کارکن حراست میں مرگئے
تیل میں تل گئے
گھر ٹوٹ گئے خان کی بہن پھر گرفتار ہو گئی
کہاں ہیں وہ موصوف گلا پھاڑ کے چلانے والے @BBhuttoZardari جو کہتے تھے
تم کتنے بے غیرت ہو ۔ کیا محترمہ نے بیٹے کو چن کے آواز اٹھانا سیکھایا ہوگا۔
سیتا وائٹ اور ٹیریان کیس کی حقیقت
منقول کی پوسٹ
ٹیریان کی ماں سیتا وائٹ برطانوی تھیں، جس کی دوستی عمران خان سمیت دنیا بھر کی کئی مشہور شخصیات سے رہی۔ جمائما بھی اس کی اچھی دوست تھی۔
وہ اس مصری ارب پتی کے بھی کافی قریب رہی جو لیڈی ڈیانا کے ساتھ کار حادثے میں ہلاک ہوا تھا۔
پر اسرار کردار کی مالک سیتا وائٹ امیر باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار رہی۔ اس کے باپ نے اس کو چند گھر دے رکھے تھے، جن کے کرائے پر اس کا گزارا تھا۔ مزید پیسوں کے لیے اس نے اپنے خاندان پر کچھ کیس بھی کر رکھے تھے، جن میں سے ایک آدھ میں اسے چند ملین ڈالر بھی ملے۔ اس نے بہت سی شادیاں کیں اور سب ناکام رہیں۔ سیتا وائٹ کی اپنی موت بھی پُر اسرار رہی اور بہت سے لوگوں نے اس کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔
1995ء اور 1996ء میں نواز شریف کا لندن آنا جانا بڑھ گیا جب ببلو ڈبلو بدنام زمانہ فلیٹس میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ انہی دنوں سیتا وائٹ کی شریف خاندان سے بھی ملاقات ہوئی۔ جنوری 1997ء میں پاکستان میں انتخابات کے لیے کاغذات جمع کروائے جارہے تھے۔ ان دنوں عمران خان چھوٹے موٹے اجتماعات میں ان کرپٹ خاندانوں کو للکارنے لگا تھا۔
اس انتخابی مہم کے دوران ہی دو کام ہوئے:
1ـ نواز شریف نے، بے نظیر بھٹو کی زبردست کردار کشی شروع کر دی اور ننگی تصویریں پھینکیں۔
2ـ ساتھ ہی سیتا وائٹ نے عمران خان کے خلاف امریکی عدالت میں کیس دائر کر دیا کہ اس کی 4 سالہ بیٹی ٹیریان دراصل عمران خان کی بیٹی ہے۔اس کیس کی شریف خاندان نے پشت پناہی کی اور خوب اچھالا۔
عجیب بات یہ تھی کہ عمران خان کا پاکستان کے بعد سب سے زیادہ وقت لندن میں گزرتا تھا۔
لیکن سیتا وائٹ نے یہ کیس پاکستان یا لندن میں نہ کیا۔
عمران خان کو نوٹس ملا تو امریکی عدالت جانے کو تیار ہو گیا لیکن اس کو خبر ملی کہ اس کو امریکا میں قتل کیا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد عمران خان نے سیتا وائٹ کو پیغام بھیجا کہ آپ پاکستان یا لندن میں کیس لڑیں، میں ڈی این اے اور بلڈ ٹیسٹ بھی دینے کو تیار ہوں۔
لیکن عجیب بات ہے کہ بیٹی کو حق دلانے کے لیے سرگرم برطانوی شہری سیتا وائٹ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔
عمران خان کی عدم پیروی پر امریکی عدالت نے محض سیتا وائٹ کے دعویٰ کی بنیاد پر اس کے حق میں یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ یہی وہ فیصلہ ہے جس کو قطری کے سالے چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف تو امریکی عدالت کا فیصلہ موجود ہے لیکن آج تک کسی DNA میں ایسا ثابت نہ ہوا کہ ٹیریان عمران خان کی بیٹی ہے۔
سیتا وائٹ کی موت کے بعد اس کی وصیت کھولی گئی تو اس میں لکھا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد وہ اپنی بیٹی کی بہتر زندگی کے لیے صرف جمائما پر بھروسہ کر سکتی ہے۔ اس کی بیٹی جمائما کے سپرد کی جائے اور اس کے اکاؤنٹ میں جو چند لاکھ ڈالر ہوں وہ بھی جمائما کو دئیے جائیں۔ وہ وصیت آج بھی موجود ہے اور اس میں کہیں نہیں لکھا کہ ٹیریان عمران خان کی بیٹی ہے۔
جمائما، سیتا وائٹ کی دوست تھی۔ وہ بنیادی طور پر رحم دل خاتون ہے۔ اس نے یہ درخواست قبول کر لی اور ٹیریان کو اپنی نگرانی میں لے لیا جو آج بھی اسی کے پاس ہے۔
سیتا وائٹ بیٹی کے 4 سال کی ہو جانے تک خاموش رہی، پھر اچانک کیس کِیا اور وہ بھی امریکہ میں۔
ان دنوں وہ اپنی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے کئی دیگر ،
پُر اسرار سرگرمیوں میں بھی ملوث تھی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو ہائر کیا گیا تھا تا کہ عمران خان کو ٹریپ کیا جا سکے، جس میں شریف خاندان ماہر ہے۔
اس کیس کو شریف خاندان نے ہمیشہ استعمال کیا ،
حتیٰ کہ 2018ء کے الیکشن میں بھی شریف خاندان کے بدنام زمانہ ساتھی افتخار چودھری نے کہا کہ وہ ٹیریان کا کیس پاکستان میں لڑے گا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کیس میں کچھ نہیں سوائے سیتا وائٹ کے زبانی دعوے کے،
لہذا کیس دائر کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔
اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹ میں بھی عمران خان کو
نا اہل کروانے کے لیے دائر کردہ یہ کیس کھوکھلے نکلے۔
عمران خان فرشتہ نہیں نہ آسمان سے اترا ہے لیکن شریف خاندان کے تمام مردوں سے ہزار گنا اچھا ہے۔ ٹیریان اور سیتا وائٹ کا معاملہ بالکل ویسا نہیں جیسا بتایا جاتا ہے۔
اس وقت اخلاقی لحاظ سے پاکستان بھر میں عمران خان کے پائے کا کوئی ایک بھی سیاستدان موجود نہيں۔
ہمارے جرنیلوں کو اب بھی لگتا ہے کہ ان سے میں ڈر جاؤں گا۔ ان کاغذی شیروں، بزدلوں نے مجھے ازل سے نقصان پہنچایا ہے۔ نوٹس بھیجا ہے اور میری بیٹیوں کے گھروں کو گرانے کا ارادہ ہے۔
پورے پاکستان کو کہتا ہوں: میرا گھر دیکھو، اگر ایک انچ بھی میرے پاس اوقاف کی زمین ہے تو مجھے سولی چڑھا دینا۔ آمریت کے دور میں انہوں نے میرے ملتان کے گھر پر قبضہ کیا۔ کچھ سال قبل میری بیٹی کی شادی کے دن اسے 8 گھنٹے فوجی چیک پوسٹ پر انتظار کروایا۔ مجھے وہ گھر چھوڑنا پڑا۔ میں اپنے گاؤں مخدوم رشید میں رہتا ہوں۔ یہاں بھی جنرل باجوہ اور فیض کے دور میں میری بیٹی کا گھر گرایا گیا، تمام ذرائع آمدن تباہ کر دیے گئے۔ میرے تمام کاروبار تباہ کر دیے گئے، ملیا میٹ کر دیے گئے۔ آج بھی وہیں پر کھنڈرات موجود ہیں۔
میں تم بزدل جرنیلوں کا مقابلہ کروں گا۔ میں اس قوم کو بتاؤں گا کہ تم نے کس طرح اپنے فائدے کے لیے 80 سال اس ملک کو لوٹا ہے اور اسے اس نہج پر پہنچایا ہے، غریب کو مارا ہے۔ اپنی آخری سانس تک تمہارا مقابلہ کروں گا۔ اپنے مؤقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
Generals! I promise I’ll contest you. I’ll fight the ills of democracy till I breathe my last. You’ve tried me every single time. Try me again.
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہے۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔
These buffoons can’t help making blunder after after blunder. According to this logic, neither my mother, nor her parents are Jewish… Incredible levels of stupidity.
“Imran Khan is not in jail, in solitary confinement for more than three years now because of any corruption or crime. It is because the Pakistani Generals know that if they let him out, he will be carried aloft in the next election on a wave of support to a democratic victory.”- Former British Prime Minister @BorisJohnson
#FreeImranKhan
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
@sajjadmustafa nikal yahan sy chutiye ........ pata nahi kahan ke logic ly k atay heun bhonsroo
Asim Muneer zindabad ........ tunn k rakha huwa hay aglay ny
اگر نکل سکتے ہیں تو اس ملک سے نکل آئیے۔ اتنی بیدردی سے دنیا کا کوئی ملک آپ کو نہیں مارے گا۔ ہسپتال تو بہت حساس جگہیں ہیں ، ریسٹورنٹس اور سٹورز میں ایک ایک کمرے کی دوکانوں میں فائر ایگزٹس ہیں جنکو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔ آگ بجھانے والے آلات لازمی ہیں۔ نہ ہونے پر سب کچھ سیل کرجاتے ہیں۔ ہر گھر میں ، ہر اینٹوں سے بنی عمارت میں فائر اور سموک الارم لگے ہیں۔ فائر الارمز کی چیکنگ ہوتی ہے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ایک ایک بلڈنگ کا نقشہ ہے۔ کوئی ایک اینٹ کونسل کی منظوری کے بغیر نہیں لگ سکتی ، کچھ تبدیلی ہوتی ہے تو اطلاع کی جاتی ہے ، نقشے اپڈیٹ ہوتے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں ریسکیو والے دیواروں سے نا سر ٹکراتے پھریں۔ منٹ ڈیڑھ میں فائر بریگیڈ پہنچتا ہے۔ پولیس سے زیادہ سڑکوں پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یعنی کسی حادثے سے پہلے بچاؤ کا مکمل نظام تیار کیا جاتا ہے۔ حادثہ ہوجانا تو بہت بعد کی چیز ہے۔
یہاں حفاظت ؟ سیفٹی؟ جو تھوڑا بہت مال لگایا اس میں بھی کرپشن ، ملاوٹ ، آگ سپارکنگ سے لگی ہے تو ٹھیکیدار نے سستا مال ڈالا ہوگا ، کمپریسر پھٹا ہے تو سپلائر نے کک بیک دے کر سستا مال سپلائی کردیا ہوگا۔ نرسنگ سٹاف کو ہنگامی حالت کی ٹریننگ نہیں ہوگی۔ پھر اسکے بعد ؟ حادثہ ہوگیا؟ اللہ کی مرضی ، تم استعفی دو تم استعفی دو اسکے بعد طویل خاموشی۔
ہاں پاکستان غریب ملک ہے۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک جیسے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن جو وسائل ہیں وہ بھی جہازوں ، گالف کلبوں ، مراعات اور عیاشیوں پر لگ رہے ہیں۔ سسٹم کے اوپر ایک سانپ بیٹھا ہے جو سسٹم کے ایک ایک پرزے کو ڈنک مار رہا ہے۔ دو دن کا رونا پھر اگلے حادثے کا انتظار اور پھر یہی چیخ وپکار۔ آپ بس نکل آئیں ۔ موت یہاں بھی آسکتی ہے۔ لیکن آپ کو موت کے منہ میں دھکیلا نہیں جائے گا آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش موجود ہوگی۔