اسٹیبلشمنٹ کا ہیرو، باتوں میں پورا نہیں آنے دے گا۔۔ چپڑ چپڑ بولے گا۔غصہ دکھاۓ گا۔ اگلے کو بات نہیں کرنے دے گا۔۔ لیکن مجال ہے کہ ذرہ بھر ندامت دکھا جاۓ۔
The architect who designed PIMS building should be banned for life. The way children’s body were being brought out after breaking a wall shows that Islamabad is not workable with these kind of monstrous buildings. Ayub Khan wasted Pakistan’s money. Let us have a new start.
We welcome China’s principled statement rejecting illegal sanctions against Iran.
The Iran-China comprehensive strategic partnership is rooted in mutual respect, win-win cooperation, and a shared vision for a multipolar world. This relationship needs no one’s permission.
یہاں پر اگر آپ اکاؤنٹیبل نہیں ہو تو اللہ تعالی کی ذات آپ سے ضرور پوچھے گی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کروایا وہاں ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے… علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کی پمز میں گفتگو
پمز اسپتال میں آتشزدگی کا واقعہ ہمارے اوپر کہیں نہ کہیں نحوست کا سایہ ہے، آج کا دن ہمارے لئے ایک جشن کا دن تھا تو اسی دن ہم بد نصیب قوم پر یہ واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہمارے لئے یہ پیغام تو نہیں آرہا کہ انسان بن جاؤ اور اپنی حرکتیں درست کرو۔ آج کے واقعے میں کم از کم 30 فیصد ایسے بچے ہوں گے جو بہت منتوں مرادوں سے مانگے گئے ہوں گے، 1 بچہ ایسا بھی تھا جو 12 سال کے بعد پیدا ہوا۔ ان بچوں کے والدین پر جو گزری ہے ہم اور آپ وہ محسوس نہیں کرسکتے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو
@javeednusrat
Salman Akram Raja could not hold back his emotions over the tragic PIMS incident.
He is truly expressing the pain and anger felt by every conscientious and sensible Pakistani.
🚨🚨🚨سردار بابر منگوال کا تعلق سہنسہ آزاد کشمیر سے ہے یہ اسلام آباد SETTLED ہیں اور ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں۔ مصطفی کمال کے سامنے 47 فارم کا مدعا اُٹھا دیا۔ آپ لوگ ناجائز اسلام آباد پر ناجائز قابض ہیں۔
پمز میں جاں بحق ہونے والے یہ بچے نہ کسی احتجاج میں گئے تھے، نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جلسے میں۔ یہ تو اپنی بات بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ آخر کسی نہ کسی کی غفلت تو ضرور ہے۔
کچھ روز قبل عمران خان کو بھی اسی ہسپتال لایا گیا تھا۔ شاید ان کے لیے بھی کوئی جال بچھایا گیا تھا اور انہیں بھی کسی حادثے کی آڑ میں نقصان پہنچانے چاہتے تھے، واللہ اعلم۔سہیل آفریدی