Postdoctoral Researcher, ENSICAEN, France, Former Ph.D. scholar @ ETH Zürich, Mother, Proud Pakistani🇵🇰, Believe in Hope for a better Pakistan❤️ Naat Khawn♥️
“There is only one person with whom to compete and that is yourself. Keep aiming to surpass your own best performance and ever strive to reach higher levels.” -Norman Vincent Peale
Glimpses of receiving my doctoral award last week in ETH Doctoral Award Ceremony April 2024.
Congratulations to Pakistan's Olympic flag bearer Arshad Nadeem for an absolute brilliant javelin performance winning a gold medal for Pakistan.
His persistence & perseverance has done him & the nation proud. It is the first time any Pakistani has won an individual gold for athletics in the Olympics. He is an inspiration for our younger generation.
It is my great pleasure to share that I have started working as a postdoc researcher in @CNRS France, as part of @ENSICAEN, on an EU funded industrial project. Looking forward to explore this new avenue!
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نہایت لغو اور جھوٹےالزامات کے تحت ناحق قید ملک میں انصاف اور نظامِ انصاف کےانہدام، منصفانہ سماعت اور انصاف تک رسائی کے بنیادی دستوری و قانونی حقوق سے محرومی، مقبول عوامی قیادت کو خالص سیاسی بنیادوں پر نشانۂ انتقام بنانے،سیاست کو ریاست کے غیر آئینی، غیرقانونی اور غیر جمہوری تسلّط میں رکھنےکی روایتِ بَد اور جمہور(عوام) کے حقِ نمائندگی و انتخاب کو بےمعنی بناکر سیاست کو جبراً مجرم پیشہ عناصر سےبھرنےاور آلائش زدہ کرنےکی ایک شرمناک مثال ہے۔
بانی چیئرمین تحریک انصاف کیخلاف قانون و اقدار سے یکسر بے نیاز ریاستی غیض و غضب کی واحد قابلِ فہم وجہ عمران خان کا ”غلامی نامنظور“ کا نعرہ بلند کرتےہوئے اپنی قوم کے لئے”حقیقی آزادی“ کا خواب دیکھنا اور پاکستان کو دستور کے مکمل احترام پر یقین رکھنےوالی ریاست بناکر ملک میں قانون کی حکمرانی کی روایت کو بدرجۂ اتم پختہ کرنے کا عزم ہے۔
کم و بیش دو سو جھوٹے مقدمات، دن دیہاڑے قاتلانہ حملے، اپنی جان لینے کی متعدد کوششوں، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اپنی رہائش گاہ پر کی جانے والی مسلّح ریاستی یلغاروں، اپنی جماعت کو طاقت کے اندھے استعمال سے کچلنے کی کوششوں، اپنی تمام زندگی پرامن سیاست کے علمبدار رہنے کے باوجود جبر و فسطائیت سے اپنی جماعت پر سیاست و انتخاب کے دروازے بند کئے جانے، ذرائع ابلاغ سے اپنی تصویر، تقریر اور تحریر کے مٹا دیے جانے اور غیر قانونی، غیر اخلاقی بہتان بازی، الزام تراشی اور افواہ سازی سے بدنام کئے جانے کی منظم پراپیگنڈہ مہمات کے ساتھ جس جرات، بہادری، استقامت اور دلیری سے بانی چیئرمین عمران خان زندان آباد کیااسکی مثال ہماری تاریخ میں نایاب ہے۔
عمران خان کیخلاف وحشت و بربریت کو عوامِ پاکستان نے8 فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے مسترد کیا ہے اور عمران خان ہی کی ہدایت پر تمام تر مشکلات کے باوجود گھروں سےنکل کُر ان کی بےگناہی پرمہرِتصدیق ثبت کرتے ہوئےان کی فوری رہائی کا پروانہ جاری کیا ہے اور ان کی وطن سے محبت کی شہادت دیتے ہوئے انکی پر اثر قیادت پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
تحریک انصاف کو مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں میسّرشفاف عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکہ اور اپنے حقیقی قائد کیخلاف جاری سلسلۂ انتقام عوام کو کسی طور گوارا نہیں۔ ملک و قوم کا مفاد فکر و عمل کی فوری تبدیلی سے وابستہ ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ملک کو نفرت و انتقام کی بھینٹ چڑھانے یا ماورائےآئین و قانون بھول بھلیوں میں بھٹکانے کی بجائے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے اور بانی چیئرمین کو قیدِ ناحق سےرہا کرکے ملک و ملت کی قیادت کاحق دیا جائے اور عوام کے ووٹ کو اس کی حرمت لوٹائی جائے۔
ریاستیں مقبول عوامی قائدین کو انتقام کی سولی پر چڑھا کر نہیں، ان کے حد درجہ احترام سے اہلِ عالم کی نگاہوں میں مقام پاتی ہیں۔عمران خان سے روا رکھا جانے والا ظلم ریاست کے دامن پر ایک سیاہ داغ ہے جسے آج دور نہ کیا گیا تو کبھی نہ مٹایا جاسکے گا!
عمران خان قوم کی نگاہوں اور تاریخ کی نظر میں امر ہوچکے ہیں۔ جلد ناحق قید سے آزاد ہوں گے اور آئندہ زمانوں تک ایک آزاد قائد کے طور پر اپنی قوم کی رہنمائی کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ!
لوگوں کو ڈر ہوتا ہے نوکری چلی جائے گی،اس خوف سے باہر آؤ،میرا استعفیٰ اُن لوگوں کیلئے مثال ہے جو خوف میں آکر فیصلے دے رہے ہیں، جسٹس ریٹائرڈ شاہد جمیل۔۔۔!!!
ختم نبوت ﷺ ہمارے دین کا لازم و ملزوم حصہ ہے۔
اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں۔ الحمدللٰہ میرے ہی ہاتھوں سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اللّٰہ نے خاتم
النبیین ﷺ کی قراد داد پاس کروائی تھی جس پہ اللّٰہ تعالیٰ کا
کروڑہا دفعہ شکر گزار ہوں۔
بس اک عاجزانہ درخواست ہے یہ بہت ہی زیادہ حسّاس معاملہ ہے اسلئیے اس حوالہ سے جس کے بارے میں بھی بات کی جائے نہایت احتیاط برتی جائے کیونکہ اس پہ سب کے جزبات بہت زیادہ ہوتے ہیں ہماری معمولی سی لاپرواہی سے کسی کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
حضور ﷺ کی حرمت اور ختم النبوت پہ ہم اور ہماری
آل اولاد قربان
جزاک اللّٰہ خیر
تاجدارِختم نبوت ﷺ زندہ باد
عدالت عظمی کے آرڈرز لے کر ہم اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہیں تاکہ عمران خان سے مل سکیں مگر ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں مل رہی جس ملک میں ایک جیل سپریڈینڈیٹ عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہو وہاں استحکام کیسے آئے گا۔ ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا ہم انصاف کے لیے کس عدالت میں جائیں -@OmarAyubKhan
بہت ظلم ہوا ہے پچھلے دو سالوں میں!
ناجائز طریقے سے اغیار کے اشارہ پہ عوامی حکومت گرائی گئی سابق وزیراعظم کو گولیاں ماری گئیں بے گناہوں کو زندانوں میں پھینکا گیا قوم کے مینڈیٹ پہ ڈاکہ ڈالا اور 200 دن سے قوم کا لیڈر جیل میں ہے۔
بس کرو ظلم بند کرو @ImranKhanPTI کو رہا کرو !
اسلام آباد ہائی کورٹ,وارنٹ گرفتاری ، شوکاز نوٹس اور عمرہ ادائیگی سے روکنے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت
یہ عدالت ڈپٹی کمشنر کی اسی نوعیت کی ایک اپیل پہلے خارج کر چکی ہے، چیف جسٹس
شوکاز نوٹس جاری ہونے پر کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس عامر فاروق
یہ عدالت اس معاملے پر ایک انٹراکورٹ اپیل پہلے مسترد کر چکی ہے، جسٹس طارق محمود جہانگیری
میری پوری فیملی عمرہ ادائیگی کیلئے جا رہی ہے سنگل بنچ نے مجھے روک دیا، عرفان نواز میمن
میری استدعا ہے کہ مجھے عمرہ ادائیگی کیلئے جانے کی اجازت دی جائے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد
پہلے ہم نے دیکھنا ہے کہ آپکی اپیل قابلِ سماعت ہے یا نہیں، چیف جسٹس عامر فاروق
ویسے خاور بھائی جب آپ ان لوگوں کو اپنے پروگرام میں لیتے ہیں جنہوں نے ارشد بھائی کو دھمکیاں دینے والو، ان پر جعلی مقدمے بنانے والو، ان کو دبئی سے نکالنے والو، ان کے قتل پر بیانیے بنانے اور ان کا کیس خراب کرنے والو کی سہولت کاری کی تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ مان لیتے ہیں وہ بہت طاقتور ہیں اور ہر کسی کی سو مجبوریاں ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی بھی کیا مجبوری کہ بندہ ہر دوسرے روز ایسے لوگوں کو سامنے بٹھا کر باقی پاکستانیو کی تقدیر کا فیصلہ ان کی زبانی سنے؟ “اس کو تو مار دیا، اب ہماری سناؤ۔۔ ہمارے لیے کیا سوچا ہے”۔۔
چلو یہ بھی معاف مگر جو ان کے لیے انصاف مانگ رہا تھا اس کے لیے ہی آواز اٹھا لیتے۔۔ ارشد نہ سہی وہ تو زندہ تھا۔۔ باقیوں سے کوئ گلہ نہیں آپ تو ان کے اپنے تھے۔
خاور بھائ ارشد بھائی کے جانے کے بعد بہت سے چہروں کے نقاب الٹے ہیں لیکن یقین مانیں جو تکلیف آپ جیسے دوستو کو ان گِدھوں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر ہوتی ہے۔۔ اللہ آپ کو ہمت اور ہمیں صبر دے۔ یا رہنے دیتے ہیں اللہ ہمیں ہی یہ دیکھنے کی ہمت بھی دے دے۔
You seem to me and to many others a very dear, remarkable, and brave Son of Islam. A brilliant and very effective Defender of the Faith.
May Allah Almighty bless you in this life and in the hereafter.
#ISLAM#Pakistan@ImranKhanPTI#Imran_Khan@PTIofficial