ملک کا وزیراعظم یہ نہیں کہہ رہا کہ دھاندلی نہیں ہوئی جو مرضی حلقہ کھلوا ل�� بلکہ کہہ رہا ہے اگر پہلے حکومت جائز تھی تو پھر ہماری بھی جائز ہے
الیکشن 2024 میں اتنی زیادہ دھاندلی کی گئی کہ وزیراعظم سے لیکر عام سپورٹر تک کوئی ایک بندہ یہ نہیں کہتا کہ ہم الیکشن جیتے ہیں
یعنی پی آئی اے کو بیچنے کا جو مقصد تھا کہ ٹیکس پیسے پر بوجھ ختم ہو وہ پورا نہیں ہوا ۔۔
پی آئی اے کو بیچنے کے بعد بھی اربوں روپے کی سبسڈی دی جائیگی ۔۔
کیا ملک ہے جہاں قومی ائیرلائن ملک کا دفاعی ادارہ فرنٹ بزنس گروپ کے زریعے مفت میں خریدتا ہے پھر اپنے لئے ٹیکس چھوٹ بھی لے لیتا ہے
چار مہینے پہلے کلور کوٹ بھکر میں سی سی ڈی کے روایتی مقابلے میں ایک 7 سالہ کم سن بچی فائرنگ سے ماری گئی۔ اس پر کسی صوبائی وزیر، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی وغیرہ نے پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ اس معصوم کا قصور یہ تھا کہ اس کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ نہیں تھا، اس لیے اسکا خون معاف!
اگر میں جعلی ووٹ سے ایم این اے بنا ہوں تو مجھ پر لعنت ہو ،اب یہی جملہ حکومتی بینچ پر بیٹھے افراد دہرائیں۔
اور اسکے بعد حکومتی بینچوں پر بیٹھے افراد مک��ل خاموش۔
انعام الحق نے پرسوں UK خطاب کے دوران کہا تھا کہ ISI والے میرے گھر بیٹھے ہوۓ ہیں اور میرے خاندان کو ہراساں کر رہے ہیں لیکن میں اپنی بات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا
آج اس ISI گینگ نے انعام الحق کے بھائی سے ویڈیو پیغام دلوا کر انعام الحق سے لاتعلقی کروا لی
یہ ایجنسی ہے یا گینگ
شہبازشریف سے متعلق مہر بخاری صاحبہ کے پروگرام میں جو گفتگو فیصل ووڈا نے کسی ، اس پر کسی منسٹر کے منہ سے چوں نہیں نکلی ، ن لیگ کے سوشل میڈیا کی ا��قات بھی سب نے دیکھ لی ، کسی کی جرآت نہیں ہوئی کہ ایک جوابی ٹویٹ ہی کردیں
نظام کے اپنے ہی تمام لوگ اپنے ہی کراۓ گئے الیکشنز کا خود ہی آ کر ہر روز پول کھول رہے ہیں۔ اور بیٹھنے والے پھر بھی ڈھٹائی کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں اور فتح کے دعوے بھی کرتے ہیں!
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
سانحہ ساہیوال آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔ عاصم منیر اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ تب بھی آئی ایس آئی کی پالیسی یہی دیکھے بغیر بھون دو تھی۔ سی سی ڈی بھی اسی ذہنیت اور شہباز شریف کے پولیس مقابلوں والی سوچ کا تسلسل ہے۔ نیفے میں پستول چلنے کی خوشیاں منانے والے بھی چکوال میں معصوم بچی کے شہادت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کسی کا جرم کتنا ہی گھناونا کیوں نہ ہو ، بغیر ٹرائل کے سزا دینا اس سے بڑا جرم ہے اور معاشرے میں تباہی کا سبب ہے۔
پنجاب میں گوبر ٹیکس کے بعد ٹوائلٹ ٹیکس کا نفاذ ، فی ٹوائلٹ 2500 روپے ماہانہ ٹیکس لاگو کر دیا گیا واسا نے ناصر میڈیکل کمپلیکس کو 17 ٹوائلٹس کا 62500 روپے ٹیکس کا نوٹس بھیج دیا! اسداللہ خان ۔۔۔
A nation gets the leaders it deserves. Nawaz, Zardari, and Asim rule because the public is too timid to stand up. When a nation is cowardly, its bravest leaders always pay the price.
#Freeimrankhan#pakistan
This is the only story that matters when it comes to Pakistan. 👇
For nearly 3 years former Prime Minister Imran Khan has been in a death cell, and from what the reports suggest, has gone blind in one eye due to torture at the hands of the current brutal military dictatorship in Pakistan. And for last 6 months especially he has been in total isolation facing psychological torture with no meetings with family.
This is how terrorists are treated in prison cells the way former Prime Minister, a Cricketing Hero, and someone who built cancer hospitals for the poorest in the country is being treated.
At the moment there is no proof of his life and has become a missing person by an illegitimate military regime. This unpopular regime is only able to maintain its grip on power through foreign endorsement and backing from Western liberal democracies, Arab Monarchies, and the US that find a compliant military dictator in Pakistan to be more useful than a stable and sovereign democracy.
The ultimate price of a dictatorship is paid by the 240 million people in the country.
Free Imran Khan!
اپنی حکومت آئی تو اس بے شرم کو دس سال چاہیے
عمران خان کی حکومت میں یہ بے شرم دس ماہ بعد تبدیلی مانگ رہا تھا
پوری ن لیگ اور پٹواری عمران خان کی حکومت میں پہلے تین ماہ بعد ہی تبدیلی مانگ رہے اب چار سال بعد کہہ رہے ��س سال چاہیے
مجھے تواتر کے ساتھ خبریں ملیں کہ راولاکوٹ میں شہید ہونے والوں کی لاشیں ان کے لواحقین کو نہیں دی جا رہیں۔میں نے بڑی مشکل سے راولاکوٹ کے نزدیکی علاقے کھائی گلہ کے عثمان صابر کے بھائی کا نمبر حاصل کیا جو 7 جون کی شام راولاکوٹ سی ایم ایچ کے باہر قتل عام کا نشانہ بنا۔عثمان کے بھائی عمران نے کہا کہ میں سی ایم ایچ لاش لینے گیا تو میرے سامنے پولیس لاش وہاں سے لے گئی۔میں نے منتیں کیں کہ میری بیوہ اور آنکھوں کی بصارت سے محروم ماں اس کی لاش کی منتظر ہے تو پولیس یہ کہہ کر لاش کسی نا معلوم مقام پر لے گئی کہ یہ کون سا حج کر آیا ہے۔محمد عمران اگلے روز تھانے گیا تو پہلے اسے کسی کرنل صاحب کے پاس جانے کا کہا گیا اور پھر یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ لاش امانتا دفنا دی ہے۔محمد عمران نے تصدیق کی کہ بعض لوگوں کو اس شرط پر لاشیں دیں گئیں کہ وہ لکھ کر دیں کہ ان کا عزیز دہشت گرد تھا۔محمد عمران سے اپنی تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو میں صبح اپلوڈ کروں گا۔