اگر پشاور سے ایک پشتون مسلمان اپنے کابل کے مسلمان بھائی کے لیے محبت کا اظہار کرے تو یہ تھرڈ کلاس منافق اور فسادی لوگ اسے اس کے صدیوں پرانے علاقے سے نکل کر افغانستان جانے کا مشورہ دینے لگتے ہیں۔ خود دن رات بھارتی پنجاب کی تعریفیں کرنا، وہاں سے یکجہتی کے اظہار کو حق سمجھتے ہیں
پختونوں کی اپنی کوئی مؤثر اور آزاد میڈیا نہیں۔ ایک خیبر ٹی وی ہوا کرتا تھا، وہ بھی بالآخر ایک فوجی افسر سے وابستہ نکلا۔ المیہ یہ ہے کہ پختون پاکستان کے نجی میڈیا کو اپنا میڈیا سمجھتے رہے، مگر اسی میڈیا نے ہماری آواز بننے کے بجائے اکثر طاقتور حلقوں کے بیانیے کو آگے بڑھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے سامنے پختونوں کی تصویر مسلسل مسخ کی گئی—کبھی ہمیں ’’قبائلی‘‘ کہہ کر پسماندہ دکھایا گیا، کبھی ’’جاہل‘‘ کہہ کر ہماری سیاسی و سماجی جدوجہد کو نظرانداز کیا گیا، اور کبھی دہشتگردی کا بوجھ ایک پوری قوم کے سر ڈال دیا گیا۔ جس قوم کی اپنی آواز نہ ہو، اس کی کہانی ہمیشہ دوسرے لوگ اپنے مفاد کے مطابق لکھتے ہیں
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو بنیاد بنا کر خیبر پختون خواہ پولیس اور صوبے کی بیوروکریسی سے اپنی ہی صوبائی حکومت کیخلاف کاروائیاں کروائی جا رہی ہیں۔ کہاں ہیں چیف منسٹر اور صوبے میں حکومت کس کی ہے؟ چیف سیکریٹری اور آئی جی اگر صوبائی وزیر داخلہ اور وزیرِ اعلی کو جواب دے نہیں تو پھر لا اینڈ آرڈر صوبائی معاملہ تو نہیں رہا اور عملی طور پر صوبے میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔
جس وقت پختونوں کا لیڈر خان عبدالغفار خان (باچہ خان بابا) افغان سوویت جنگ کو جہاد نہیں بلکہ فساد کہہ رہا تھا اور پاکستان کو امریکہ کے لیے کرائے کے قاتل بننے سے روک رہا تھا، اُس وقت آپ کا براہمن ضیاء الحق اسی جنگ کو جہاد قرار دے کر آگ بھڑکا رہا تھا۔
یہ آگ آپ نے لگائی تھی جس کی لپیٹ میں ہماری دہلیزیں، ہمارے گھر اور ہماری نسلیں آئیں۔
آج اسی فساد کے حقیقی متاثرین پر ذمہ داری ڈال کر اپنے جرائم کی پردہ پوشی کی کوشش نہ کریں۔
جنہوں نے آگ لگائی تھی، تاریخ اُنہیں متاثرین کے پیچھے چھپنے نہیں دے گی۔
ج��ازے اٹھانے والوں پر تہمت مت لگائیں ۔۔۔۔افراسیاب خٹک کا مریم نواز کو جواب
نظام سیٹ کرنے کی فلم کا چوتھا سیکوئل
ایسٹ انڈیا کمپنی کا کم بیک
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک کی موجودہ صورتحال پر گفتگو
محترمہ وزیر اعلی صاحبہ @MaryamNSharif سیاسی جماعتوں کے رہنماء آپ کو آپ کے خیبر #پختونخوا اور #دہشتگردی سے متعلق بیان پر رد عمل دے رہے ہیں، سیاسی رہنماؤں والا سخت موقف اس لئے استعمال نہیں کرونگا کہ میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والا ایک عام صحافی ہوں اور میرا موقف ہے کہ آپ کا بیان غیر مناسب، غیر منطقی اور غیر ضروری ہے، آپ کے بیان پر خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں کے رہنماء اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ سخت ردعمل دے رہے ہیں، سکیورٹی سے متعلق فیصلے خیبر پختونخوا میں نہیں ہوتے بلکہ آپ کی حکومت میں ہورہے ہیں، میرے صوبے میں سکیورٹی صورتحال زیادہ 2014 کے بعد خراب ہوئی ہے جب آپ کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے شمالی #وزیرستان میں بڑا آپریشن کیا تھا، آپ کی جماعت کو جرات کرنی چاہیئے تاکہ ایسے پالیسیاں بن جائے کہ خیبر پختونخوا میں امن قائم ہو، اس طرح بیان دینے سے پہلے کم از کم اس صوبے کے اپنے جماعت کے لوگوں سے ان کی رائے پوچھ لیتے، باتیں بہت ہیں لیکن اتنا کافی ہے،
کیا یہ تمام گروپس آپ کی بارات میں بنگڑے ڈالنے کے لیے بنائے گئے تھے؟ 🤔
لشکر جھنگوی (پنجاب)
سپاہ محمد (پنجاب)
جیش محمد (پنجاب)
سپاہ صحابہ (پنجاب)
تحریک جعفریہ (پنجاب)
تحریک نفاذشریعت (پنجاب)
تحریک اسلام (پنجاب)
جماعت الفرقان (پنجاب)
جماعت ادعوہ (پنجاب)
جیش محمد(پنجاب)
وغیرہ۔۔
محترمہ @MaryamNSharif
آپ کا پنجاب تب خوشحال بنا جب پنجابی پالیسی سازوں نے 46 سال تک بدامنی مسلط کی۔ اس کے بدلے میں جو پیٹرو ڈالرز آئے وہ پنجاب کی سول و ملٹری اشرافیہ نے کھائے۔
آپ کا پنجاب تب پُرامن ہوا جب پنجابی پالیسی سازوں نے پختونخوا اور بلوچستان کو اپنی ڈیپ اسٹیٹ پالیسیوں کے لیے بفر زون بنایا اور ہمارے علاقے تباہ کر دیے۔
آپ کا پنجاب تب ترقی یافتہ بنا جب ہمارے وطن پختونخوا او�� بلوچستان کے قدرتی وسائل - گیس، تیل، بجلی اور پانی - لوٹ لیے گئے۔
پہلے ڈیپ اسٹیٹ پالیسی کے تحت شدت پسندوں کو تیار اور تربیت دی گئی۔ پھر خطے میں بدامنی پیدا کی گئی۔ اس کے بعد عالمی قوتوں سے کنٹریکٹ لے کر ڈالرز کمائے گئے۔
اب ہماری سرزمین کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے کر امن و امان کے نام پر معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوش کی جا رہی ہے۔ ان علاقوں کے معدنیات اور وسائل پنجاب منتقل کیے گئے، جبکہ لاہور کی ترقی ہمارے لوگوں کے خون اور وسائل کی قیمت پر ہوئی۔
اگر آپ میں ذرا بھی شرم ہوتی تو آپ ایسے نسل پرستانہ بیانات نہ دیتیں۔
پنجاب کی ترقی اور خوشحالی پختونخوا اور بلوچستان کے وسائل کی لوٹ اور استحصال سے ممکن ہوئی۔ لیکن اس تاریخی استحصال کو تسلیم کرنے کے بجائے آپ انہی لوگوں کو موردِ الزام ٹھہراتے اور ان کی تضحیک کرتے ہیں جن کی زمین اور وسائل سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اور آج بھی ھمارے ایینی حقوق تسلیم نہیں کرتی، تیل، گیس، بجلی، اور پانی کی رائیلٹی کی واجبات ادا نہیں کررہے ہیں، اور قبضہ جمائے رکھ�� ہیں ۔۔
Such racist comments play right into the hands of those wanting to destabilize Pakistan. It is pathetic to see PMLN leaders try to divide ordinary people in order to revive their dying politics. But people will no longer be fooled by such cynical attempts at stoking hatred.