شوہر بھی آپ کے باپ نہیں ہوتے کہ آپ کے لاڈ اٹھائیں یا نخرے برداشت کریں
یہ پاپا کی پریوں والی حرکتیں اپنے باپ تک ہی رکھیں
شوہروں سے میلی شونامونا والی امیدیں مت رکھیں۔
اتنے نخرے ہیں تو باپ کے گھر بیٹھی رہو ۔
را کی خبر بارے مزید ثبوت
3 جولائی کو را کی مبینہ ایجنٹ سے 36 منٹ تفصیلی بات ہوئی جس میں اس نے Pegasus پراجیکٹ اور پاکستان بارے اپنے کردار کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی اس نے تفصیلاً DW ، The Sun اور ایک فرانسیسی اخبار کے لیے یہاں سپیس لینے کا ذکر کیا کہ وہ چاہتے ہیں یہاں DW اور باقی ان دو اخباروں کامواد بھی یہاں چلے۔
پہلی تصویر: را کے مبینہ ایجنٹ سے 36 منٹ کی کال ریکارڈ
ویڈیو1 میں آپ سن سکتے ہیں کہ کیسے وہ DW اور The Sun کے مواد کی یہاں رسائی چاہتے ہیں۔
ویڈیو 2میں آپ سن سکتے ہیں کہ مبینہ را کا ایجنٹ کہہ رہا ہے کہ ہم یہاں کوئی احتجاج وغیرہ نہیں بس اتنا چاہتے ہیں کہ انکے content کو بھی access ملے۔
ویڈیو 3میں آپ سن سکتے ہیں وہ Pegasus میں اپنے کردار بارے بتا رہا ہے۔
وزارة الدفاع: اعتراض وتدمير عدد من المسيّرات قادمة من الأراضي العراقية.
صرح المتحدث الرسمي باسم وزارة الدفاع اللواء الركن تركي المالكي أن الدفاعات الجوية اعترضت ودمرت عددًا من المسيّرات خلال الساعات الماضية والتي حاولت استهداف منشآت بترولية بالمنطقتين الشرقية والرياض.
وأوضح اللواء المالكي أن هذه المحاولات الإرهابية انطلقت من الأراضي العراقية ونفذتها ميليشيات إرهابية تابعة لإيران، مؤكداً على حق المملكة الأصيل بالدفاع عن نفسها ومقدراتها واحتفاظها بحق الرد في الوقت والمكان المناسبين.
را کی خبر پر کچھ سوال اور میرے جواب
کچھ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ آٹھ مہینے انڈر کور کے بعد خبر کرنے پر پتہ چلا کہ صرف 103000 روپے لیے۔ را کیا اتنے کم پیسوں پر خریدتی ہے؟
سب سے پہلی بات ۔میں یہ پیسے بکنے کے لیے نہیں ثبوتوں کے لیے لے رہا تھا۔ ثبوت 1000 کی رسید کا ہو یا 103000 کا میرے لیے یہ معنی رکھتا ہے۔نہ کہ یہ کہ اتنے کم پیسے کیوں لیے۔
جو لوگ یہ سوال اٹھا رہے انکو شاید یہ معلوم نہیں کہ سنی سنائی اور تحقیقاتی صحافت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ آپ کسی سے کوئی بات سن کر خبر نہیں کرتے ۔ تحقیقاتی صحافت ہو یا evenذمہ دارانہ صحافت جو اہمیت ڈاکیومنٹری ثبوت کی ہے وہ سنی سنائی بات کی نہیں۔ تو میرے لیے یہ اہمیت نہیں کہ را کتنے پیسے دینے کی آفر کررہی تھی۔ میرے لیے اہم یہ تھا کہ میں ان سے کوئی فنانشل ٹرانزکشن کیسے نکلواؤں تاکہ میرے پاس خبر کے لیے کوئی مالی ثبوت آجائے۔
اس مالی ثبوت کے لیے مجھے آٹھ مہینے کام کرنا پڑا۔ وہ پیسے کرپٹو کے ذریعے بھیجنا چاہتے تھا تاکہ ٹریس نہ ہو اور میری یہ کوشش تھی انکے فنانشل ٹرانزکشنز کے جتنے طریقے ہیں وہ جان سکوں اس لیے کرپٹو کے علاوہ ایزی پیسہ کے ذریعے تقاضہ کرکے بھی پیسے منگوائے۔
تو بطور صحافی مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ 103000 کم پیسے ہیں ۔ میرے لیے کامیابی بطور صحافی یہ ہے کہ میں نے اپنی خبر کے لیے مالی ثبوت اکٹھے کیے۔ اور ان ٹرانزکشنز کے ثبوت آپ ان دو تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
را کی خبر پر ایک اور سوال
۔۔ کہ یہ سب ڈرامہ ہے اور اب کیوں خبر چھاپی؟
مجھے اپروچ کیا گیا 19 نومبر کو ۔ ہیلو ہائی ۔ رسمی بات کے بعد
21 نومبر کو اس اکاؤنٹ نے کہا ہم ایک PR ایجنسی ہیں Matrix Consultancy کے نام پر دبئی میں۔ ہم آرٹیکلز چھپوانے کے لیے مختلف لوگوں کو engage کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ کلائنٹ ہیں جو کہ کچھ نیوز سٹوریز رن کروانا چاہتے ہیں PTI کے حق میں۔
میری یہ بطور صحافی روٹین ہے کہ اگر کسی سے ملنے جانا ہو یا بات کرنی ہو تو اسکے متعلق پہلے بنیادی معلومات انٹرنیٹ پر ضرور چیک کرتا ہوں کیونکہ اس سے آسانی ہو جاتی ہے اگر آپکے پاس اس سے متعلق کوئی تھوڑی بہت معلومات ہوں۔ میں نے گوگل کرکے matrix consultancy یا PR سرچ کیا تو اس سے پتہ چلا کہ اسکی ٹاپ مینجمنٹ میں کوئی گورے اور انڈینز تھے۔ (ثبوت: ویڈیو 1)
میں نے اسے انکار کیا اور جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا میں کوئی اور صحافیوں سے پوچھوں گا اگر وہ کرنا چاہیں گے تو آپکو بتا دوں گا۔ اس اکاؤنٹ سے بار بار رابطہ کیا گیا تو میں نے اپنی میجمنٹ کو بتایا کہ ایسے مجھ سے کوئی رابطہ کرکے آرٹیکلز چھپوانا چاہ رہے ہیں۔
جسکے بعد 13 دسمبر 2025 کویہ فیصلہ کیا گیا کہ اسکو کہو ٹھیک ہے میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اس پورے پراسس کو ریکارڈ کریں کہ یہ کون لوگ ہیں اور انکا طریقہ کار کیا ہے۔ جب میں نے ہاں کہی تو اسکے بعد پیسوں اور content کی بات ہوئی۔ (ثبوت: ویڈیو 2)۔
بہرحال یہ معاملہ نومبر 2025 سے چلتا رہا۔ اس دوران انہوں نے تین آرٹیکلز بھیجے ہم نے چھاپا ایک بھی نہیں۔ اور نہ ہی یہ مقصد تھا۔ اصل مقصد ان سب چیزوں کو بطور ثبوت ڈاکیومنٹ کرنا اور اپنی خبر کے لیے استعمال کرنا ہے۔ 8 مہینے کے بعد اب اس لیے چھاپی کیونکہ ہمارے پاس خبر کرنے کے لیے اب تمام ثبوت پورے ہوگئے مالی ٹرانزکشن، انکے تین آرٹیکلز، 8 مہینوں کی بات چیت کا ریکارڈ، انکے آڈیو کالز کی ریکارڈنگز اور آخر پر ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ را ہیں تاکہ انکا موقف بھی ساتھ ہو۔
صحافی فخر درانی نے را کی ایجنٹ لڑکی کی تمام کالز ریکارڈ کر لیں تھیں مکمل ثبوتوں ساتھ سٹوری بریک کی ھے را کی ایجنٹ لڑکی ساتھ ھونے والی گفتگو کی سنیں اور سوچیں قاسم سوری ،عمران ریاض اور صابر شاکر کیسے پاکستان سے باہر گئے
Indian RAW is getting desperate.
An agent approached a Pakistani journalist: “Write against China Pak ties, push Afghan refugee propaganda, and attack Field Marshal Asim Munir’s foreign trips.”
Offer: ₹70,000 per article via EasyPaisa.
So next time you hear “Pakistan is collapsing” or “Afghan Pak relations are finished,” remember who’s writing the cheques.
India’s dirty proxy game just got caught red handed.
اسلام آباد: دی نیوز انویسٹیگیشن سیل نے 8 ماہ کی تحقیقات میں ایک مبینہ پی ٹی آئی اوورسیز کا غیر ملکی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو ایک پاکستانی صحافی کو پیسے، بیرونِ ملک ملازمت، خاندان سمیت منتقلی اور تحفظ کی پیشکش کر کے فوج، معیشت، SIFC، پاک چین تعلقات اور بلوچستان کے خلاف پہلے سے تیار سیاسی مضامین شائع کروانا اور غیر شائع شدہ سرکاری معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔
تحقیقات میں واٹس ایپ/فیس بک چیٹس، ریکارڈ شدہ کالز، مالی لین دین اور مضامین دستاویزی شکل میں محفوظ کیے گئے اور معاملہ حکام کو بھیج دیا گیا۔ صحافی نے کوئی خفیہ معلومات فراہم نہیں کی۔ نیٹ ورک نے فی مضمون 70 ہزار سے بڑھا کر 1.7 لاکھ روپے، اضافی اخراجات، کرپٹو ادائیگیاں، یورپ منتقلی اور ویزوں کی پیشکش کی۔ تاہم تحقیقات یہ تعین نہ کر سکیں کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے کون تھا، فنڈنگ کس نے کی یا مضامین کس نے تیار کیے، البتہ تمام پیشکشوں اور رابطوں کا ریکارڈ محفوظ ہے۔
صحافی فخر درانی سے ایک خاتون نے فیس بک پر رابطہ کیا اور پیسے کے بدلے اپنے بھیجے آرٹیکل پاکستان میں چھپوانے کی پیشکش کی فخر درانی نے مجھے یہ سب بتایا اور کہا میں سٹوری بنانے کے لیے اس سے معلومات لوں گا اُس خاتون نے یہ بھی بتایا کہ افغانیوں کو بھی اُس نے بیرون ملک نوکریاں دلوائی ہیں یہ بھی پیشکش کی کہ اگر فخر درانی پکڑا گیا تو فیملی سمیت بیرون ملک شفٹ بھی کریں گے اور نوکری بھی دلوائیں گے
فخر درانی نے کل سٹوری کی تھی کہ راء پاکستان کے خلاف پاکستانی اخباروں خصوصاً انگریزی اخباروں میں پاکستان مخالف کالم لکھوانے کے ستر ہزار فی کالم دے رہی،
آج انہوں نے اپنے شو میں اعزاز سید کے ہمراہ سارے قصے کو کھول دیا کہ کیسے پی ٹی آئی کے بیانیے کی آڑ لے کر راء پاکستان میں صحافیوں کو ہائر کرتی پھر ان کے ویزے لگوا کہ ان کو یوکے لے جاتی،
فخر درانی نے جب فوج کے خلاف آرٹیکل لکھنے پر آنے والے خطرات کا کہا تو انہوں نے کہا جناب فکر نا کریں ہم آپ کو پاکستان سے اک ہفتے میں نکال کر یوکے لے جائیں گے،
اب سمجھ آ رہی کہ عمران ریاض کیسے گدھے پر بیٹھ کر یوکے پہنچ گیا...!!
أجريت، صباح اليوم، اتصالا هاتفيا مع أخي العزيز، صاحب السمو الملكي الأمير محمد بن سلمان بن عبدالعزيز آل سعود، ولي العهد رئيس مجلس الوزراء في المملكة العربية السعودية.
سمو #ولي_العهد يتلقى اتصالًا هاتفيًا من رئيس الوزراء الباكستاني، جدد دولته خلاله إدانة بلاده واستنكارها للهجوم الذي شنته مليشيا الحوثي على سفينة سعودية وتهديدها لحرية الملاحة البحرية في البحر الأحمر مؤكدًا دعم باكستان الثابت والحازم لأمن المملكة وسيادتها.