The spinning drum in the washing machines creates intense gravity waves similar to a black hole. Hence the passage of time slows down.
This is also why when you put a pair of socks in to wash, only one comes back out. The missing sock travels down a wormhole and ends up at the edge of the known universe.
@Invest_Kardo I agree with the resources KPK has but they dont have refineries/infrastructure and other facilities. So let's not say one can survive without the other, lets just say we all need each other and can benefit and grow much more if there's unity.
سندھ کی سڑکوں پر اسٹریٹ موومنٹ اپنے عروج پر ہے۔
عمران خان کی کال پر سندھ میں لانگ مارچ پوری رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔
عوام خوف کی زنجیریں توڑ چکی ، 27 ستمبر فیصلہ کُن دن ۔
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا#FinalCountDown
@Jainadave_ This!
I try to restrict myself to buying only unprocessed meat, eggs, yogurt, grains, veg & fruits for my weekly run. Though its hard to resist the packaged goodies 😬
@vanillasky458 What is neocolinial in this context? Isn't that what got IK out of govt? This sounds more like a modern day witch hunt carried out by an authoritative secular mindset.
Trust Pakistan cricket to do the unbelievable. Salman Agha, captain in the first test, dropped from the second, sent home before the third! Coach and bowling coach gone midway through a series. Senior keeper sent home. Replacements hoping to get visas in time, let alone be ready for a test match. As always, more action off the field!
عمران خان کے خلاف تقریباً 300 مقدمات درج ہیں، جو ملک کی مختلف عدالتوں میں استغاثے کے مختلف مراحل میں زیرِ سماعت ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو اپنے وکلا سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ قانون کے مطابق اسے کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔
دسمبر 2025 کے بعد اس پورے عرصے میں صرف ایک وکیل، جناب سلمان صفدر، کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فروری 2026 میں بطور دوستِ عدالت عمران خان کے پاس بھیجا۔یہ اجازت جیل حکام یا ریاست کی جانب سے نہیں دی گئی تھی، بلکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم تھا۔
اس وقت عمران خان کی نمائندگی مختلف مقدمات میں وکلا کی ایک ٹیم کر رہی ہے، ان تمام مقدمات میں شامل دیگر وکلا، جن میں میں خود بھی شامل ہوں، یہاں موجود جناب کھوسہ اور جناب انتظار پنجوتھہ صاحب بھی شامل ہیں، ان میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
لہٰذا وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ جھوٹی ہے یہ کہنا کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور وکلا سے رابطے کی اجازت دی گئی، حقائق کے منافی مکمل من گھڑت بیان ہے۔
جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواستیں صرف فائلوں میں پڑی رہ گئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات تو جاری کیے، لیکن ان احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے بعد میں کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
جہاں تک عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ہے، حکومتی رپورٹ میں یہ کہنا کہ ان کی 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زیادہ افراد شامل تھے، مکمل طور پر بے معنی اور غلط بات ہے۔
عمران خان 16 اکتوبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک عملاً تنہائی کی قید میں رہے۔اسے عمران خان تک آزادانہ رسائی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ریاستِ پاکستان نے جان بوجھ کر عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہے۔
سلمان اکرم راجہ