“کیا یہ تھا علامہ اقبال کا خواب؟ کیا یہ ہے قائد کا پاکستان؟
قائدِ اعظم کی بیسیوں تقاریر موجود ہیں جس میں وہ جب عسکری فورسز کو مخاطب کرتے تھے تو انہیں کہتے تھے:
آپ نے سیاست سے دور رہنا ہے،
آپ نے جمہوریت کو پھلنے پھولنے دینا ہے،
آپ نے جمہوریت کے تابع رہنا ہے۔
انہیں ڈر تھا کہ جو ملک میں بنا کے جا رہا ہوں کہیں اس میں ظلم کا دور دورا نہ ہو۔
آج ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں قائد ہمیں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔”
سلمان اکرم راجہ
پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا—
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے عمران خان کی قیدِ تنہائی اور ملاقاتوں پر کئی ہفتوں سے جاری غیر اعلانیہ پابندی کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کا بہترین طریقہ اختیار کیا۔
سہیل آفریدی پوری رات شدید سردی میں
عمران خان کی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیے بیٹھے رہے۔
صبح وہ عدالت گئے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس ڈوگر کو اُسکی اوقات بتائی کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کس طرح عدالتی احکامات کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔
دھرنا ختم ہوا—مگر اعلان ہو چکا ہے کہ منگل کو دوبارہ آئیں گے۔
یہی اصل مزاحمت ہے۔✊
مزاحمت لاکھوں لوگوں کے سڑکوں پر آنے کا نام نہیں، وہ انقلاب کہلاتا ہے۔
جب تک انقلاب برپا نہ ہو، تب تک مزاحمت کا مطلب ہے:
کم وسائل کے ساتھ، کم تعداد کے باوجود، طاقتور مخالف ہوا کے سامنے ڈٹے رہنا۔
آج سب سے بڑی مثال خود عمران خان ہیں—
جو کچھ کیے بغیر، محض جیل میں بیٹھے رہ کر مزاحمت کی علامت بن گئے ہیں۔ مخالفین ان پر اپنی شرائط تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وہ مسلسل انکار کر رہے ہیں۔
عمران خان کا جیل میں موجود رہنا بھی ایک عملی اور طاقتور مزاحمت ہے۔
سہیل آفریدی پر تنقید کرنے والے یا تو کسی ایجنڈے پر ہیں، یا پھر جذبات میں اندھے۔
محدود وسائل میں مزاحمت کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ:
ایک وزیرِ اعلیٰ کا پوری رات اپنے قائد کی ملاقات کے لیے جیل کے باہر بیٹھنا—یہ عالمی خبر ہے، اور حقیقی مزاحمت کی عملی شکل ہے۔ جو لوگ سہیل آفریدی کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں نظرانداز کریں۔
سہیل آفریدی نے بہترین قدم اٹھایا ہے—اور ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہیے۔
منگل کو وہ دوبارہ آئیں گے،
اور مزاحمت اسی طرح جاری رہے گی۔
کیونکہ آج کے حالات میں
قبرستان جیسا سکوت سب سے خطرناک ہوتا ہے۔
اور اس سکوت کو توڑنے کی ہر کوشش،
وہی اصل مزاحمت ہے۔✊
بات یہ ہے کہ عمران خان جیل سے پیغام بھیجتے ہیں کہ عاصم منیر ذہنی مریض ہے ، ذہنی مریض کو کُچھ بھی کہو صرف ذہنی مریض ناں کہو کیونکہ اُسے اِن الفاظ سے شدید چِڑ ہوتی ہے،
عاصم منیر نے عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی صرف اس لیئے لگائی ہے تاکہ عمران خان اُسے ذہنی مریض ناں کہہ سکے ،
ہے ناں ذہنی مریضوں والی حرکت🖐️
پٹواری:۔ میں اس وقت کام پے آیا ہوں بیروزگار ہوں ناں🤔
نواز بھگوڑا:۔ اچھا تو آپ بیروزگار ہیں 🤔
پٹواری:۔ جی بیروزگار ہوں اس وقت تلہ گانگ میں مزدوری کر رہا ہوں🤔
مریم پھر پکڑی گئی 🤣🤣🤣🤣🖐️🖐️🖐️🤣🤣🤣🤣
انصافینز توجہ فرمائیں‼️
یہ صاحب شاید بھول رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی کئی “پروجیکٹس” آئے اور پی ٹی آئی نے سب کو سیاسی میدان میں جواب دے کر فارغ کیا۔
اس بیغیرت کو بھی اسکی اوقات یاد دلائیں تاکہ یہ اپنے آقاؤں کو بتائے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا سامنا اتنا آسان نہیں۔
All sisters of Imran Khan LIVE from Adiala ; they said they will NOT leave until at least one of the sisters meets Imran Khan!
Everyone requested to go to Adiala to support them please! Please take food and water if possible!
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
کل اڈیالہ کے باہر دیا جانے والا دھرنا بھی اسی وقت ختم ہوا جب شاید آئندہ دنوں میں ملاقات کی یقین دہانی کروائی گئی۔
فی الحال صبر، حکمت اور احتیاط کی ضرورت ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کسی اور کے ہاتھوں استعمال ہوجائیں۔
27th ترمیم، فوجی مفادات اور بدلتی سیاسی چالیں
1️⃣
ستائیسویں ترمیم میں فوج سے متعلق جو نئی شقیں شامل کی گئیں—خاص طور پر تاحیات استثناء اور آرمی چیف کی پانچ سالہ مدتِ ملازمت—یہ ایسی مراعات ہیں جنہیں کوئی بھی جنرل خوشی سے قبول کرے گا۔
یہ بالکل “چوپڑیاں اور دو دو” والی صورتحال ہے
یہ ضروری نہیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ہو—
یہ نون لیگ بھی کرسکتی ہے تاکہ پی ٹی آئی اشتعال میں آکر سڑکوں پر نکل آئے، اور نوٹیفکیشن روکنا آسان ہو جائے
فیصلہ کرنے سے پہلے ہر پہلو کو دیکھنا ضروری ہے۔
52 gunshot victims confirmed validated by the volunteers before Asim Munir and team started cracking down on all people providing info.
This proves the #IslamabadMassacre as this many people with gunshot wounds confirm mass firing.
#گولی_کیوں_چلائی
آر او آفس کو ڈگری کالج سے تبدیل کر دیا گیا، وہاں پر خندقیں کھود دی گئیں۔ پھر آر او آفس کو ایف سی اور فوج کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ رزلٹ روک لیے اور رزلٹ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ پھر ہم نے ان خندقوں کو پُر کیا، فوج اور ایف سی کے جوانوں سے آر او آفس کا قبضہ چھڑوایا اور ہری پور کی سیٹ کا رزلٹ بزورِ طاقت فوج سے ہم نے چھینا اور ہم نے اپنی جیتی ہوئی سیٹ کا فارم 47 حاصل کیا۔ کاش شفیع جان اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہتے، لیکن کیا کریں وہی دُکھ بھری داستان۔
جو خود عمران خان کے نام پر دیہاڑیاں لگانے کے لیئے لوگوں کے DM میں دُکھ سُناتا رہا آج وہ پی ٹی آئی کے لوگوں کی تزلیل کر رہا ہے۔
بہت دیر سے پردہ رکھنے کی کوشش کی لیکن جو دوسروں کو زلیل کرے اسکا لحاظ کرنا زیادتی ہے۔
جس طرح یہ دُکھ سُنا رہا تھا اگلا مرحلہ ڈیمانڈ ہی تھی یہ تو دوسری سائیڈ کو سمجھ لگ گئی کہ یہ دیہاڑی لگانے کے چکر میں ہے اس لیئے اُسے گھاس نہیں ڈالی۔
یہاں ایک سے بڑھ کر ایک رنگباز عمران خان کے نام پر اپنے مقاصد کے لیئے عمران خان کا نقصان کر رہا ہے!
اور اسے اس بات کی امیونٹی دے دی گئی ہے کہ چاہے وہ کوئی بھی جرم کرے — اغوا، ڈکیتی، قتل، شادی پر ہوائی فائرنگ — وہ کچھ بھی کرے، اسے کوئی قانون ہاتھ نہیں لگا سکے گا۔
محمد حنیف 🔥
اصل کام جو ڈالا گیا ہے وہ مارشل لا کا جو ڈنڈا تھا اس کو آئینی کور دے کے کہا گیا ہے کہ یہ ہمارا ڈنڈا ہے اور یہ تمہاری پیٹ جب دل کرے گا جتنا دل کرے گا چلائیں گے۔
محمد حنیف🔥