Come to the edge
We can't We're afraid
Come to the edge
We can't We will fall!
Come to the edge
& they came
& he pushed them
& they flew
#IK
“ پشین بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان نے ایک شاندار جلسہ کرکے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ جلسہ میں حاضرین کی تعداد حیرت انگیز تھی۔ مولانا فضل الرحمان کا جلسہ اچھا خاصا بڑا تھا “ یہ تو ہوگیا وہ سب جو چند سو یا چند ہزار جگمگاتی روشنیاں دیکھ کر کوئی بھی تجزیہ کار بیان فرما دے گا۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کس جگہ سے اسمبلی میں ایم این اے ہیں؟ جی ہاں پشین سے کیونکہ وہ ڈیرہ سے اپنی نشستیں ہار گئے تھے۔ 2018 والی اسمبلی سے ہی مولانا باہر تھے کیونکہ تب بھی وہ ڈیرہ سے ہار گئے تھے۔ اس مرتبہ انہوں نے ساتھ پشین میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کروالیے تھے تاکہ کم از کم اسمبلی میں تو موجود رہیں۔
کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پشین میں آبادی کا تناسب کیا ہے؟ جی ہاں تقریبا سو فیصد پشتون آبادی۔ پھر کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس علاقے میں جمعیت علمائے اسلام کے مدارس اور وہاں پڑھنے والے بچوں کی تعداد بالترتیب سینکڑوں اور ہزاروں میں ہے۔ پھر آپ کیا اس سے بھی دلچسپ بات جانتے کہ اس جلسے کا نام کیا تھا؟ جی ہاں “ جلسہ برائے تحفظ حقوق مدارس “۔
اب تحفظ مدارس کے نام پر آٹھ دس ہزار طلباء کو سامنے بٹھا کر مولانا نے جلسہ کھڑکا دیا ہے اور صحافی آپ کو مولانا کے اس جلسے سے متاثر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ تبصرہ پاڑانہ بدنیتی کا کوئی علاج نہیں۔ لیکن جب جینوئن لوگ بھی اسی رو میں بہہ جاتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پاک فوج نے بندوق کی نوک پر قوم کا مینڈیٹ چھینا جعلی فارم سینتالیس بنا کر اپنی کٹھ پتلیوں کو حکومت بنا کر دی۔ عمران خان یہ الیکشن واضح اکثریت سے جیتا تھا۔
انصار عباسی صاحب سچے ہیں تو یونہی کلمہ پڑھ کر اسے جھٹلا دیں۔
چونکہ پاکستانی فوج نے الیکشن چوری کر کے اور نہتے و پرامن سیاسی کارکنوں پر گولیاں چلا کر آئینِ پاکستان سے غداری کی ہے، اور جنرل عاصم منیر نے عوامی امنگوں کو اپنے اقتدار اور ایک فاحشہ عورت کی ہوس کی خاطر کچل دیا ہے، لہٰذا فوج میں بھرتی ہونا ایک حرام عمل ہے۔
ان دیواروں کے اندر نہ مہنگائی ہے نہ لوڈشیڈنگ ہے نہ افراتفری ہے یہیں سے نکل کر سویلین علاقوں میں وسائل کی لوٹ مار اداروں کی بربادی افراتفری مچاکر اپنی جنت میں واپس لوٹ آتے ہیں اور پھر یہاں سے عید مبارکی کے میسیجز بھی نہیں کرتے-
اس بدبخت انسان کو نومئی کو شہید ہونے والے تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان دکھائی نہیں دیے۔ اس بے حس کو چھبیس نومبر کا قتل عام دکھائی نہیں دیا۔ اس شعور سے اندھے کو ہزاروں گھروں پر چھاپے یاد نہیں۔ اس بے ضمیر شخص کو معلوم نہیں کہ تحریک انصاف کے جلسے کا اعلا�� پشاور یا کراچی میں ہوتا ہے تو پنجاب اور کشمیر میں بھی متحرک کارکنان کو اغواء کرکے تھانوں میں بٹھا لیا جاتا ہے۔
تحریک لبیک کے لوگ احتجاج کے لیے نکلنے تو لاشیں سڑکوں پر پڑی تھیں اور کوئی اٹھانے والا نہ تھا۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچز پر شیلنگ بھی ہوئی اور فائرنگ بھی۔ نومئی کے بعد تو جس قسم کی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کو معلوم نہیں۔ لیکن اس بدبخت کو وہ سب معلوم ہے۔ ایسا خوف پھیلایا گیا اور ایسی ایسی گری ہوئی حرکتیں کی گئیں کہ لوگ مجبور ہوگئے۔ لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ ننگی ویڈیوز بھی اس خوف کا ہتھیار تھا برہنہ کرکے کرنٹ لگانا بھی خوف پھیلانے کا طریقہ۔ رہنماؤں اور کارکنان کی بہنوں بیٹیوں کے گھروں میں بھی چھاپے مارے گئے۔
اس بدبخت کو پتہ ہے کہ لوگ اس وحشت کے ہاتھوں خوفزدہ ہوگئے۔ لیکن جب جب لوگوں کو موقع ملا انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور آٹھ فروری جیسے معرکے بر��ا کیے۔ یہ بدبخت انسان ڈرے ہوئے اور خوفزدہ انسانوں کی بے بسی کو کچوکے لگاتا ہے۔ ان پر طنز کے وار کررہا ہے۔ اس وحشت کو سیاسی گیند بازی کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یہ خوف ہمیشہ نہیں رہے گا۔ یہ وہی خوف ہے جو بلوچستان میں بلوچوں کی جوتیوں کی نیچے چپکا ہوا ہے۔ بس ہم دعا کرتے ہیں کہ کہیں اس ملک میں وہ نوبت نا آجائے ، پورا ملک ویسے حالات سے دوچار نہ ہوجائے ، ورنہ جن غاصبوں کو یہ بدبخت انسان جواز گھڑ گھڑ کے دے رہا ہے انکی وقعت مقبولیت اور پذیرائی کے خانے میں اس وقت کسی نالی میں گرے ہوئے شاپر سے بھی کمتر ہے۔
جو اس وقت اقتدار میں ہیں یہ تو گدھے ہیں اصل میدان کا فاتح تو اس وقت قید میں ہے ذرا اسے رہا کرکے دیکھیں یہ سب لندن بھاگ جائیں گے،
گلگت کے نوجوانوں کا جذبہ 🔥
A Lahore golf club for the elite: Rs5,000/year rent on land worth Rs218 billion. Publicly funded. Members-only.
@bisp_pakistan a social protection program for 10 million poor families: “fiscally unsustainable.”
I’ve worked inside this system. The poverty is manufactured; upward, not downward!
https://t.co/ibiMug6Ka1
دو پاکستان
غریب کو ریلیف دیتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ لیکن اشرافیہ کی عیاشی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔
لاہور میں اشرافیہ کیلیے 112 ایکڑ سرکاری زمین پر قائم جمخانہ کی مالیت 258 ار�� روپے ہے جس کا سالانہ کرایہ صرف 5000 روپے ہے۔ 352 ایکڑ سرکاری زمین پر پھیلے اسلام آباد کلب کا سالانہ کرایہ صرف تین روپے فی ایکڑ ہے۔
"جم خانہ لاہور پر فوجی قبضہ"
پاکستان کی سب سے قیمتی زمین پر قبضہ جمائے بیٹھا آرمی کا جم خانہ جس کی مالیت 218 ارب روپے ہے حکومت کو سالانہ کرایہ صرف 5,000 روپے ادا کرتا ھے (پورے سال کا کرایہ)
"یعنی ماہانہ صرف 417 روپے"
یعنی ایک کنال کیلئے محض 50 پیسے سے بھی کم!
حکومت پاکستان کے اپنے نرخ کے مطابق اس قیمتی زمین کا کرایہ ماہانہ 400 کروڑ روپے ہونا چاہیے تھا
مارکیٹ ریٹ کے مطابق 4 ارب 36 کروڑ روپے سالانہ! مگر پاکستان کی "غریب فوج" سال کا صرف 5 ہزار روپے دے کر 218 ارب کی پوری پراپرٹی قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔
یہ کرایہ نہیں یہ منظم لوٹ مار ہے، یہ 26 کروڑ عوام کا مذاق اڑانا ہے۔
ایک طرف عوام بجلی، گیس، آٹے کے بل نہیں دے پا رہے دوسری طرف فوج کے کلب اربوں کی زمین پر صرف 5 ہزار روپے دے رہے ہیں۔ اور اس پر ستم یہ کہ جم خانہ لاہور مہنگی ممبر شپ فیس کے نام پر ماہانہ اربوں روپے کما رہا ھے، مزید ستم یہ کہ یہاں شراب اور کھانا رعائتی قیمتوں پر دینے کیلئے عوام کے ٹیکس سے اربوں روپے کی مزید سبسڈی دی جاتی ھے
پاکستان آرمی کا یہ کرپٹ نظام کب تک چلتا رہے گا؟ جب تک ہم خاموش رہیں گے، تب تک یہ لوٹ مار جاری رہے گی۔
" دوسری جانب بھارت نے آرمی کے زیر انتظام سبھی جم خانے حکومتی تحویل میں لے لیے ہیں"
218 ارب روپے کی زمین کا کرایہ پانچ ہزار روپے ہے۔ پانچ فی صد کے حساب سے کیلکولیٹ کیا جائے تو ریاست صرف اس عیاشی کی مد میں لاہور کے بیوروکریٹس کو ہر سال دس ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی دے رہی ہے۔
https://t.co/gx8UMt9RON
“ایبٹ آباد کے ٹھنڈے موسم میں ' غزوہ ہند' کے سپاہی خود تو شراب و شباب اور موسیقی کے محفلیں جما تے ہیں
اور قوم کو جنگ کے خواب دکھا کر خود عیاشیوں میں غرق ہیں۔
کیا یہی وہ معیارِ زندگی ہے جس کے لیے عوام پس رہے ہیں؟
تضاد کی بھی حد ہوتی ہے۔”
Via ام یحی
ایک وقت تھا جب بچپن میں کوئی فوجی ٹرک سڑک سے گزرتا تو بے اختیار سلیوٹ نکل جاتا تھا ۔ فوجی فوجی جی سلام کے نعرے لگتے تھے۔ دل میں ایک احترام تھا، ایک محبت تھی، ایک یقین تھا کہ یہ ہمارے محافظ ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے میں نے بچپن میں ضد پکڑ لی تھی کہ مجھے فوجی یونیفارم چاہیے۔ اتنی ضد کی کہ گھر والوں نے کہیں سے یونیفارم، کیپ، بوٹ اور آرمی چیف والا ڈنڈا تک لا کر دیا۔ وہ یونیفارم پہن کر مجھے لگتا تھا کہ میں دنیا کا سب سے خوش قسمت بچہ ہوں۔
لیکن پھر عمر بڑھی، شعور آیا، چیزوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ وہ محبت کم ہوتی گئی۔ سوال پیدا ہوئے، پھر شکوے، پھر غصہ اور آخرکار وہ مقام آیا کہ دل میں موجود سارا احترام نہ صرف مکمل طور پر ختم ہو گیا بلکہ احترام کی جگہ نفرت نے لے لی۔ اور آج عالم یہ ہے کہ اتنی خود سے محبت نہیں رہی جتنی اس ناپاک فوج سے نفرت ہے۔
یہ صرف میری کہانی نہیں، لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے۔
صورتِ حال یہ ہے کہ بڑے سے بڑا نام جس کے بارے میں معمولی سا تاثر بھی قائم ہو جائے کہ وہ فوج کا آدمی ہے، چاہے وہ میڈیا سے ہو، کوئی عالمِ دین ہو، سول سوسائٹی سے ہو، وکالت کے شعبے سے یا انتخابی سیاست سے، عوام کی نظروں میں وڑ جاتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ رجیم چینج کے بعد جب جنرل باجوہ کی فرعونیت اپنے عروج پر تھی، تو ایک دوست، جس کی برادری ہی “باجوہ” ہے اور جو سوشل میڈیا پر کافی سرگرم بھی تھا، اس نے اپنے نام کے ساتھ “باجوہ�� لکھنا چھوڑ دیا تھا۔
یہ نفرت اچانک پیدا نہیں ہوئی، یہ برسوں کے ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جن میں عسکری مفاد کو عوامی رائے پر فوقیت دی گئی۔
اور اگر اب بھی کوئی چ کہے کہ ��وام فوج سے محبت کرتی ہے، تو اس چ کو چپیڑیں کروائیں اور ذرا اس پوسٹ کے کمنٹس اور قوٹ پڑھائیں اور اگر اس کو تسلی نا ہو تو اسے اسی اکاؤنٹ کے پچھلے تین سال کی پوسٹس پر ہوئے قوٹ اور کمنٹس بھی دیکھائیں۔
True, nationalizing military run assets is now the only way forward to bring pakistan out of the economic mess. They created the bad economy and now they should pay for it
میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموا�� اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور ��نہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
دیکھیں یہ ویڈیو
ایبٹ آباد میں آلائیڈ آرمی میس۔ رات کے وقت خوبصورت لائٹس، شاندار عمارت، فوجی مجسمہ، اور لگژری گاڑیاں۔ یہ سب کچھ عوام کا پیسہ ہے جو ٹیکس، بجٹ اور دفاعی اخراجات کے نام پر اکٹھا کیا جاتا ہے۔ جب عام آدمی مہنگائی، بجلی، گیس اور پٹرول کے بھاؤ سے تنگ ہے، تو جرنیل صاحبان اپنے لیے محلات اور کلب بنا رہے ہیں۔ ایک طرف غریب کا پیٹ، دوسری طرف فوج کا عیش۔
کیا یہ "قومی سلامتی" ہے یا عوام کا استحصال؟