اے آر وائی نیوز سمیت بعض دیگر میڈیا چینلز پر میرے حوالے سے ایک بے بنیاد اور جھوٹی خبر نشر کی جا رہی ہے، جس میں مجھے ایک مسلح تنظیم سے منسلک کرتے ہوئے پہلے لاپتہ اور پھر ہلاکت کی خبر دی گئی ہے. یہ خبر سراسر غلط اور گمراہ کن ہے، جس سے نہ صرف میرے خاندان، قبیلے اور سیاسی جماعت بلکہ میرے تمام عزیز و اقارب اور وابستگان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہوئے ہیں.
میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ الحمدللہ میں بالکل خیریت سے ہوں اور اپنے گھر پر موجود ہوں. میرا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے اور میں ایک منتخب عوامی نمائندہ ہوں.
اس جھوٹی اور من گھڑت خبر کے خلاف میں جلد عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کروں گا. اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ صحافت نہایت افسوسناک ہے، جس سے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے میں متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے.
What a country !! Took a loan from the IMF, then stopped a potential World War, also attacked Afghanistan, talked ceasefire with China, then became a Global Peacemaker, also stood with Iran, then condemned attack on KSA, then negotiated with Trump while the nation watched PSL.
خواجہ آصف صاحب ،
ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر آپ کی ساکھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملالہ نے ایرانی بچوں پر حملے کی واضح اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، مگر آپ نے ان پر تنقید کی جلدی میں حقائق کی جانچ کیے بغیر ایک ٹرول کی بات کو آگے بڑھا دیا۔
اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز کسی شخص کے لیے اس طرح بے فکری سے غلط معلومات پھیلانا مایوس کن ہے۔ آپ کا منصب اور مقام بہتر فہم و تدبر کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ ذاتی ناپسندیدگی سے چلنے والے جذباتی ردِعمل کا۔ تھوڑی سی تحقیق اور احتیاط بہت فرق ڈال سکتی ہے۔ براہِ کرم اپنی ساکھ کا خود بھی خیال رکھیے۔
https://t.co/ZGeiQRRDek
Unfortunate how such knee-jerk vilification of Malala has become fashionable across political and ideological lines
Even more unfortunate to see our defence minister share such a post and endorse its problematic message
Meanwhile, this is Malala’s tweet from three days ago. Clearly, she has not been “silent” as these posts allege. But now we will see shifting goalposts and the criticism will be on her choice of words and the frequency of her tweets
The Hindu community of Balochistan is among the original and ancient inhabitants of this land, with deep historical roots tracing back to the Mehrgarh civilization.
I take great pride in belonging to one of the oldest families of Balochistan.
Framing the Balochistan crisis through the lens of all the fighters you’ve killed merely telegraphs your policy failures-because the question is why are there so many fighters to start with. BLA has exploited local anger at the state, boosting recruitment and getting stronger.
صدر ٹرمپ کو بہت سے لوگ برا بھلا کہتے ہیں لیکن اس شخص کی کئی خوبیاں مجھے بہت پسند ہیں۔
آج وائٹ ہاوس میں ایک رپورٹر نے زہران ممدانی کو یہ سوال کرکے مشکل میں ڈال دیا کہ آپ صدر ٹرمپ کو فاشسٹ کہتے تھے تو کیا اس پر قائم ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے مہمان کو مشکل سے نکالا اور کہا کہ کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔ بس ہاں کہہ دیں۔
وائٹ ہاوس میں ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات امریکی جمہوریت کا روشن چہرہ ہے۔ امریکی سیاست دانوں میں کتنے ہی بڑے اختلافات ہوں، اپنے ملک کے لیے سب مخلص ہیں۔
@WajSKhan Disappointing to see #Balochistan, Pakistan’s largest province, absent from the agenda of the biggest conference on Pakistan at @Georgetown. @WajSKhan, plz include voices like former Assembly Speaker @waheed_shahwani & address the detention of women activists like @MahrangBaloch
Mir Yusuf Qalandrani was abducted from his residence in Karachi on 17th August 2025 by a men travelling in multiple police mobiles and black vigos. For two months his family protested without any result. On 3rd October the family submitted an application with the Commission on Inquiry of Enforced Disappearances through Defence of Human Rights.
On 17th October Yousuf's family finally submitted an application for FIR with PS Gizri. The Police though received the application refused to register a FIR following which we filed an application under 22A with District & Sessions Judge Karachi South which is fixed tomorrow for hearing.
Suddenly, yesterday it was revealed that Yousuf, who has been abducted from Karachi, has been released in Khuzdar only to be detained a few hours later under MPO. This was done to avoid scrutiny and investigation into his abduction and to provide legal cover to his arbitrary detention.
Yousuf Qalandrani is an elected official from the JUI-F serving as UC Chairman of UC Tootak, District Khuzdar. His three brothers abducted from Tootak in 2011 remain missing till date.
In 2014 three mass graves were uncovered in Tootak, Khuzdar. While some rights organizations claimed the number of bodies discovered to be 169 the Govt refuted and claimed the number to be 15. A judicial commission formed by Govt of Dr Abdul Malik later absolved the armed forces and intel agencies in the mass graves inquiry.
Tootak has also been terrorised by death squads run by Shafiq Mengal who though a relative of the Qalandrani tribe is also a political rival. Though the death squads stopped operation in between it was reported in early 2025 that Shafiq Mengal was active again in Tootak.
جب ہم انہیں “جنگی منافع خور” کہتے ہیں تو فوری طور پر غصّہ آ جاتا ہے، حالانکہ اسی رویے کو جنگی منافع خوری کہا جاتا ہے۔ اگر بلوچستان میں جنگ نہ ہو تو راتوں رات نئے سیاسی گروپ یا پارٹیاں پیدا نہیں ہونگے، علاقے کے مافیا جیسے لوگ وزراء نہیں بن پائیں گے، اور دوسرے صوبوں سے بلٹ پروف گاڑیاں بھی نہیں آئیں گی۔
مگر ظاہر ہے کہ بلوچستان میں جنگ جاری رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ یہ سب سہولتیں اور مراعات برقرار رہیں، اسی جنگی نظام سے وابستہ افراد اپنی معاشی اور سیاسی پوزیشن قائم رکھتے ہیں۔
درحقیقت، “امن فورسز” کے نام پر بننے والے ان گروہوں کا مقصد بھی یہی ہے: کہ بلوچستان میں تصادم اور انتشار برقرار رہے تاکہ ان کے فائدے جاری رہیں
محترم وزیرِاعلیٰ بلوچستان @PakSarfrazbugti کو چاہیے کہ وہ نوجوان طلبہ کو ہراساں کرنے کے بجائے سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
چلیں مان لیا کہ چاغی گیس اور بجلی پیدا نہیں کرتا لیکن یہ ریکو ڈِک اور سینڈک جیسے منصوبوں کا گھر تو ہے۔
ریکو ڈِک دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر پائے جاتے ہیں اور اس کی کان کنی کی متوقع مدت کم از کم 40 سال ہے۔
اسی طرح سینڈک منصوبہ بھی پاکستان کی تانبے کی برآمدات کا مرکزی ذریعہ ہے۔ صرف سال 2024 میں بلوچستان کی اسی کان سے پاکستان کی تانبے کی برآمدات 800 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو اس منصوبے کی تاریخ کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔
لہٰذا، ایک طالب علم کے سوال کا درست اور شائستہ جواب دینے کے بجائے، وزیرِاعلیٰ کو پہلے یہ سیکھنا چاہیے کہ کسی شہری سے بات کیسے کی جاتی ہے۔
طلبہ کے سوالات کو طنز یا دھمکی سے دبانے کے بجائے انہیں علم اور دلیل سے جواب دینا ہی ایک جمہوری اور تعلیم یافتہ قیادت کا شیوہ ہوتا ہے
آج میرے بھائی میر یوسف قلندرانی کے جبری لاپتہ ہونے کو دو مہینے مکمل ہو گئے ہیں، اور ہمیں آج تک اُن کی کوئی خبر نہیں ملی۔ ان دو مہینوں میں ہم نے بار بار سوال کیے: یوسف کہاں ہیں؟ کیوں اٹھائے گئے؟ کس جرم میں؟ لیکن ہمیں جواب میں صرف خاموشی ملی۔
آج میں ریاست سے سوال کرنے کے بجائے صرف اِتنا کہنا چاہونگی کہ وہ اب کھلے عام اپنے آئین میں یہ قانون شامل کرے کہ ”ریاست کسی بھی شہری کو جبری طور پر غائب کر سکتی ہے، اور اس کے لئے وہ کسی کو جوابدہ نہیں “۔ شاید تب ہم جیسے متاثرہ خاندانوں کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے کہ اس ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے اور ہم اس اذیت ناک سوال سے آزاد ہو جائیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں ، اور انہے کیوں اٹھایا گیا۔
#ReleaseYousafQalandrani
#EndEnforcedDisappearances
السلام علیکم۔
چند روز سے براک نامی چینل شوشل میڈیا پر میرے بارے میں ذاتی زندگی پر جھوٹے، من گھڑت اور توہین آمیز تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں نہ صرف میری ذاتی زندگی اور اہلِ خانہ کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے گئے ہیں بلکہ مجھے غلط طور پر مختلف تنظیموں سے منسلک دکھایا جا رہا ہے۔ میں واضح طور پر اعلان کرتی ہوں کہ میرا کسی بھی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اگر میری خاندان کے کیسی فرد کو کچھ بھی ہوا اسکی زمہ دار بابر یوسفزئی اور اسکے بنائی ہوئی براق چینل والے ہونگے ۔
2:/Tania Bazai محترمہ
کی جانب سے جو الزامات مجھ پر لگائی جوکے خد کو وکیل کہتی ہے اللہ معاف کرے اسکی پیشے کے لحاظ سے اسکی وکالت بھی جھوٹ پر مبنی ہے اور اسکے من گھڑت الزامات جو مجھ پر کہی گئی کے آمریکا میں میرے پاس (گاڑی، ذاتی فلیٹ، بیرونی فنڈنگ وغیرہ) عائد کیے گئے ہیں، وہ سراسر بے بنیاد ہیں اور جھوٹ پر مبنی ہے ۔ میں ان سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ ثبوت پیش کریں؛ ورنہ میں اپنے قانونی حقوق کے تحت مناسب
، بشمول میں عدالتِ عالیہ (Supreme Court) تک رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہوں۔
اور میری کوئٹہ بلوچستان میں ڈگری SBK سے verified ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی بے بنیاد بات قابلِ قبول نہیں۔
میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے پرزور گزارش کرتی ہوں کہ ایسے چینلز اور پلیٹ فارمز جن کی سرگرمیاں عوام میں غلط فہمی اور جھوٹ پھیلاتی ہیں، ان پر فوری نظر ثانی اور مناسب قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ اگر وہ خبریں جو میں اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہوں، وہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں وزراء و سینیٹرز کے ذریعے بھی بیان ہوتی ہیں، تو انہیں تنظیمی وابستگی قرار دینا غیر معقول ہے۔
سچائی اگر پسند نہیں تو بلوچستان میں Journalism کا ڈیپارٹمنٹ ختم ہو۔
Just spotted Pakistan’s Defence Minister Khawaja Asif doing some heavy shopping at Tiffany & Co. in New York. 💎🛍️ Didn’t know national security included luxury retail therapy!
@HamidMirPAK@ManzoorPashteen@jasmeenmanzoor@WajSKhan
It is been over a month since the illegal abduction of #MirYousafQalandrani. We, his family & friends, are deeply concerned. He has always stood against injustice, supported democracy & worked for a better society. We urge everyone to raise their voice for his safe recovery.
Enforced disappearances don’t just take away people, they destroy families. Four of my brothers are gone. Yousaf was the latest, abducted on 17th August. #ReleaseYousafQalandrani#ReleaseQalandraniBrothers
If there are charges, let them be heard in court.
If there is evidence, present it publicly.
But disappearing people into black holes of detention is not justice — it is oppression.
#ReleaseYousafQalandrani
Yousaf was taken in broad daylight, in front of witnesses, by security personnel with the Sindh Police standing by.
If this can happen to someone so publicly, what does that say about the rule of law?
#ReleaseYousafQalandrani
Today marks 24 days since Mir Yousaf Qalandrani was abducted in Karachi.
There has been no word on his condition, his location, or his well-being.
We refuse to stay silent.
We demand answers, accountability, and his immediate release.
#ReleaseYousafQalandrani