کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
گنڈا پور کے بعد سہیل آفریدی بھی اچھا بچہ بننے کی طرف گامزن۔ اب انکی حکومت کو زیادہ خطرہ شائد نہ ہو مگر عوامی دباؤ اور بغیر کسی ڈیل کے خان کی رہائی کا امکان کافی معدوم ہو چکا۔
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
ایک ادارے کا ترجمان پریس کانفرنس کرتا ہے، تمام وزرائے اعلیٰ کے گن گاتا ہے لیکن ایک کیخلاف سازش کرتا ہے، ویڈیوز چلاتا ہے، یہ امتیازی سلوک ہے، ساڑھے 4 کروڑ لوگوں پر ظلم ہے، ان کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ کوئی غلط قدم اٹھائیں، لیکن عمران خان نے پُر امن جدوجہد کا کہا ہے بندوق نہیں اٹھائیں گے، قلم سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی
#FascismUnderAsimLaw
#RegimeChangeInPakistan
ایسے کوئی بےشرم لوگ ہیں کہ عمران خان کی بہن نورین خان کے بھارتی چینل کو دیے انٹرویو میں AI کی مدد سےجعلی لائن جوڑ دی کہ میں مودی جی سےکہوں گی کہ آپریشن سندور 2 کریں تاکہ عمران خان رہا ہوں
لیکن جعلسازوں کے لیے بری خبر یہ کہ عوام اب باشعور ہے اور انکی ہر گھٹیا حرکت ایک سیکنڈ میں بےنقاب ہو جاتی ہے
بڑے میاں صاحب سے پوچھ کر آپ بتا دیجیے گا کیونکہ وہ تو بطور وزیر اعظم اور لیڈر کے یہ کارنامہ کئی بار کر چکے ہیں۔ اور ہاں یہ بھی پوچھ لیجیے گا کہ کیا اسرائیلی صحافیوں کو بھی جاتی عمرہ بلوایا جائے گا؟
میاں صاحب بس کر دیں یہ نفرت اور غداری کی سیاست۔ کل آپ بھی اس میں جلتے رہے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سے کو غلطیوں سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بہت سے لوگ آج علی امین گنڈا پور کے 90 دن پورے ہونے کی طنزاً بات کر رہے ہیں کہ ابھی تو وہ 90 دن بھی پورے نہیں ہوئے اور گنڈاپور صاحب کی چھٹی ہو رہی ہے۔
گذارش یہ ہے کہ 90 دن کا چورن دیا ہی اس لیے گیا تھا کہ عوام 90 دن پر سکون ہو کر بیٹھ جاۓ اور عمران خان کی رہائی کی بات نہ کرے۔
سوشل میڈیا پر اکثریتی عوامی رائے یہی ہے کہ یہ چھٹی بہت پہلے ہو جانی چاہئے تھی۔