کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
Pakistan’ official position regarding ‘Abraham Accords’ is known to everyone and Pakistan is under no obligation to sign Abraham Accords framework just on the pretext of mediating a war forged by USA and Israel on Iran.
President Trump’s latest comments suggest an effort to turn Iran ceasefire diplomacy into a broader US-led regional political and security arrangement centered around the Abraham Accords.
Pakistan’s position on Palestine and Israel remains historic, principled, constitutional, and rooted in international law that Pakistan continues to support an independent Palestinian state based on pre-1967 borders with Al-Quds Al-Sharif as its capital, and this stance cannot be reshaped by developments linked to the Iran-US crisis.
Publicly linking Pakistan and Arab world to Abraham Accords is a new move that U.S. President is projecting to make Israel happy while compelling Gulf states and Pakistan to accept Abraham Accords or there will be no deal with Iran, means no peace in the region. A complete pressure tactic which has finally brought the cat out of the bag.
While Pakistan’s role in de-escalation during the US-Iran tensions enhanced its diplomatic relevance, acknowledged by both Washington and Tehran, Islamabad remains under no compulsion to join any such framework.
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”
لگتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی کرتوتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا اندازہ ہو چکا ہے کہ جتنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں وہ کر چکے ہیں اب شائد GSP + کا سٹیٹس نہ بچے۔ اسی لیے انہوں نے اسکا ملبہ بھی عمران خان پر ڈالنے کی ایڈوانس تیاری کر لی ہے حالانکہ عمران خان کے بیٹے نے اپنی تقریر میں GSP + کا ذکر تک نہیں کیا۔
The U.S. backed Israel's Gaza blockade, cutting aid under "security" claims, yet condemns Iran for defending itself in Strait of Hormuz.
Double standard: Israel's crimes are OK while Iran's defense against aggressors is condemned. International law is not tool of convenience.
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
8 فروری 2024 کو پاکستانی قوم نے مینڈیٹ امت مسلمہ کے لیڈر عمران خان کو دیا۔ قوم نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار عمران خان کو دیا کیونکہ قوم کو یقین تھا اور ہے کہ وہ لیڈر پاکستان اور پاکستانیوں کا سودا نہیں کرے گا۔ پاکستان کی عزت، وقار، بقا،سلامتی، غیرت اور خودداری پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا لیکن 25 کروڑ غیرت مند پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کرکے ان کو مسلط کر دیا گیا جن کو پاکستانی قوم نے یکسر مسترد کردیا تھا۔
عمران خان کو جیل میں ناحق قید رکھ کر ایسے فیصلے کیے جارہے ہیں جو کہ کسی صورت پاکستان یا پاکستانیوں کے فائدے میں نہیں ہیں
اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب محب وطن پاکستانی بند کمروں میں بنائی گئی داخلہ یا خارجہ پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں تو کسی کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانستان چلے جاو اور کسی کو کہا جاتا ہے کہ اگر مظلوموں کا اتنا ہی تمہیں درد ہے تو ایران کیوں نہیں چلے جاتے؟ پاکستان کو صرف چاند تاروں ستاروں تک محدود کرنا ہے؟ یا بغیر اس کے بھی کوئی پاکستانی یہاں رہ سکتا ہے؟
نقصان پر نقصان ہورہا ہے لیکن انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنی ناکام پالیسیز پر نظرثانی نہیں کرنی۔ اختلاف رائے کی قدر نہیں کرنی۔ قومی یکجہتی کی طرف نہیں جانا۔ حقیقی جمہوریت کی طرف نہیں جانا۔ انصاف کا جنازہ نکالتے رہنا ہے۔ آئین و قانون کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے فیصلے وہ کررہے ہیں جن کے اثاثے، جائیدادیں، کاروبار اور مفاد ملک سے باہر ہیں۔انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف نہیں لے کر جانا۔ یہ چند لوگ خود کو عقل کل اور 25 کروڑ پاکستانیوں کو جاہل اور بیوقوف سمجھتے ہیں۔ عقلمندوں!!! جس طرف آپ ملک کو لے کر جا رہے ہو وہاں سے واپسی پھر نہیں ہوگی اور نا ہی کوئی آپشن باقی رہے گا۔ رُک جاؤ اور ہوش کے ناخُن لو۔
اگر غلط پالیسیز پر تنقید کرنے والوں کو ملک سے نکل جانے کا کہا جائے گا تو پھر 25 کروڑ میں سے صرف چند بوٹ پالیشیے ہی بچ جائیں گے، جن کو ملک چلانا نہیں ،صرف بوٹ چمکانا آتا ہے۔
پاکستان اس وقت جس کرائسز میں پھنس چکا ہے اس صورتحال سے ملک کو صرف عمران خان ہی نکال سکتے ہیں۔ ہوش اور عقل سے کام لو اور مینڈیٹ اس لیڈر کے حوالے کرو جس کو پاکستانیوں نے پاکستان کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔
پاکستانی قوم تیاری کرے، اب عمران خان کا مزید جیل میں رہنا پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا، اب عمران خان صاحب کی رہائی ناگزیر ہے۔ اس کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ پاکستان، پاکستانیوں اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔
جن کو پاکستان کے عوام نے مسترد کیا وہ زبردستی اقتدار پر قابض ہو کر پاکستانیوں کو کبھی کہتے ہیں افغانستان چلے جاؤ کبھی کہتے ہیں ایران چلے جاؤ ۔
یہ تمہارے باپ کا ملک ہے؟
My last contact with Mr. Witkoff was prior to his employer's decision to kill diplomacy with another illegal military attack on Iran.
Any claim to the contrary appears geared solely to mislead oil traders and the public.