نیز میاں صاحب کی تعلیمات باب سترہ فصل چہارم کا کیا کرنا ہے جس کے مطابق سیاسی مخالفین سے حسن سلوک ہونا چاہئے نیز اس اطلاع کا کیا کرنا ہے جس کے مطابق چیک اپ میاں صاحب کے حکم پر ہوا؟
لیگی صحافی آپس میں بیٹھ کر گلے لگ کر رو بھی لیں اور چارپائیوں کی ترتیب بھی درست کر لیں۔
جو اپنی شدید تیزابی نفرت میں جذباتی طور پر بہت زیادہ invested تھے ان لوگوں کی انا سخت مجروح ہوئی ہے اور ذہنی صحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوجی نرسری کا سب سے جاندار پودا نکلا ہے کیکٹس کی طرح کانٹوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
پٹواریوں اور کدّو مرشدوں کے دم دبا کر بھاگتے ہوئے "اصول، اصول، آئین، آئین، انسانیت، انسانیت" کرنے کا وقت بھی تیزی سے قریب آتا دکھائی دیتا ہے اگرچہ کاکے اس گمان میں ہیں کہ فوج نےون پارٹی سسٹم طے کر لیا ہے اور ن لیگ پاکستان کی چائنہ ٹائپ کمیونسٹ پارٹی ہوتی۔
لیکن ہم پاگل ہیں فوج۔۔۔
آج ایک مخصوص ٹولے نے سپریم کورٹ کو کور کرنے والے تمام صحافیوں کو ڈسکریڈٹ کرنے کی کوشش کی کہ عدالت نے ایسا حکم نہیں دیا جو رپورٹ کیا جارہا ہے مگر آخر میں فیلڈ رپورٹرز سچے نکلے اور فارورڈ ایز ریسیوڈ والے جھوٹے ثابت ہوگئے جو کچھ رپورٹرز نے کمرہ عدالت سے رپورٹ کیا وہی تحریری فیصلے میں نکلا۔۔۔ٹشو پیپر ٹشو پیپر نکلے
تو وہ کل ہی اجلاس میں بیان کی گئی سیاسی مخالفوں سے حسنِ سلوک والی میاں صاحب کی تعلیمات کا کیا ہوا؟ میاں صاحب کی ذات ہم سے ناراض ہو گئی تو ملک میں رزق سے برکت بھی اٹھ جائے گی۔ پہلے بھی ایسا ہوا تھا تو میاں صاحب کہیں اٹھ کر لندن ہی نہ چلے جائیں۔
ابھی کئی کدّو مرشد اپنا تجزیہ پیش کریں گے سب ٹھیک ہے، صرف نوازشریف کی ذات اور پارٹی دائمی ہے اس کےعلاوہ کوئی نجات نہیں اور روتے ہوئے پٹواری ایسے کدّو مرشدوں کے قدموں میں لوٹ کر کہیں گے عالی جاہ! نور کی برسات صرف آپ کے ہاں ہی ہے اور پھر برائے تسلّی ٹویٹس آپس میں ری ٹویٹ کر لیں گے۔