایرانی تیل کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
مجموعی جائزہ:
فوائد: متوازن، اچھی پیداوار، مختلف ریفائنریوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، قیمت میں مقابلہ کرتا ہے، (Brent سے ڈسکاؤنٹ ملتا ہے)۔
چیلنجز: سلفر کی وجہ سے ڈی سلفرائزیشن (صفائی) کی ضرورت پڑتی ہے، جو ماحولیاتی پابندیوں والے ممالک میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔
ایران پر پابندیوں کے باوجود ایران کے تیل کی مانگ برقرار ہے کیونکہ ریفائننگ کے لیے موزوں ترین تیل ہے۔
ایران پر پابندیاں ہٹتے ہی ایک دن میں ایران سے چار ارب ڈالر کا تیل برآمد ہوا ہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
سپین، ناروے اور جرمنی میں لوگ ایرانی فٹ بال ٹیم کی حمایت اور مناب کی شہید بچیوں کی یاد میں سڑکوں پر آ گئے
کاش اسلامی ممالک میں بھی مناب کی شہید بچیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کوئ تقریب ہو؟
تیل کی عالمی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیل کی قیمت زیادہ سے زیادہ 140 سے 150 روپے ہونی چاہیے
مگر یہ ظالم رجیم جنگ کے بہانے سے عوام کو ابھی اور لوٹے گی
#پاکستان
جب بڑھانا تھا
اکٹھا 55 روپے بڑھایا
پٹرولیم کمپنیوں کو اربوں روپے کی ناجائز منافع خوری کا بھرپور موقع دیا
اور کم کرنا پڑ رہا ہے
تو پہلے دو بار پانچ پانچ روپے اور اب بائیس روپے کم کیا ؟؟
کیوں ؟؟
250 سے سیدھا 430 پر لے گئے
اب 150 پہ آنا چاہیے تو نہیں لا رہے ؟؟
عرض کیا تھا یہ رجیم دانستہ ملک و قوم کو برباد کرنے کے ایجنڈے پر ہے
#پاکستان
پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
ایران کن محازوں پر جنگ جیتا؟
۱- آبناۓ ہُرمز جہاں دُنیا کی 20% تجارت ہوتی ہے، وہ اب مستقل ایران کے کنٹرول میں رہے گی، ایران انشورنس کی مد میں سالانہ اربوں ڈالر کماۓ گا
۲- ایران نے آبناۓ ہُرمز میں انٹرنیٹ سب میرین کیبل کی فیس مانگ لی ہے، یہ اگلا قدم ہوگا
۳- ایران نے جنگی حکمت عملی بدل دی جس سے فائیٹر جہاز F15, F16, F18, F2’F35 کی اہمیت مستقبل کی جنگوں میں ختم ہو گئی ہے، اسکی جگہ ڈرونز لے چکے اور کم خرچ، بالا نشین پر پورے اُترے
۴- ایرانی جنگی حکمت عملی نے ائیر کرافٹ کیرئر کی ضرورت اور اہمیت کو ختم کر دیا، یہ مستقبل میں 5 سٹار ہوٹل بنیں گے
۵- اصفہان پر امریکی کمانڈو آپریشن کی بد ترین ناکامی کے بعد اب امریکی کمانڈو آپریشن صرف ہالی ووڈ فلموں تک محدودو رہیں گے، جیسے بھارتی جنگی کارنامے صرف گھٹیا بالی ووڈ فلموں تک محدود ہیں
۶- ایران نے سفارتی محاز پر امریکہ اور اسرائیل کو شکست دی، امریکہ اور اسرائیل دُنیا میں اکیلے رہ گئے، اتحادی ساتھ چھوڑ گئے
۷- ایران نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی امریکی اور اسرائیلی پروپگینڈے کو شکست دی، پریس ٹی وی نے animated ویڈیوز سے جنگی آپریشنز اور امریکی معاشی جھٹکوں کو زبردست طریقے سے پیش کیا
۸- ایرانی سفارت خانوں کے ذریعے زبردست سوشل میڈیا کمپین دُنیا کے ہر ملک میں چلی اور دُنیا نے فالو کیا، غیر معمولی توجہ حاصل کی،
۹- روس اور چین کو پہلی دفعہ امریکہ کے خلاف حوصلہ ملا ورنہ دونوں ڈرے ڈرے سہمے سہمے امریکہ کا مقابلہ کر رہے تھے، اب دونوں دُم پر کھڑے ہو چکے ہیں،
۱۰- امریکی اتحادیوں نے پہلی دفعہ امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا، صرف اسلامی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا
۱۱- ایرانی انقلاب وقت کے ساتھ کمزور پڑ گیا تھا، جنگ نے انقلاب کو نئی زندگی دے دی
۱۲- تاریخ میں پہلی دفعہ مسلمانوں میں تفرقے بازی کو گہری چوٹ لگی، اور مسلمانوں کی اکثریت نے شیعہ سنی تفریق کو رد کر دیا اور اس سے شدت پسند مذہبی رجحانات کی حوصلہ شکنی ہوئ
۱۳- امریکی اڈوں کی طاقت ریت کی دیوار ثابت ہوئ، اب امریکی اڈوں کے ختم ہونے کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے
۱۴- ایران کو اپنی طاقت کا احساس ہوا اور اب وہ ایک عالمی طاقت بنکر اُبھریں گے
۱۵۔ اسلامی ممالک میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہوگا، احساس پیدا ہو چکا ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ایک سنی عالم کا تشیع کے بارے میں اعتراف👇
ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، مصر کے دینی مدارس کے طلبہ شیعہ ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ اہلسنت کے دینی مدارس کے اساتذہ اور محدثین بھی شیعہ ہو چکے ہیں۔👍❤️
ایران کی کرنسی کیوں کمزور ہے؟ کیا ایران کی معیشت کمزور ہے؟
میرا مشن میڈیا اور سوشل میڈیا پر جہالت کے خلاف جہاد ہے،
کسی جاہل نے ایران کی کمزور کرنسی کی بنیاد پر ایران کی معیشت کی تباہ کُن منظر کشی کی، اب حقائق آپکے سامنے رکھتا ہوں
سنتالیس سال کی اقتصادی پابندیوں کیوجہ سے ایران کی برآمدات زیادہ تر چین، روس، ترکیہ، عراق، شام، یمن، اومان، افغانستان ، پاکستان اور وسطی ایشیائ ممالک میں ہے،
لیکن ان اقتصادی پابندیوں کا فائدہ ایران نے ایسے حاصل کیا کہ اُس نے دُنیا کی ہر ٹیکنالوجی اور انڈسٹری اپنے ملک میں پیدا کر لی، ایران کو باہر کی دُنیا سے کچھ بھی نہیں خریدنا پڑتا، یعنی ایران کو ڈالرز کی ضرورت ہی نہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران ڈالر فری ملک ہے، جو دُنیا کی ہر ضرورت اپنے مقامی وسائل سے پوری کرتا ہے، صرف ہیوی انڈسٹری کیلئے مشینری چین اور روس سے خریدتا ہے اور اُسے بھی اپنے ملک میں کاپی کر لیتا ہے
ہاں ایران کا تیل ضرور پٹرو ڈالر میں فروخت ہوتا ہے، جس سے ایران ڈالر کماتا ہے اور وہ ڈالر یا تو ایران کی دفاعی اور انڈسٹریل ضروریات کیلئے چین اور روس کو چلے جاتے ہیں یا ایران کے فارن ریزرو میں رکھے جاتے ہیں، ایران کے سو ارب ڈالر فریز ہیں اور 25 ارب ڈالر اسوقت فارن ریزرو میں موجود ہیں،
ایران کا بیرونی قرضوں پر بلکل انحصار نہیں، ایران کے کُل بیرونی قرضے صرف 4 ارب ڈالر ہیں جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 بنتا ہے، یاد رہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے 150 ارب ڈالر ہیں جو کہ جی ڈی پی کا 33 فیصد بنتے ہیں یعنی پاکستان کے قرضے ایران سے 38 گُنا زیادہ ہیں
ایران ایسے راستے پر ہے جہاں ڈالر کی کوئ اہمیت نہیں، وہ جاہل جو ایران کی معاشی طاقت کا اندازہ ایک ڈالر میں کتنے ایرانی ریال سے کرتے ہیں وہ معیشت کو نہیں سمجھتے،
کسی بھی ملک کیلئے بیرونی قرضوں کا کم ہونا، اور درآمدات کا بر آمدات سے کم ہونا ہے، مقامی انڈسٹری کا خود کفیل ہونا، مضبوط معیشت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ ایران ہے، جسکا سالانہ ٹریڈ سرپلس 40 ارب ڈالر ہے، یعنی ایران دُنیا کے اُن چند ممالک میں ہے جسکی برآمدات درآمدات سے تقریباً دوگنی ہیں
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران ڈالر سے تقریباً آزاد ہو چکا ہے، ایرانی پراڈکٹس قیمت میں اپنے خطے میں سب سے سستی ہیں اور اُسکی وجہ کمزور کرنسی ہے اور یہی ایران کی برآمدات کی طاقت ہے
مجھے جہالت کے خلاف جہاد کرکے دلی تسکین ملتی ہے، ایران کے بارے میں حقائق اسلئے بتاتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل امریکہ سے نہیں ایران کے ساتھ زیادہ محفوظ ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Economics
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ایران کا حالیہ سفارتی رویہ، مذاکرات میں تاخیر اور امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لانا محض "ضد" نہیں بلکہ یہ سٹریٹجک سوچ اور سمجھ ہے کہ ایران کا دفاع کرنا روس اور چین کا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کی اپنی سیکیورٹی اور معیشت کی مجبوری ہے۔
اگر ایران کا دفاعی نظام گرتا ہے تو روس کا پورا جنوبی حصہ نیٹو اور امریکہ کے لیے کھل جائے گا۔ روس جو جنگ یوکرین میں لڑ رہا ہے ایران کے ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں وہ جنگ براہِ راست ماسکو کے دروازے تک پہنچ جائے گی۔
دوسری طرف ایران کے بغیر چین کا "ون بیلٹ ون روڈ" ایک کٹی ہوئی پتنگ کی مانند ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا 60% سے زیادہ خلیج فارس سے پورا کرتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر قابض ہوتا ہے تو چین کی معیشت کا ریموٹ کنٹرول واشنگٹن کے پاس چلا جائے گا۔
ایران جانتا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں یا دباؤ کے باوجود واشنگٹن ایک محدود پوزیشن میں ہے۔ کیونکہ بھلے امریکہ ایران کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہ روس اور چین کے ساتھ براہِ راست ایٹمی تصادم مول لینے کا "ارادہ یا ہمت" نہیں رکھتا، جو ایران پر حملے کی صورت میں روسی اور چینی معیشت اور دفاعی پوزیشن کو نقصان کے باعث ناگزیر ہو سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران ایک آسان ہدف نہیں بلکہ ایک ایسا سٹریٹجک جال ہے جس پر قدم رکھنے کا مطلب پوری عالمی بساط کا الٹ جانا ہے۔
ایران کی طاقت صرف اس کی اپنی فوج نہیں بلکہ اس کا جیو پولیٹیکل کردار ہے ۔ وہ مشرقِ وسطیٰ میں Resistance Axis کا سربراہ اور عالمی توانائی کی سپلائی کا گیٹ کیپر ہے۔
اس کے علاوہ یوریشیا کو جوڑنے والی اہم ترین کڑی ہے۔
امریکہ اس وقت Wait and See کی پالیسی پر ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ سیز فائر ٹوٹنے کا مطلب ایک ایسی جنگ ہے جس کا اختتام اس کے اختیار میں نہیں ہوگا۔
ایران اس وقت ایک ایسی تکون کے مرکز میں ہے جہاں اس کی شکست روس اور چین کے لیے ایک Existential Threat بن جائے گی۔ اسی لیے ایران بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی بساط پر اپنی چالیں چل رہا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ اس کے پیچھے کھڑی طاقتیں اسے گرنے نہیں دیں گی۔
اس سے اچھا خطاب شیعہ سُنّی اتحاد کے بارے میں اور امام خامنائکے بارے میں شاید کسی اہلِ سُنّت عالم نے پہلے نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔
ضرور دیکھیں۔ https://t.co/KFgfcMo1BJ
اگر ایران اور امریکہ کی پکی جنگ بندی ہوگئی تو پاکستان کو چاہیے فورا ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کرکے پاکستان کی بند انڈسٹری کو چلائے۔ اس کے بعد ایران سے سستے داموں تیل خریدے تا کہ عوام کو فائدہ پہنچا۔