ایک دفعہ ہرمیت سنگھ کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف کسی سیمینار میں ملاقات ہوئی تھی ان سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی آج ہرمیت سنگھ اپنی صحافت پر ظلم کی کہانی بیان کر رہا ہے کوئی تو بتائے کہ اسکا جرم کیا ہے؟
سابق چئیر مین پی سی بی رمیز راجہ نے حکومت کا چیلنج قبول کرلیا اور ن لیگ سینٹر کو شٹ اپ کال دی ۔
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت کے چند ناسمجھ لوگوں کوغلط فہمی ہے کہ مجھے ان کی حکومت کمنٹری کے پیسے دیتے ہے اور مجھے یہ بھیجتے ہے ۔
رمیز راجہ کہتے ہیں میں حکومت کی یادہانی کرادیتا ہوں کہ مجھے کمنٹری کیلئے دنیا کے مختلف اسپانسر مدعو کرتے ہے اب بھی اس وقت میں انگلینڈ میں بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم کیلئے کمنٹری کررہا ہوں اور انہوں نے ہی مجھے اس کیلے بلایا ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ سیریز ہو رہی ہے اس میں میری مرضی مجھے کیا بولنا چاہیے کس کا نام لوں یہ نہ لوں ۔ اور اپ ہوتے کون ہیں میری اظہار راۓ پر پابندی لگانے والے ۔۔
اور اتنا ہی تپڑ ہے تو مجھے روک کے دیکھاو یامیری نشریات بند کرا کے دیکھاو ۔
یادرہے گزشتہ روز حکومتی عہدےدار سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ رمیز راجہ کی کمنٹری پر پابندی لگائی جائے بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم پرسابق کپتان عمران خان کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے انگلینڈ کے کمنٹیٹر نے سوال کیا رمیز راجہ سے بیماری کے متعلق جس پر رمیز راجہ نے کہا کہ مجھے بہت تشویش ہے اسکی بیماری پر ۔۔
اب اس بیان کے بعد سینیٹر افنان اللہ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہی ہے یہ تو چھوٹی بات ہے جہاں یہ لوگ صرف تین سیٹ جیت کر فارم سنتالیس کی لاسٹک والی شلواریں پہن کر پھر رہے ہیں ۔۔
اور اس کو کھلم کھلا ڈیفنڈ کرتے ہیں ان کوگوں کا شرم سے کیا تعلق ہے ۔۔ رمیز راجہ نے بہترین کام کیا ہے انکے مکرو فریب جھوٹ کو پوری دنیا میں ایکسپوز کر دیا ۔۔۔
واہ بھئ واہ۔ ایک اور وزیر جو حکومت کا حصہ ہے وہ بھی اس سانحے پر ہونی والی غفلت کا الزام لگا رہا ہے۔ ایسی کابینہ نہی دیکھی جو اپنی حکومت پر تنقید کرتی ہے۔ نہ استعفع دیتی ہے۔ اس کا حصہ بھی رہتی ہے اور گالیاں بھی دیتی ہے۔ ایسے نظام کو کیا کہیں گیں۔ کیا ڈوبتے نظام سے دوڑ رہیں ہیں یا نئے نظام میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ پتہ ہی نہی چلتا۔ بچارے شہباز سپیڈ والے وزیر اعظم پر ترس آتا ہے جب اس کی کابینہ کھلے عام جوتے لگا رہی ہو اور وہ خاموش بیٹھا ہو۔ پاس کر یا برداشت کر نہی چکے گا انکل۔ فیصلہ کریں۔ کس کو رکھنا ہے کس کو نہی۔ کیا ماننا ہے کیا نہی۔ کس کی رپورٹ دینی ہے کس کی نہی۔ کس کو چپ کرانا ہے کس کو نہی۔ یہ حکومت ہے یا مزاق ہے۔ پوری دنیا کے مسلئے حل کرانے والا ٹرمپ کا چہیتا اپنی کابینہ کے ہاتھوں زلیل تو نہی کہ سکتا مگر اس طرح شرمندہ ہو رہا ہو۔ سمجھ نہی آتا۔ دنیا کے کسی ملک میں بچے ایسے جھلس جاتے اور حکومت جواب دینے کی بجائے اپنے آپکو لتآڑ رہی ہو مگر جواب نہ دے۔ اسے کون حکومت مانے گا۔ وہ جالب کی نظموں پر مائک توڑنے والا شہباز شریف کہاں غائب ہے۔ نکالو ان کو یا ان کو جواب دو
نون لیگی کیمپ سے ایسی جلنے کی بد بو آ رہی ہے: جیسے تیر سیدھا نشانے پر لگا ہو! 😂
اب فرماتے ہیں: رمیز راجہ کو بند کریں، ہم نے اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا ہے، وہ باہر جا کر عمران خان، عمران خان کیوں کر رہا ہے؟
بھائی، ان کو اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو سمجھ لیں تیر نشانے پر لگا ہے۔
عادت ہو گئی ہے ان کو بدمعاشی کی— اب تعریف بھی گن پوائنٹ پر کرانی ہے انہوں نے۔ سید ذیشان عزیز
#pakistan@iemziishan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
بھائیو بہت احتیاط کریں یہ ادمی لانڈی نمبر چھ کے پاس پکڑا گیا ہے دو بچیوں کو اغوا کر کے لے جا رہا تھا اس کے پاس پانچ سے چھ شناختی کارڈ نکلے ہیں الگ الگ شہروں کے لہذا اپنے بچوں کا اور اپنا بہت خیال رکھیں اور ایسے لوگوں سے بچیں
آج فارم 47 حکومت نے اپنے ترجمان صحافیوں کو مسلسل بےعزتی کرواتے دیکھ کر تنگ آ کر خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
اور غیر ملكی میڈیا پر بھی "فیک نیوز" پھیلانے کا بھونڈا الزام عائد کر کے پوری دنیا میں اپنا سیاہ نام مزید سیاہ کروا بیٹھے۔
تفصیلات:👇
https://t.co/R5e9SX6h4G