آگے کیا ہوگا !!!!!
اب جب کہ ہر کوئی پریشان ہے کہ آگے کیا ہوگا تو میں آپ کو ہمیشہ کی طرح ایڈوانس میں آگاہ کردیتا ہوں کہ اب کیا ہونے جارہا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے کپڑے مکمل اتار دیے ہیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ انکی مزید بے عزتی ہو۔ وہ آخری حد تک جائیں گے۔ نواز شریف کا زرداری اور ایم کیو ایم سے زبردستی نکاح کروائیں گے۔ نواز شریف کی پوزیشن نمبرز کے لحاظ سے بہت کمزور ہے۔ پیپلزپارٹی کے ووٹ لینے کےلیے ممکن ہے ن لیگ کو وزارت عظمی قربان کرنی پ�� جائے۔ ن لیگ کو مطمئن کرنے کےلیے مریم نواز کو وزیراعلی بنایا جائیگا۔
اگلا ڈاکہ آزاد امیدواروں پر مارا جائے گا۔ بہت سارے چہرے آپ کو حیران کریں گے۔ ہر شخص ایک جیسے کردار کا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کا وفاداریاں بدل لینا طے ہے۔ پنجاب اسمبلی میں زیادہ لوگ اپنا رخ تبدیل کریں گے۔ قومی اسمبلی کے زیادہ تر لوگ ڈٹ جانے والے ہیں۔
ایسی کمزور حکومت ایک ہفتہ نہیں چل سکتی۔ اسے فوج بیساکھیاں جتنا عرصہ گھسیٹ سکتی ہیں اتنا عرصہ گھسیٹیں گی۔ لیکن جس فوج سے عمران خان ختم نہیں ہوا ان سے یہ حکومت بھی نہیں چلائی جاسکے گی۔
اس سارے نظام کو اوندھے منہ گرانے کے لیے اب جو آپشن بچے ہیں وہ بھی سن لیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کم از کم تین ماہ کےلیے پاکستان پیسے بھیجنے بند کرنے پر غور کرنا ہوگا۔
نواز شریف یا بلاول جو بھی کمپنی کا کھوتا بنے گا وہ کسی بھی یورپی ملک ، انگلینڈ یا امریکہ جائے تو وہاں ایسا احتجاج کیا جائے کہ یہ دوبارہ ان ممالک کا منہ نہ کریں۔
وہ تمام چہرے اچھی طرح سے یاد کرلیں جو اس وقت اس گندے اور گھٹیا لوگوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ جج ہیں بیوروکریٹ تھانیدار یا پٹواری۔ عمران خان کی حکومت اب نوشتہ دیوار ہے۔ فوجی چہروں کی نشاندہی آپ کا بھائی عادل راجہ کرتا چلا جائے گا یہ چہرے آپ پہچان لیجیے گا۔
بریکنگ نیوز
پی ٹی آئی کی واضح برتری دیکھ کر کمپنی بوکھلا گئی ہے۔ میڈیا چینلز تو کنٹرول رزلٹ دکھا رہے ہیں مگر سوشل میڈیا پر اصل رزلٹ نظر آرہے ہیں۔ اسی لئے سوشل میڈیا بند کردیا گیا ہے۔
مگر رزلٹ کیسے بند کرو گے باولے کتوں؟
چند دن پہلے میں نے کہا تھا کہ نیوز چینلز کے سپانسرز کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس کا آغاز ہم آج سے کررہے ہیں۔ جیو نیوز پر جو بھی کمپنی اشتہار دے گی۔ اس کمپنی کے پراڈکٹس کے ب��ئیکاٹ کا اعلان کروں گا۔ کیا آپ اس مہم میں میرا ساتھ دیں گے؟
فرض کرلیتے ہیں کہ کمپنی نے اپنا کھوتا جتوا لیا ہے۔ فرض کرلیتے ہیں۔ نواز شریف کو وزیراعظم اور مریم نواز کو وزیراعلی بنا لیا گیا ہے۔ فرض کرلیتے ہیں کمپنی کی دھونس دھاندلی فائز عیسی کی بھرپور مدد کے بعد چل گئی ہے۔
عمران خان جیل سے ایک بیان جاری کرے گا کہ ہم ان دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور ملک میں نئے صاف شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قوم کس کی مانے گی؟ اسی شخص کی جس کی دوسال سے مان رہے ہیں!
پہلا ��یلنج ہوگا معیشت کی بحالی۔ اس کےلیے آپ کو آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا پڑے گی۔ قرضہ لینا پڑے گا۔ لیکن جو قرضہ عاصم منیر کو نہیں ملا وہ قرضہ نواز شریف کو کیسے مل جائے گا؟ بنگلہ دیش کو ذہن سے نکال دیں۔ انہوں نے دھاندلی زدہ الیکشن اس لیے کامیابی سے کروا لیے ہیں کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے ڈیل نہیں کرنی۔ انہوں نے کسی سے قرضہ نہیں لینا۔ آپ کو در در کشکول لیجانا پڑے گا اور جس حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل نہیں ہوگا اسے کوئی بھی ملک قرضہ نہیں دے گا۔
دوسرا چیلنج ہوگا نواز شریف کی اپنی عزت کی بحالی۔ ایسا وزیراعظم نواز شریف عرب ممالک اور چین کے علاوہ کسی بھی ملک کا دورہ نہیں کرسکے گا۔ ��ہ یورپ امریکہ انگلینڈ جہاں بھی جائے گا ہر ملک میں ہزاروں پاکستانی احتجاج کریں گے۔ پوری دنیا کو دکھائیں گے کہ یہ شخص پاکستان کا غیر مقبول ترین شخص ہے۔ اس پر اعتماد نہ کریں۔
تیسرا چیلنج ہوگا گورننس کو بہتر کرنا۔ عمران خان کی حکومت کے ساڑھے تین سال بلا شک و شبہ اس ملک کے بہترین تین سال تھے۔ ہر کارکردگی کا ، ہر منصوبے کا عمران خان کے منصوبوں سے موازنہ ہوگا۔ ہر جگہ انکو منہ کی کھانی پڑے گی۔
اکتوبر نومبر میں ایک نفسیاتی مریض ریٹائر ہوجائے گا دوسرے کی تعیناتی کو دو سال ہوجائیں گے۔ وہی ایکسٹینشن والا تماشا شروع ہوگا۔ فوج کے اندر موجود گروپ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹیں گے۔ آپ کی گرفت جیسے آج کمزور ہے ویسے ہی کل کمزور ہوگی۔
آپ جہاں آج کھڑے ہیں وہیں دو ماہ بعد کھڑے ہوں گے۔ وہیں چھ ماہ بعد کھڑے ہوں گے۔ وہیں ایک سال بعد بھی کھڑے ہوں گے۔
نہ آپ کے پاس کل کوئی منصوبہ تھا نہ آج ہے۔ نہ دنیا اب آپ پر اعتماد کررہی ہے نہ کل کرے گی۔ اس ملک کو مشکلات سے نکالنے کا ایک ہی حل ہے۔ وہ ہے صاف شفاف انتخابات اور انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کا باختیار اقتدار۔ اس کے علاوہ جتنے بھی راستے آپ نکالیں گے وہ آپ کو بند گلی میں لیجائیں گے۔
#Pakistan🇵🇰 It is unacceptable that a person who holds more than 70% of the voting intentions in the country, a legitimate Prime Minister, peaceful and innocent of any crime, remains in prison and is barred from standing for election.
This situation violates the most basic democratic norms, the rule of law and the principle of separation of powers. The military establishment should refrain from interfering in the political affairs of civil society.
Mr Irman Khan (PTI leader and frontrunner) must be released immediately without charge and with full social, civil and political rights. #IHRF #ImranKhan #ReleaseImranKhan