ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو ایک ایسے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کی قانونی بنیاد خود اپنے ہی بوجھ تلے دب کر گر جاتی ہے۔
جس کیس کو انصاف کا نام دیا جا رہا ہے، اس میں ایک ہی واقعے پر دو الگ الگ ایف آئی آرز موجود ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی ��فی کرتی ہیں۔ ایک ایف آئی آر کے مطابق ایف سی اہلکار 27 جولائی کو ہلاک ہوا، جبکہ دوسری کے مطابق وہی اہلکار 29 جولائی کو بھی ہلاک ہوا۔ شاید اب ریاستی انصاف کے نئے اصولوں کے مطابق ایک انسان دو بار مر سکتا ہے، اور اگر کاغذ پر دو بار مر سکتا ہے تو پھر کسی کو بغیر ثبوت دو بار سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
اس مقدمے کی بنیاد ہی تضادات، ابہام اور سوالات و کنفیوژن سے بھری ہے، اور اسی کیس کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہوتی ہے، اور بغیر کسی جرح، بغیر شواہد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید سنا دی ہے وہ بھی دو بار۔
اور یہ ہے یہاں کا انصاف۔۔
میریوسف کا جرم صر�� یہ تھا کہ اس نے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی سرزمین پر پھر خوف، لاپتہ لوگ اور اجتماعی قبریں ہوں۔ یوسف صرف امن اور انصاف چاہتا تھا
#ReleaseYousafQalandrani
@Qalandrari
It’s been 15 days since Yousaf’s disappearance. Each day has been filled with fear, uncertainty, and pain that feels unbearable. We’ve already lived through 15 long years of this nightmare, searching endlessly for our 3 brothers who never returned. These 15 days feel like those 15 years all over again. Please, I beg of you all, raise your voices now, before this 15-day pain becomes another 15 years of sorrow carved into our family’s life.
#ReleaseYousafQalandrani
#ReleaseQalandraniBrothers
#EndEnforcedDisapperances
Those who thought they could suppress my voice by blocking me to travel to New York were wrong. My message, my fight, the fight of Baloch nation , our resistance, and our advocacy for peace and justice were shared loudly and clearly with a global audience by the Editor-in-Chief of TIME Magazine last night in New York. I am deeply grateful to the @TIME editor and management for their strong words, support, and solidarity.
I spoke with @TIME Magazine’s @YasmeenSerhan about what happened on the nights of October 7 and 8, and why the Pakistani government stopped me from traveling to New York.
I'm grateful to TIME for escalating my case to the highest level.
https://t.co/uk1GXjEZsb
Baloch Yakjehti Committee (BYC) organizer and Baloch leader Dr. Mahrang Baloch being stopped at Karachi airport from traveling to the United States is illegal, unconstitutional and inhumane. Last month, Baloch activist Sammi Deen Baloch was also banned from traveling abroad. The State of Pakistan is so afraid of the truth that our leaders represent to the world. The global community can comprehend the dire humanitarian crisis created by the state in Balochistan.
We urge the international community, HR Organizations and human rights defenders around the world must take notice of the colonial tactics of Pakistani state. Baloch nation is always in solidarity with their leader.
میرے چچازاد بھائی محمد عامر بلوچ کو 2فروری کو لاپتہ کیا گیا ہے جو تاحال لاپتہ ہے ہم تمام مکاتب فکر سے اپیل کرتے ہیں ان کے رہائی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔
#ReleaseAmirAlizai#EndEnforcedDisappearances
Amir Baloch abducted by Pakistani forces from his home in Mastung after joining the protest against #BalochGenocide. These actions will only disappoint people of #Balochistan regarding peaceful activism. It's the state's actions that push our youth toward other means of survival.
The policy of forced disappearances in #Balochistan, perpetrated by the state of Pakistan, stands as one of the most egregious human rights violations of the 21st century. This systematic oppression spares no one in the Baloch nation—men, women, children, and the elderly alike.
Yesterday security forces have forcibly disappeared three more Baloch individuals from Kharan: Gul Khan Shikari, his son Miran, and Zahid, son of Muhammad Akhtar. Tragically, Gul Khan Shikari, who had actively participated in advocating for the release of his son and nephew, has now fallen victim to enforced disappearance along with another son.
Is this not a form of genocide against the Baloch people?
#EndBalochGenocide
#EndEnforcedDisappearances
لاش ملنے پر بلوچ ماں کی خوشی نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا !!
گزشتہ روز پریس کانفرنس کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ گیا جہاں بلوچوں کی لاشیں لائی گئی تھیں جن پر حکومت نے الزام لگایا تھا کہ یہ وہ بلوچ ہیں جو مچھ، بولان واقعے میں مارے گئے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مچھ، بولان میں مارے جانے والے سرمچاروں کی تعداد 13 تھی جس کی تصدیق تنظیم نے تصویروں سمیت کی اور اُنکی لاشیں بھی لواحقین کے حوالیں دی گئیں۔
سرمچاروں کی 13 لاشیں لواحقین کو ملنے کے بعد حکومت نے اعلان کیاکہ مچھ بولان میں 24 سرمچار مارے گئے ہیں۔ جس کے خلاف بلوچوں نے سوشل میڈیا پر لکھنا شروع کردیا اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ادارے اپنے عقوبت خانوں میں قید بلوچوں کو قتل کرکے مچھ، بولان واقعے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
اور وہی خدشہ سچ ثابت ہوا مذکورہ لاشیں گھروں سے فورسز کے ہا��ھوں اُٹھائے گئے لاپتہ افراد کی تھی۔ لواحقین کو لاش دینے کیلئے ایک غیرقانونی شرط رکھا گیا کہ فارم پر دستخط دینے کے بعد لاش ملے گی۔ اُس فارم پر یہی تھاکہ میں جو لاش وصول کررہا ہوں یہ شخص دہشتگردی میں ملوث تھا وغیرہ وغیرہ
خیر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہسپتال کے اندر پریس کانفرنس کیا اُس کے بعد مزاحمت جاری رکھا بلآخر حکومت نے فارم پر دستخط کرنے کا شرط واپس لے لیا اور لواحقین کو لاشیں دینا شروع کردیا۔
مردہ خانے سے ایک لاش نکالی گئی۔ ایک بلوچ ماں جو انتظار میں بہت حیران و پریشان کھڑی تھی بیٹے کا نام سُنتے ہی لاش کی طرف آگے بڑھی اور بےاختیار ایسے مسکرائی جیسے بیٹا سالوں بع�� زندہ اور صحیح سلامت والدہ کے ساتھ مل رہا ہو جب لاپتہ بیٹے کی لاش ملنے پر والدہ اتنی خوش ہوسکتی ہے تو اگر بیٹا زندہ ملتا تو کتنی خوش ہوتی۔
لاپتہ بیٹے کی لاش ملنے پر بلوچ ماں کی دردناک خوشی اور بےاختیار مسکراہٹ نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا۔ میں کل سے کوشش کررہا ہوں کہ کسی طرح وہ دردناک سین اپنے دل و دماغ سے نکالوں تاکہ میں پرسکون ہوجاوں لیکن تاحال ناکام ہوں
اور سوچ رہا ہوں کہ وہ والدین وہ بہن، بھائی کیسی زندگی گزار رہے ہوں گے جن کے گھر والے لاپتہ ہیں۔ جو سالوں سے روڈوں پر احتجاجوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اُنکی زندگی کا تو ایک ایک لمحہ بہت دردناک اور مشکل ترین ہوگا۔
فوج اور دیگر اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ یہ ظلم مزید بند کردیں کیونکہ بزرگ کہتے ہیں کہ دوسروں کا سکون برباد کرنے والے کبھی سکون نہیں پاسکتے۔ صاحب اپنے لیے نا سہی اپنی بیوی بچوں کی سکون کی خاطر یہ ظلم مزید بند کیجئے اور بلوچستان کے مسئلے کا حل نکالیں شکریہ
نعمت اللہ خوشحال
جن کے پیروں میں چپل تک نہیں، کوئٹہ کلب میں بیٹھ کر وائس آف بلوچستان والے انہیں انڈیا کے ایجنٹ کہتے ہے۔ محض یہ غربت اس بات کو ثبوت ہے کہ تم قبضہ گیر ، اینجنٹ و دروغ گوہ ہو جبکہ بلوچ اپنے سر زمین پر نسل کشی کے پالیسوں کے تحت ازیت ناک زن��گی گزار رہا ہے۔
#StopBalochGenocide