یہ تحریک لبیک والوں کو کیا ہو گیا ہے
گولیاں کھانے کے بعد بھی جیلوں میں جانے کے بعد بھی ایسے استقبال کر رہے ہیں اور استقبال بھی تب جب س��ری قیادت جیلوں میں ہے
میں حیران ہوتا ہوں ان کو دیکھ کے 14 سو سال بعد بھی ایسے جزبے
بلوچ غدار
پشتون غدار
مہاجر غدار
بنگالی غدار
قبائلی غدار
جو بولے وہ پنجابی غدار
اور اب کشمیری اور گلگتی بھی غدار
عمران خان نے کہا تھا کہ "دیکھنا کوئی رہ تو نہیں گیا"؟
عقیدہ ختمِ نبوت کی دیواروں میں نقب زنی"
اسحاق ڈار نے کہا کہ ریاست پاکستان کے لیے تمام شہری برابر ہیں چاہے وہ احمدی ہوں یا مسیحی یا سنی مسلمان۔
اسحاق ڈار کا یہ بیان آئینِ پاکستان اور عقیدہ ختمِ نبوت پر ایک بزدلانہ وار ہے۔ ۔
Release Saad Rizvi
سعد رضوی اور انس رضوی کو آخر زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟
ملک کی سب سے بڑی عدالتِ انصاف بھی آج بے بس دکھائی دیتی ہے۔ تاحال بازیابی کے لیے کوئی مؤثر حکم جاری نہیں ہو سکا۔ شاید سب کو معلوم ہے کہ حکم تو دیا جا سکتا ہے، مگر اصل سوال اس پر عمل درآمد کا ہے۔
جب لاپتہ افراد کے مقدمات میں ریاستی ادارے جوابدہ نہ ہوں اور عدالتوں کے احکامات بھی بے اثر نظر آئیں تو انصاف کا تصور خود ایک سوال بن جاتا ہے۔
اگر سماعت کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہونی، اگر ہر تاریخ صرف ایک نئی تاریخ بن کر رہ جانی ہے، تو پھر سب سے بہتر یہی ہے کہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہ کیا جائے۔ کم از کم متاثرہ خاندانوں کو بار بار امید اور مایوسی کے اس اذیت ناک چکر سے تو نہ گزرنا پڑے۔
تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سماعت کے لیے مقرر حافظ سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی درخواست ایک بار پھر اچانک منسوخ کر دی گئی۔
مقدمہ آج لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ صاحب کے روبرو سماعت کے لیے مقرر تھا۔ جس کی پیروی برہان معظم ملک کررہےتھے
اس سے قبل کیس کی آخری سماعت 13 مارچ 2026 کو ہوئی تھی۔
آج رضوی برادران کی جبری گمشدگی کو 233 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
رضوی برادران بازیابی کیس میں بار بار تاخیر اور تعطل، طاقتور حلقوں اور اداروں کے نظامِ انصاف پر اثر و رسوخ اور مداخلت کی عکاسی کرتا ہے۔
جبری گمشدگی کے اس ہائی پروفائل کیس میں عدالتی پیش رفت نہ ہونا، اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا کہ آئینِ پاکستان کی کوئی عملی حیثیت باقی ہے؟
یہ تاخیر ٹی ایل پی کے لاکھوں کارکنان اور حامیوں کے غصے اور اضطراب میں مزید اضافہ کرے گی۔
آخر کب تک نظام انصاف اور آئین پاکستان کا مذاق بنایا جائے گا؟
اگر ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کی جبری گمشدگی کا کیس نہیں سنا جارہا تو عام عوام کیا امید رکھے؟
Release Saad Rizvi