پیپلز پارٹی ایک طرف تو مسلم لیگ ن پر گلگت بلتستان میں ڈکیتی کا الزام لگا رہی ہے دوسری طرف آزاد کشمیر اور بلوچستان میں دونوں جماعتوں نے مل کر حکومتیں بنا رکھی ہیں کیا یہ سیاسی منافقت نہیں؟ کیا ایسے رویوں سے سیاستدان اپنی ساکھ مجروح نہیں کر رہے؟
بھائی آپ بھی اگر اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو جانتے ہونگے کہ سری نگر ہائی وے پر روٹ تقریباً روز دو تین بار VIP موومنٹس کے حساب سے لگتا ہے۔ اسد قیصر کو روکنا مقصد تھا تو سعد رفیق کیوں پھنسے رہے؟ اور یہ بھی سن لیں کہ پی ٹی آئی اسد قیصر کے حوالے سے یوٹرن لینے لگی ہے۔ دیکھتے جائیں!
ایک سوال تو رہ گیا تھا۔ جنید اکبر نے کل جو ڈرامہ کیا، پی ٹی آئی والوں کے بقول تو گلگت بلتستان میں لاکھوں ووٹر اور سپورٹر ہے اور جہاں سے جنید اکبر کو پولیس لے کر گئی وہاں بھی ہزاروں لوگ تو تھے، کسی ایک نے بھی مزاحمت کیوں نہیں کی؟ کیا عوام چاہتے تو جنید اکبر کو پولیس لیجا سکتی تھی؟
عجیب تضاد ہے، کل تک جو اسد قیصر PTI کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے تھے، آج اچانک انقلابی بن گئے اور ان کے حق میں باقاعدہ مہم چل رہی ہے۔ PTI والوں کو پہلے خود یہ طے کرنا چاہیے کہ کون ٹاؤٹ ہے اور کون انقلابی؟ امید ہے مطلب نکل جانے کے بعد اسد قیصر دوبارہ ٹاؤٹ نہیں قرار دیے جائیں گے۔
جو سیاستدان اسوقت سسٹم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں وہ ان کی مجبوری ہے، معرکہ حق اور دو تین چیزوں کے کریڈٹس کا سہارا ہے اسکے علاوہ ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔ ملک کو جس نہج پر پہنچا دیا ہے کیا یہ انکی ذمہ داری نہیں ہے؟ سلمان درانی